سنن ابي داود
أبواب تفريع استفتاح الصلاة— ابواب: نماز شروع کرنے کے احکام ومسائل
باب مَنْ نَسِيَ أَنْ يَتَشَهَّدَ وَهُوَ جَالِسٌ باب: جو شخص قعدہ میں بیٹھا ہو اور تشہد پڑھنا بھول جائے وہ کیا کرے؟
حدیث نمبر: 1038
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ، وَالرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَشُجَاعُ بْنُ مَخْلَدٍ بِمَعْنَى الإِسْنَادِ ، أَنَّ ابْنَ عَيَّاشٍ حَدَّثَهُمْ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدٍ الْكَلَاعِيِّ ، عَنْ زُهَيْرٍ يَعْنِي ابْنَ سَالِمٍ الْعَنْسِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، قَالَ عَمْرٌو : وَحْدَهُ عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لِكُلِّ سَهْوٍ سَجْدَتَانِ بَعْدَ مَا يُسَلِّمُ " . وَلَمْ يَذْكُرْ عَنْ أَبِيهِ غَيْرُ عَمْرٍو .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ثوبان رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں` آپ نے فرمایا : ” ہر سہو کے لیے سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے ہیں “ ، عمرو کے سوا کسی نے بھی ( اس سند میں ) «عن أبيه» کا لفظ ذکر نہیں کیا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 1219 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´سلام پھیرنے کے بعد سجدہ سہو کے حکم کا بیان۔`
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ” ہر سہو میں سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے ہیں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1219]
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ” ہر سہو میں سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے ہیں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1219]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
ہربھول کا مطلب یہ ہے کہ غلطی خواہ کمی کی ہو یا زیادتی کی۔
اس کا ازالہ سہو کے دو سجدوں سے ہوجاتا ہے۔
(2)
اگر یقین ہوجائے کہ نماز کی رکعتیں کم پڑھی گئی ہیں تو چھوٹی ہوئی رکعت پڑھ کرسجدہ سہو کرنا چاہیے۔
جیسے گزشتہ ابواب میں بیان ہوا۔
(3)
سہو کے سجدے سلام سے پہلے بھی کیے جا سکتے ہیں۔
اور سلام کے بعد بھی زیر مطالعہ حدیث کا مطلب یہ نہیں کہ سلام سے پہلے سجدہ سہو نہیں ہوسکتا بلکہ مطلب یہ ہے کہ ہر سہو میں اسلام کے بعد بھی سجدے کرنا درست ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
ہربھول کا مطلب یہ ہے کہ غلطی خواہ کمی کی ہو یا زیادتی کی۔
اس کا ازالہ سہو کے دو سجدوں سے ہوجاتا ہے۔
(2)
اگر یقین ہوجائے کہ نماز کی رکعتیں کم پڑھی گئی ہیں تو چھوٹی ہوئی رکعت پڑھ کرسجدہ سہو کرنا چاہیے۔
جیسے گزشتہ ابواب میں بیان ہوا۔
(3)
سہو کے سجدے سلام سے پہلے بھی کیے جا سکتے ہیں۔
اور سلام کے بعد بھی زیر مطالعہ حدیث کا مطلب یہ نہیں کہ سلام سے پہلے سجدہ سہو نہیں ہوسکتا بلکہ مطلب یہ ہے کہ ہر سہو میں اسلام کے بعد بھی سجدے کرنا درست ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1219 سے ماخوذ ہے۔