حدیث نمبر: 1033
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُسَافِعٍ ، أَنَّ مُصْعَبَ بْنَ شَيْبَةَ أَخْبَرَهُ ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ شَكَّ فِي صَلَاتِهِ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ بَعْدَ مَا يُسَلِّمُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس شخص کو اپنی نماز میں شک ہو جائے تو وہ سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے کرے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب تفريع استفتاح الصلاة / حدیث: 1033
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, صححه ابن خزيمة (1033 وسنده حسن)
تخریج حدیث « سنن النسائی/السہو 25 (1249، 1450)، (تحفة الأشراف: 5224)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/204، 205، 206) (حسن لغیرہ) » (اس کے راوی مصعب‘‘ اور عتبہ ضعیف ہیں، لیکن دوسری حدیث کی تقویت سے حسن ہے ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود4/190)
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 1249 | سنن نسائي: 1250 | سنن نسائي: 1251 | سنن نسائي: 1252

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´سلام پھیرنے کے بعد سجدہ سہو کے قائلین کی دلیل کا بیان۔`
عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جس شخص کو اپنی نماز میں شک ہو جائے تو وہ سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے کرے۔‏‏‏‏" [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 1033]
1033۔ اردو حاشیہ:
یعنی اپنی اپنی رکعتیں پوری کر کے آخر میں دو سجدے کر لے، اور اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سہو کے سجدے سلام پھیرنے کے بعد بھی کئے جا سکتے ہیں۔ تاہم یہ روایت دیگر محققین کے نزدیک ضعیف ہے۔ دیکھیے: [الموسوعة الحديثيه۔ مسند احمد محقق 276/3]
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1033 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 1252 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´(نماز شک ہونے کی صورت میں) تحری (صحیح بات جاننے کی کوشش) کا بیان۔`
عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جو اپنی نماز میں شک کرے تو وہ دو سجدے کرے "، حجاج کی روایت میں ہے: " سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے کرے "، اور روح کی روایت میں ہے: " بیٹھے بیٹھے (دو سجدے کرے)۔‏‏‏‏" [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1252]
1252۔ اردو حاشیہ: حدیث: 1246 سے 1252 تک روایات مختصر ہیں۔ ان کا صحیح مفہوم سمجھنے کے لیے ان سے اوپر والی تفصیلی روایات سے مدد لی جائے، یعنی شک کی صورت میں صحیح بات جاننے یا "اقل" پر اعتماد کرنے کے بعد نماز مکمل کرے۔ پھر سلام پھیرنے کے بعد سہو کے دو سجدے کرے اور سلام پھیر دے۔ دیکھیے: [صحیح مسلم، المساجد، حدیث: 572] نماز زیادہ پڑھی جانے کی صورت میں صرف دو سجدے کافی ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1252 سے ماخوذ ہے۔