حدیث نمبر: 1015
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَسَدٍ ، أَخْبَرَنَا شَبَابَةُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْصَرَفَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ مِنْ صَلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ ، فَقَالَ لَه رَجُلٌ : أَقُصِرَتِ الصَّلَاةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمْ نَسِيتَ ؟ قَالَ : " كُلَّ ذَلِكَ لَمْ أَفْعَلْ " ، فَقَالَ النَّاسُ : قَدْ فَعَلْتَ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ أُخْرَيَيْنِ ، ثُمَّ انْصَرَفَ وَلَمْ يَسْجُدْ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ " . قَالَ أَبُو دَاوُد : رَوَاهُ دَاوُدُ بْنُ الْحُصَيْنِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ مَوْلَى ابْنِ أَبِي أَحْمَدَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِهَذِهِ الْقِصَّةِ ، قَالَ : " ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ بَعْدَ التَّسْلِيمِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرض نماز کی دو ہی رکعتیں پڑھ کر پلٹ گئے تو ایک شخص نے آپ سے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا نماز کم کر دی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ان میں سے کوئی بات میں نے نہیں کی ہے “ ، تو لوگوں نے کہا : اللہ کے رسول ! آپ نے ایسا کیا ہے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعد والی دونوں رکعتیں پڑھیں ، پھر پلٹے اور سہو کے دونوں سجدے نہیں کئے ۱؎ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے داود بن حصین نے ابوسفیان مولی بن ابی احمد سے ، ابوسفیان نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی قصہ کے ساتھ روایت کیا ہے ، اس میں ہے : پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرنے کے بعد بیٹھ کر دو سجدے کئے ۔

وضاحت:
۱؎: «ثم انصرف ولم يسجد سجدتي السهو» (پھر آپ پلٹے اور سہو کے دونوں سجدے نہیں کئے) کا ٹکڑا ’’شاذ‘‘ ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب تفريع استفتاح الصلاة / حدیث: 1015
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: شاذ السهو , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, أخرجه مسلم (573)
تخریج حدیث « انظر حدیث رقم : (1008) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´سجدہ سہو کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرض نماز کی دو ہی رکعتیں پڑھ کر پلٹ گئے تو ایک شخص نے آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا نماز کم کر دی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "ان میں سے کوئی بات میں نے نہیں کی ہے"، تو لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! آپ نے ایسا کیا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعد والی دونوں رکعتیں پڑھیں، پھر پلٹے اور سہو کے دونوں سجدے نہیں کئے ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے داود بن حصین نے ابوسفیان مولی بن ابی احمد سے، ابوسفیان نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی قصہ کے ساتھ روایت کیا ہے، اس میں ہے: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرنے کے بعد بیٹھ کر دو سجدے کئے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 1015]
1015۔ اردو حاشیہ:
اس میں «ولم يسجد سجدتي السهو» "سہو کے دو سجدے نہیں کئے" کے الفاظ شاذ ہیں۔ (شیخ البانی)
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1015 سے ماخوذ ہے۔