سنن ابي داود
تفرح أبواب الجمعة— ابواب: جمعہ المبارک کے احکام ومسائل
باب فَضْلِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ وَلَيْلَةِ الْجُمُعَةِ باب: جمعہ کے دن اور رات کی فضیلت کا بیان۔
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَيْرُ يَوْمٍ طَلَعَتْ فِيهِ الشَّمْسُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ ، فِيهِ خُلِقَ آدَمُ ، وَفِيهِ أُهْبِطَ وَفِيهِ تِيبَ عَلَيْهِ ، وَفِيهِ مَاتَ ، وَفِيهِ تَقُومُ السَّاعَةُ ، وَمَا مِنْ دَابَّةٍ إِلَّا وَهِيَ مُسِيخَةٌ يَوْمَ الْجُمُعَةِ مِنْ حِينَ تُصْبِحُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ شَفَقًا مِنَ السَّاعَةِ إِلَّا الْجِنَّ وَالْإِنْسَ ، وَفِيهِ سَاعَةٌ لَا يُصَادِفُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ وَهُوَ يُصَلِّي يَسْأَلُ اللَّهَ حَاجَةً إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهَا " . قَالَ كَعْبٌ : ذَلِكَ فِي كُلِّ سَنَةٍ يَوْمٌ ؟ فَقُلْتُ : بَلْ ، فِي كُلِّ جُمُعَةٍ ، قَالَ : فَقَرَأَ كَعْبٌ التَّوْرَاةَ ، فَقَالَ : صَدَقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : ثُمَّ لَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَامٍ فَحَدَّثْتُهُ بِمَجْلِسِي مَعَ كَعْبٍ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ : قَدْ عَلِمْتُ أَيَّةَ سَاعَةٍ هِيَ ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : فَقُلْتُ لَهُ : فَأَخْبِرْنِي بِهَا ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ : هِيَ آخِرُ سَاعَةٍ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ ، فَقُلْتُ : كَيْفَ هِيَ آخِرُ سَاعَةٍ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ ، وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يُصَادِفُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ وَهُوَ يُصَلِّي " وَتِلْكَ السَّاعَةُ لَا يُصَلِّي فِيهَا ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ : أَلَمْ يَقُلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ جَلَسَ مَجْلِسًا يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ فَهُوَ فِي صَلَاةٍ حَتَّى يُصَلِّيَ " ؟ قَالَ : فَقُلْتُ : بَلَى ، قَالَ : هُوَ ذَاكَ .
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بہتر دن جس میں سورج طلوع ہوا جمعہ کا دن ہے ، اسی دن آدم پیدا کیے گئے ، اسی دن وہ زمین پر اتارے گئے ، اسی دن ان کی توبہ قبول کی گئی ، اسی دن ان کا انتقال ہوا ، اور اسی دن قیامت برپا ہو گی ، انس و جن کے علاوہ سبھی جاندار جمعہ کے دن قیامت برپا ہونے کے ڈر سے صبح سے سورج نکلنے تک کان لگائے رہتے ہیں ، اس میں ایک ساعت ( گھڑی ) ایسی ہے کہ اگر کوئی مسلمان بندہ نماز پڑھتے ہوئے اس گھڑی کو پا لے ، پھر اللہ تعالیٰ سے اپنی کسی ضرورت کا سوال کرے تو اللہ اس کو ( ضرور ) دے گا ۔“ کعب الاحبار نے کہا : یہ ساعت ( گھڑی ) ہر سال میں کسی ایک دن ہوتی ہے تو میں نے کہا : نہیں بلکہ ہر جمعہ میں ہوتی ہے پھر کعب نے تورات پڑھی اور کہا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا ، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : پھر میں عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے ملا ، اور کعب کے ساتھ اپنی اس مجلس کے متعلق انہیں بتایا تو آپ نے کہا : وہ کون سی ساعت ہے ؟ مجھے معلوم ہے ، میں نے ان سے کہا : اسے مجھے بھی بتائیے تو عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا : وہ جمعہ کے دن کی آخری ساعت ( گھڑی ) ہے ، میں نے عرض کیا : وہ جمعہ کے دن کی آخری ساعت ( گھڑی ) کیسے ہو سکتی ہے ؟ جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ : ” کوئی مسلمان بندہ اس وقت کو اس حال میں پائے کہ وہ نماز پڑھ رہا ہو “ ، اور اس وقت میں نماز تو نہیں پڑھی جاتی ہے تو اس پر عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا : کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا : ” جو شخص نماز کے انتظار میں بیٹھا رہے ، وہ حکماً نماز ہی میں رہتا ہے جب تک کہ وہ نماز نہ پڑھ لے “ ، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے کہا : کیوں نہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہ فرمایا ہے ، انہوں نے کہا : تو اس سے مراد یہی ہے ۱؎ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہتر دن جس میں سورج طلوع ہوا جمعہ کا دن ہے، اسی دن آدم پیدا لیے گئے، اسی دن وہ زمین پر اتارے گئے، اسی دن ان کی توبہ قبول کی گئی، اسی دن ان کا انتقال ہوا، اور اسی دن قیامت برپا ہو گی، انس و جن کے علاوہ سبھی جاندار جمعہ کے دن قیامت برپا ہونے کے ڈر سے صبح سے سورج نکلنے تک کان لگائے رہتے ہیں، اس میں ایک ساعت (گھڑی) ایسی ہے کہ اگر کوئی مسلمان بندہ نماز پڑھتے ہوئے اس گھڑی کو پا لے، پھر اللہ تعالیٰ سے اپنی کسی ضرورت کا سوال کرے تو اللہ اس کو (ضرور) دے گا۔“ کعب الاحبار نے کہا: یہ ساعت (گھڑی) ہر سال میں کسی ایک دن ہوتی ہے تو میں نے کہا: نہیں بلکہ ہر جمعہ میں ہوتی ہے پھر کعب نے تورات پڑھی اور کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پھر میں عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے ملا، اور کعب کے ساتھ اپنی اس مجلس کے متعلق انہیں بتایا تو آپ نے کہا: وہ کون سی ساعت ہے؟ مجھے معلوم ہے، میں نے ان سے کہا: اسے مجھے بھی بتائیے تو عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ جمعہ کے دن کی آخری ساعت (گھڑی) ہے، میں نے عرض کیا: وہ جمعہ کے دن کی آخری ساعت (گھڑی) کیسے ہو سکتی ہے؟ جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ: ”کوئی مسلمان بندہ اس وقت کو اس حال میں پائے کہ وہ نماز پڑھ رہا ہو“، اور اس وقت میں نماز تو نہیں پڑھی جاتی ہے تو اس پر عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا: ”جو شخص نماز کے انتظار میں بیٹھا رہے، وہ حکماً نماز ہی میں رہتا ہے جب تک کہ وہ نماز نہ پڑھ لے“، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: کیوں نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہ فرمایا ہے، انہوں نے کہا: تو اس سے مراد یہی ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1046]
➊ اس حدیث سے جمعۃ المبارک کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔ نیز یہ حدیث جمعۃ المبارک کے دن خصوصاًً آخری ساعت میں دعا مانگنے اور اس کی قبولیت پر دلالت کرتی ہے۔
➋ حضرت آدم علیہ السلام کو جنت سے نکالے جانے اور زمین پر اتارے جانے کو روز جمعہ کی فضیلت میں اس لئے شمار کیا گیا ہے کہ اس سے زمین کی آبادی، نبیوں، رسولوں اور صالحین کا ظہور، اللہ کی شریعت پر عمل درآمد اور اس کے تقرب کا حصول عدل و انصاف کا قیام اور فضل و احسان کا ظہور ہوا اسی طرح اس دن حضرت آدم علیہ السلام کی وفات کو اس دن کی فضیلت میں شمار کیا گیا ہے۔ کیونکہ مومن اس دارالامتحان سے نکل کر اپنے اللہ کے حضور پہنچتا ہے۔
➌ حیوانات میں بھی اپنے خالق کی معرفت حتیٰ کہ قیامت کا خوف ودیعت کیا گیا ہے۔
➍ ظہور قیامت کا عمل طلوع شمس سے پہلے ہی شروع ہو جائے گا۔
➎ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی دعائیں قبول فرماتا ہے مگر ضروری ہے کہ داعی نے دعا میں لازمی شرطیں ملحوظ رکھی ہوں۔ نیز قبولیت کی نوعتیں مختلف ہو سکتی ہیں۔
➏ یہ مقبول ساعت پورے دن میں مخفی رکھی گئی ہے تاہم اس حدیث کی روشنی میں دن کی آخری گھڑیوں میں اس کا ہونا زیادہ متوقع ہے۔
➐ کعب احبار کبار تابعین میں سے ہیں جو پہلے یہودی تھے اور «مخضرمين» میں سے ہیں۔ («مخضر» میں ان لوگوں کو کہا جاتا ہے جو عہد رسالت میں مسلمان ہوئے مگر بوجوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ مل سکے) اور حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ جلیل القدرصحابی ہیں۔ اور قبل از اسلام یہود کے سربرآوردہ علماء میں سے تھے۔
➑ شریعت محدیہ مطہرہ علی صاحبھا الصلواۃ والسلام سابقہ کتب منزل من اللہ کی تصدیق کرتی ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” بہترین دن جس میں سورج نکلا جمعہ کا دن ہے، اسی دن آدم علیہ السلام پیدا کیے گئے، اسی دن انہیں جنت میں داخل کیا گیا، اور اسی دن انہیں جنت سے نکالا گیا “ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1374]
➋ ”جمعے کا دن افضل ہے یا عرفے کا دن؟“ علمائے کرام اس کی بابت فرماتے ہیں کہ ہفتے کے دنوں میں سے جمعہ افضل ہے اور سال کے دنوں میں سے عرفے کا دن افضل ہے۔ اس لحاظ سے عرفہ جمعے سے افضل ہے کیونکہ جمعہ بھی تو سال کے دنوں میں شامل ہے، علاوہ ازیں عرفے کا اجتماع جمعے کے اجتماع سے بہت بڑا ہوتا ہے اور مومنین کا اجتماع جتنا بڑا ہو، ثواب اور فضیلت اسی قدر زائد ہوتی ہے، البتہ جمعے کے دن سب اجتماعات جمعہ کو ملایا جائے تو وہ یقیناًً عرفے سے بہت بڑھ جاتے ہیں۔ اس دن میں ہونے والے اہم واقعات، مثلاً: خلق آدم وغیرہ مزید فضیلت کا تقاضا کرتے ہیں، لہٰذا قطعیت سے کوئی ایک بات کہنا مشکل ہے۔ واللہ أعلم۔
”. . . سواریاں استعمال نہ کی جائیں یعنی سفر نہ کیا جائے مگر تین مسجدوں کی طرف: ایک مسجد الحرام کی طرف، دوسری میری مسجد یعنی مسجد نبوی کی طرف، اور تیسری مسجد بیت المقدس کی طرف . . .“ [سنن نسائي/كتاب الجمعة: 1431]
❀ سیدنا بصرہ بن ابوبصرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ”میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس وقت ملا، جب وہ مسجد طور میں نماز پڑھنے کی غرض سے جا رہے تھے۔ میں نے ان سے کہا اگر آپ کے نکلنے سے پہلے ہماری ملاقات ہو جاتی، تو آپ مسجد طور کی طرف نہ جاتے۔ انہوں نے پوچھا: کیوں؟ میں نے بتایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: تین مسجدوں کے علاوہ کسی بھی جگہ کی طرف (تبرک کی نیت سے) رخت سفر نہیں باندھا جا سکتا؛ مسجد حرام، مسجد اقصیٰ اور میری مسجد۔“ [مسند الإمام أحمد: 6؍397، وسنده حسن]
❀ شہر بن حوشب تابعی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: ”میں نے سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنا۔ ان کے پاس کوہ طور پر نماز کے بارے میں ذکر کیا گیا، تو انہوں نے بیان کیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی بھی مسجد کی طرف رخت سفر باندھنا جائز نہیں، سوائے تین مساجد کے، مسجد حرام، مسجد اقصیٰ اور میری یہ مسجد۔“ [مسند الإمام أحمد: 3؍64، وسنده حسن]
↰ ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ سوائے تین مساجد کے کسی بھی مسجد میں خاص ثواب کی نیت سے نماز پڑھنے کے لیے یا کسی بھی جگہ سے تبرک حاصل کرنے کے لیے سفر کرنا جائز نہیں۔ سیدنا بصرہ بن ابوبصرہ، سیدنا ابوسعید خدری اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہم شد رحال والی حدیث کو عموم پر محمول کرتے تھے، جیسا کہ سیدنا ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ سے کوہ طور پر نماز پڑھنے کے بارے میں سوال کیا گیا، تو انہوں نے یہی حدیث پیش کر کے اس سے ممانعت کا فتویٰ دیا۔
شارح صحیح بخاری، حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (773-852ھ) لکھتے ہیں: ”اس سے مراد یہ ہے کہ ان مسجدوں کے علاوہ کسی بھی جگہ کی طرف (بطور تبرک) سفر کرنا منع ہے۔ علامہ طیبی رحمہ اللہ کہتے ہیں: اس حدیث کے الفاظ صریح ممانعت سے بھی زیادہ سخت ہیں، گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے ہیں کہ ان تین جگہوں کے علاوہ کسی بھی جگہ کی زیارت کا قصد کرنا جائز نہیں، کیونکہ یہ خصوصیت انہی جگہوں کو حاصل ہے۔“ [فتح الباري: 64/3، شرح الطيبي: 929/3]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں طور پہاڑی پر آیا تو وہاں مجھے کعب (کعب احبار) رضی اللہ عنہ ملے تو میں اور وہ دونوں ایک دن تک ساتھ رہے، میں ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثیں بیان کرتا تھا، اور وہ مجھ سے تورات کی باتیں بیان کرتے تھے، میں نے ان سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ” بہترین دن جس میں سورج نکلا جمعہ کا دن ہے، اسی میں آدم پیدا کئے گئے، اسی میں (دنیا میں) اتارے گئے، اسی میں ان کی توبہ قبول کی گئی، اسی میں ان کی روح نکالی گئی، اور اسی دن قیامت قائم ہو گی، زمین پر رہنے والی کوئی مخلوق ایسی نہیں ہے جو جمعہ کے دن قیامت کے ڈر سے صبح کو سورج نکلنے تک کان نہ لگائے رہے، سوائے ابن آدم کے، اور اس دن میں ایک گھڑی ایسی ہے کہ کسی مومن کو یہ گھڑی مل جائے اور نماز کی حالت میں ہو اور وہ اللہ سے اس ساعت میں کچھ مانگے تو وہ اسے ضرور دے گا “، کعب نے کہا: یہ ہر سال میں ایک دن ہے، میں نے کہا: نہیں، بلکہ یہ گھڑی ہر جمعہ میں ہوتی ہے، تو کعب نے تورات پڑھ کر دیکھا تو کہنے لگے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا ہے، یہ ہر جمعہ میں ہے۔ پھر میں (وہاں سے) نکلا، تو میری ملاقات بصرہ بن ابی بصرہ غفاری رضی اللہ عنہ سے ہوئی، تو انہوں نے پوچھا: آپ کہاں سے آ رہے ہیں؟ میں نے کہا: طور سے، انہوں نے کہا: کاش کہ میں آپ سے وہاں جانے سے پہلے ملا ہوتا، تو آپ وہاں نہ جاتے، میں نے ان سے کہا: کیوں؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا، آپ فرما رہے تھے: ” سواریاں استعمال نہ کی جائیں یعنی سفر نہ کیا جائے مگر تین مسجدوں کی طرف: ایک مسجد الحرام کی طرف، دوسری میری مسجد یعنی مسجد نبوی کی طرف، اور تیسری مسجد بیت المقدس ۱؎ کی طرف۔ پھر میں عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے ملا تو میں نے کہا: کاش آپ نے مجھے دیکھا ہوتا، میں طور گیا تو میری ملاقات کعب سے ہوئی، پھر میں اور وہ دونوں پورے دن ساتھ رہے، میں ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثیں بیان کرتا تھا، اور وہ مجھ سے تورات کی باتیں بیان کرتے تھے، میں نے ان سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” دنوں میں بہترین دن جمعہ کا دن ہے جس میں سورج نکلا، اسی میں آدم پیدا کئے گئے، اسی میں دنیا میں اتارے گئے، اسی میں ان کی توبہ قبول ہوئی، اسی میں ان کی روح نکالی گئی، اور اسی میں قیامت قائم ہو گی، زمین پر کوئی ایسی مخلوق نہیں ہے جو قیامت کے ڈر سے جمعہ کے دن صبح سے سورج نکلنے تک کان نہ لگائے رہے سوائے ابن آدم کے، اور اس دن میں ایک گھڑی ایسی ہے کہ جس مسلمان کو وہ گھڑی نماز کی حالت میں مل جائے، اور وہ اللہ سے کچھ مانگے تو اللہ تعالیٰ اس کو وہ چیز ضرور دے گا، اس پر کعب نے کہا: ایسا دن ہر سال میں ایک ہے، تو عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا: کعب نے غلط کہا، میں نے کہا: پھر کعب نے (تورات) پڑھی اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا ہے، وہ ہر جمعہ میں ہے، تو عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا: کعب نے سچ کہا، پھر انہوں نے کہا: میں اس گھڑی کو جانتا ہوں، تو میں نے کہا: اے بھائی! مجھے وہ گھڑی بتا دیں، انہوں نے کہا: وہ گھڑی جمعہ کے دن سورج ڈوبنے سے پہلے کی آخری گھڑی ہے، تو میں نے کہا: کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ نہیں سنا کہ آپ نے فرمایا: ” جو مومن اس گھڑی کو پائے اور وہ نماز میں ہو “ جبکہ اس گھڑی میں کوئی نماز نہیں ہے، تو انہوں نے کہا: کیا آپ نے نہیں سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ” جو شخص نماز پڑھے پھر بیٹھ کر دوسری نماز کا انتظار کرتا رہے، تو وہ نماز ہی میں ہوتا ہے “، میں نے کہا: کیوں نہیں سنا ہے؟ اس پر انہوں نے کہا: تو وہ اسی طرح ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1431]
➋ ’’کان لگائے رکھتا ہے“ یعنی توجہ رکھتا ہے اور منتظر رہتا ہے۔ شاید جانوروں کو جمعے کے دن کا علم ہو جاتا ہو گا یا ان میں یہ چیز طبعی ہو گی کہ ہر جمعے کے دن وہ خوف زدہ رہتے ہوں گے اور یہی بات زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے کیونکہ جانوروں کے سب کام طبعاً اور فطرتاً ہوتے ہیں جب کہ انسان فطرت کے خلاف بھی کام کر لیتا ہے۔
➌ ’’ایسی گھڑی ہے“ حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کی مرفوع روایت کے مطابق عصر کے بعد آخری گھڑی ہے۔ بعض روایات کے مطابق وہ گھڑی امام کے منبر پر چڑھنے سے لے کر نماز سے فارغ ہونے تک ہے۔ شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ نے یوں تطبیق دی ہے کہ ساعت یومی تو عصر کے بعد ہی ہے مگر جمعہ میں اجتماع مومنین کی برکت سے خطبہ و نماز کا وقت بھی افضل ہو جاتا ہے، لہٰذا وہ بھی قبولیت کا وقت بن جاتا ہے۔ یہ بھی کہا: جا سکتا ہے کہ کبھی یہ گھڑی ہوتی ہے کبھی وہ۔ اکثر اہل علم نے حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کی روایت کو ترجیح دی ہے۔
➍ ’’سواریوں کو کام میں نہ لایا جائے“ یعنی قربت و ثواب کے حصول کے لیے لمبا سفر نہ کیا جائے یہ سمجھ کر کہ فلاں جگہ مقدس ہے۔ وہاں قرب و ثواب زیادہ ہو گا، سوائے ان تین مساجد کے۔ راویٔ حدیث حضرت بصرہ غفاری رضی اللہ عنہ نے کسی بھی مقدس مقام (خواہ وہ مسجد ہو یا کوئی اور مقام) کی طرف قربت اور ثواب کی نیت سے لمبا سفر کرنا درست نہیں سمجھا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بھی یہی مفہوم درست سمجھا۔ تبھی تو ان کی بات کا انکار نہیں کیا۔ اور یہی مفہوم درست ہے۔ یہ بحث تفصیلاً پیچھے گزر چکی ہے۔ دیکھیے، حدیث: 701۔
➎ بیت المقدس کی مسجد سے مراد بیت المقدس ہی ہے کیونکہ جو جگہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے خاص کی گئی ہے، وہ مسجد ہے۔ اور بیت المقدس بھی اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے بنایا گیا تھا۔
➏ ’’وہ نماز ہی میں ہے“ حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کی یہ تاویل ایک فقیہ صحابی کی تاویل ہے جو معتبر ہے لیکن درج ذیل روایت (1433) میں یہ الفاظ ہیں: «قائم یصلی» ’’یعنی وہ کھڑا نماز پڑھتا ہو۔“ حالانکہ نماز کا انتظار عموماً بیٹھ کر ہوتا ہے۔ تو علماء نے ان کے درمیان یوں تطبیق دی ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں قائم کے معنی حضرت عبداللہ بن سلام کی حدیث کی روشنی میں ’’ثابت“ کے ہیں، یعنی بیٹھ کر انتظار کرنے کے ہیں کیونکہ عموماً نماز کا انتظار بیٹھ کر ہی کیا جاتا ہے۔ یا پھر یہاں قائم کی قید ’’قید و صفی“ ہے، یعنی یہ قید نمازی کی عمومی حالت کے پیش نظر ہے کیونکہ نماز کھڑے ہو کر ہی ادا کی جاتی ہے، لہٰذا مذکورہ الفاظ کی روشنی میں نماز کا انتظار کھڑے ہو کر لازمی قرار نہیں پاتا۔ واللہ أعلم۔ مزید دیکھیے: (التعلیقات السلفیہ (طبع جدید): 333/2، 334)
پھر اللہ تعالیٰ کی رحمت کے محل میں ان کوعارضی طور پر رکھا گیا تاکہ ان کے دل میں اس کی محبت اور اس کے حصول کی لگن پیدا ہو، پھر ان کو نسل انسانی کا سلسلہ شروع کرنے کے لیے دنیا میں بھیجا گیا تاکہ دنیا میں آ کر وہ اور ان کی اولاد اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ دستورزندگی کے مطابق زندگی گزار کر جنت میں دائمی طور پر رہنے کی صلاحیت کا اظہار کر کے اس کے حصول کا استحقاق پیدا کریں اور فرشتوں کے سامنے دنیا میں خلافت کے نظام کے کمالات وخوبیوں کا ظہور ہو جس کی طرف اللہ تعالیٰ نے ﴿إِنِّي أَعْلَمُ مَا لاَ تَعْلَمُونَ﴾ میں ارشاد فرمایا ہے اورآخر کار قیامت برپا کرکے دنیا میں اللہ تعالیٰ کی ہدایات کے مطابق زندگی گزارنے والوں کو انعام واکرام سے نوازاجائے۔
اس نے جمعہ میں پیش آنے والے تمام امور اللہ تعالیٰ کی حکمت وقدرت اورحمت کے ظہور کاباعث ہونے کی بنا پر اس دن کی فضیلت اور برتری کا سبب ہیں۔
آدم علیہ السلام کا جنت سے اخراج بھی درحقیقت جنت میں مستقل اور دائمی رہائش کا پیش خیمہ ہونے کی بنا پر نعمت ہے کیونکہ جنت میں ان کا داخلہ عارضی تھا۔
ان کو پیدا تو خلافت ارضی ہی کے لیے کیا گیا تھا۔
جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً ۖ﴾
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” سب سے بہتر دن جس میں سورج نکلا، جمعہ کا دن ہے، اسی دن آدم کو پیدا کیا گیا، اسی دن انہیں جنت میں داخل کیا گیا، اسی دن انہیں جنت سے نکالا گیا، اور قیامت بھی اسی دن قائم ہو گی “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الجمعة/حدیث: 488]
1؎:
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس دن بڑے بڑے امور سر انجام پائے ہیں کہ جن سے جمعہ کی فضیلت ظاہر ہوتی ہے۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” سب سے بہتر دن جس میں سورج نکلا جمعہ کا دن ہے، اسی دن آدم پیدا کیے گئے، اسی دن وہ جنت میں داخل کیے گئے، اسی دن وہ جنت سے (زمین پر اتارے گئے) اس دن میں ایک گھڑی ایسی ہے کہ جسے مسلم بندہ نماز کی حالت میں پائے اور اللہ سے اس میں کچھ طلب کرے تو اللہ اسے ضرور عطا فرمائے گا، ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں: پھر میں عبداللہ بن سلام سے ملا اور ان سے اس حدیث کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا: میں یہ گھڑی اچھی طرح جانتا ہوں، میں نے کہا: مجھے بھی اس کے بارے می۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الجمعة/حدیث: 491]
1؎:
صحیح مسلم میں ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’یہ گھڑی امام کے منبرپربیٹھنے سے لیکرخطبہ سے فراغت کے درمیان ہے‘‘ یہ دونوں حدیثیں صحیح ہیں، اس لیے بقول امام احمد اور ابن عبدالبر دونوں وقتوں میں دعاء میں کوشش کرنی چاہئے۔
یہ گھڑی کس وقت آتی ہے؟ راجح بات یہ ہے کہ یہ دن کے آخری حصے میں آتی ہے۔ [فتح الباري: 2/ 416-421]