حدیث نمبر: 1035
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، وَبَقِيَّةُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِمَعْنَى إِسْنَادِهِ وَحَدِيثِهِ ، زَادَ " وَكَانَ مِنَّا الْمُتَشَهِّدُ فِي قِيَامِهِ " . قَالَ أَبُو دَاوُد : وَكَذَلِكَ سَجَدَهُمَا ابْنُ الزُّبَيْرِ ، قَامَ مِنْ ثِنْتَيْنِ قَبْلَ التَّسْلِيمِ ، وَهُوَ قَوْلُ الزُّهْرِيِّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´اس طریق سے بھی زہری سے اسی سند سے اسی کے ہم معنی حدیث مروی ہے اس میں اتنا اضافہ ہے کہ` ہم میں سے بعض نے کھڑے کھڑے تشہد پڑھا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسی طرح ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے بھی جب وہ دو رکعتیں پڑھ کر کھڑے ہو گئے تھے ، سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدے کئے اور یہی زہری کا بھی قول ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب تفريع استفتاح الصلاة / حدیث: 1035
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1224) صحيح مسلم (570)
تخریج حدیث « انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 9154) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´دو رکعت پر بغیر تشہد پڑھے اٹھ جائے تو کیا سجدہ سہو کرے؟`
اس طریق سے بھی زہری سے اسی سند سے اسی کے ہم معنی حدیث مروی ہے اس میں اتنا اضافہ ہے کہ ہم میں سے بعض نے کھڑے کھڑے تشہد پڑھا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے بھی جب وہ دو رکعتیں پڑھ کر کھڑے ہو گئے تھے، سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدے کئے اور یہی زہری کا بھی قول ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 1035]
1035۔ اردو حاشیہ:
درمیانی تشہد رہ جانے کی صورت میں اگر دوران نماز میں علم ہو جائے تو افضل یہی ہے کہ سہو کے دو سجدے سلام سے پہلے کیے جائیں ورنہ بعد از سلام کرنے ہوں گے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1035 سے ماخوذ ہے۔