حدیث نمبر: 1050
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ، ثُمَّ أَتَى الْجُمُعَةَ فَاسْتَمَعَ وَأَنْصَتَ غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَ الْجُمُعَةِ إِلَى الْجُمُعَةِ ، وَزِيَادَةَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ ، وَمَنْ مَسَّ الْحَصَى فَقَدْ لَغَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص اچھی طرح وضو کرے پھر جمعہ کے لیے آئے اور غور سے خطبہ سنے اور خاموش رہے تو اس کے اس جمعہ سے دوسرے جمعہ تک کے اور مزید تین دن کے گناہ ۱؎ بخش دئیے جائیں گے اور جس نے کنکریاں ہٹائیں تو اس نے لغو حرکت کی “ ۔

وضاحت:
۱؎: مراد گناہ صغیرہ ہیں۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / تفرح أبواب الجمعة / حدیث: 1050
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (758)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/الجمعة 8 (857)، سنن الترمذی/الجمعة 5 (498)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 62 (1025)، 81 (1090)، (تحفة الأشراف: 12504)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/424) (صحیح) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 857 | سنن ترمذي: 498 | سنن ابن ماجه: 1025 | سنن ابن ماجه: 1090

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´نماز جمعہ کی فضیلت کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اچھی طرح وضو کرے پھر جمعہ کے لیے آئے اور غور سے خطبہ سنے اور خاموش رہے تو اس کے اس جمعہ سے دوسرے جمعہ تک کے اور مزید تین دن کے گناہ ۱؎ بخش دئیے جائیں گے اور جس نے کنکریاں ہٹائیں تو اس نے لغو حرکت کی۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1050]
1050. اردو حاشیہ:
اچھے وضو سے مراد سنت کے مطابق کامل وضو ہے، جس میں نہ کوئی کمی رکھی گئی ہو نہ پانی کا اسراف ہو۔
➋ اس بخشش میں قرآن کریم کی آیت مبارکہ کی تصدیق ہے کہ: «مَن جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا ۖ وَمَن جَاءَ بِالسَّيِّئَةِ فَلَا يُجْزَىٰ إِلَّا مِثْلَهَا وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ» [الانعام: 160]
جو کوئی نیکی کرے اس کے لئے اس کا دس گنا (اجر) ہے۔
➌ یہ حدیث خطبہ جمعہ خاموشی اور غور سے سننے پر دلالت کرتی ہے اور اسی مسنون انداز کے اختیار کرنے پر اتنے بڑے اجر و ثواب کی بشارت ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1050 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 857 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت ہے، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس شخص نے وضو کیا اور وضو اچھی طرح کیا، پھر جمعے کے لئے آیا، خطبہ پر کان دھرے اور خاموش رہا اس کے اس جمعہ اور اگلے جمعہ کے درمیان کے گناہ معاف کر دیے جائیں گے اورتین دن زائد کے۔ اور جو کنکریوں سے کھیلتا رہا اسے نے لغو اور فضول کام کیا۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:1988]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: ہر نیکی کا ثواب کم از کم دس گنا ہے۔
اس لیے جو انسان بڑے اہتمام کے ساتھ غسل کرکے خطبہ سے پہلے جمعہ کے لیے آتا ہے اورمقدور بھر نفل ونوافل پڑھتا ہے اور خطبہ شروع ہونے پر توجہ کے ساتھ، خاموشی سے خطبہ سنتا ہے۔
تو اس کے دس دن کے صغیرہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں اور باقی اجروثواب الگ ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 857 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 498 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´جمعہ کے دن وضو کرنے کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا: جس نے وضو کیا اور اچھی طرح کیا ۱؎ پھر جمعہ کے لیے آیا ۲؎، امام کے قریب بیٹھا، غور سے خطبہ سنا اور خاموش رہا تو اس کے اس جمعہ سے لے کر دوسرے جمعہ تک کے اور مزید تین دن کے ۳؎ کے گناہ ۴؎ بخش دیئے جائیں گے۔ اور جس نے کنکریاں ہٹائیں تو اس نے لغو کیا۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب الجمعة/حدیث: 498]
اردو حاشہ:
1؎:
اچھی طرح وضو کیا کا مطلب ہے سنت کے مطابق وضو کیا۔

2؎:
اس سے معلوم ہوا کہ گھر سے وضو کر کے مسجد میں آنا زیادہ فضیلت کا باعث ہے۔

3؎:
یعنی دس دن کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں کیونکہ ایک نیکی کا اجر کم سے کم دس گنا ہے۔

4؎:
اس سے صغیرہ گناہ مراد ہیں کیونکہ کبیرہ گناہ بغیر توبہ کے معاف نہیں ہوتے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 498 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 1025 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´نماز میں کنکریاں ہٹانے کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے نماز میں کنکریوں کو چھوا، اس نے فضول کام کیا۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1025]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
نبی اکرم ﷺ کے زمانہ مبارک میں مسجدوں کے فرش پختہ نہیں ہوتے تھے۔
اس لئے وہاں کنکریاں بچھا دی جاتی تھیں تاکہ کپڑوں کو مٹی نہ لگے۔

(2)
کنکریوں کوچھونے سے مراد بلاضرورت چھونا ہے۔
جو ادب کے منافی ہے۔
اسی طرح چٹائی کے تنکوں سے کھیلنا یا نیچے بچھائی ہوئی کسی بھی چیز کی طرف اس طرح متوجہ ہونا کہ نماز سے توجہ ہٹ جائے نامناسب ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1025 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 1090 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´جمعہ کے دن غسل نہ کرنے کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اچھی طرح وضو کیا، پھر جمعہ کے لیے آیا اور امام سے قریب بیٹھ کر خاموشی سے خطبہ سنا، اس کے اس جمعہ سے دوسرے جمعہ تک کے اور مزید تین دن کے گناہ بخش دئیے جائیں گے، اور جس نے کنکریوں کو ہاتھ لگایا اس نے لغو حرکت کی۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1090]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
آداب کا پوری طرح لحاظ رکھتے ہوئے نماز جمعہ کی ادایئگی سے دس دن کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔

(2)
اس قسم کی احادیث سے یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ ایک نیکی کرلینے کے بعد اب مزید کسی نیکی کی ضرورت نہیں، نہ گناہوں سے اجتناب کی ضرورت ہے۔
کیونکہ کوئی شخص نہیں جانتا کہ اس کا نیک عمل کس حد تک قابل قبول ہے۔
لہٰذازیادہ سے زیادہ نیکی کے کام کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1090 سے ماخوذ ہے۔