حدیث نمبر: 1011
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ نَصْرِ بْنِ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، وَهِشَامٍ ، وَيَحْيَى بْنِ عَتِيقٍ ، وَابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قِصَّةِ ذِي الْيَدَيْنِ ، " أَنَّهُ كَبَّرَ وَسَجَدَ ، وَقَالَ هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ حَسَّانَ كَبَّرَ ، ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ " . قَالَ أَبُو دَاوُد : رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ أَيْضًا حَبِيبُ بْنُ الشَّهِيدِ ،وَحُمَيْدٌ ، وَيُونُسُ ، وَعَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، لَمْ يَذْكُرْ أَحَدٌ مِنْهُمْ مَا ذَكَرَ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، " أَنَّهُ كَبَّرَ ، ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ " . وَرَوَى حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ هَذَا الْحَدِيثَ ، عَنْ هِشَامٍ ، لَمْ يَذْكُرَا عَنْهُ هَذَا الَّذِي ذَكَرَهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ " أَنَّهُ كَبَّرَ ، ثُمَّ كَبَّرَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذوالیدین کے قصہ میں روایت کی ہے کہ` آپ نے «الله أكبر» کہا اور سجدہ کیا ، ہشام بن حسان کی روایت میں ہے کہ آپ نے «الله أكبر» کہا پھر «الله أكبر» کہا اور سجدہ کیا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اس حدیث کو حبیب بن شہید ، حمید ، یونس اور عاصم احول نے بھی محمد بن سیرین کے واسطہ سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے ، ان میں سے کسی نے بھی اس چیز کا ذکر نہیں کیا ہے جس کا حماد بن زید نے بواسطہ ہشام کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «الله أكبر» کہا ، پھر «الله أكبر» کہا اور سجدہ کیا ، حماد بن سلمہ اور ابوبکر بن عیاش نے بھی اس حدیث کو بواسطہ ہشام روایت کیا ہے مگر ان دونوں نے بھی ان کے واسطہ سے اس کا ذکر نہیں کیا ہے جس کا حماد بن زید نے ذکر کیا ہے کہ آپ نے «الله أكبر» کہا پھر «الله أكبر» کہا ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب تفريع استفتاح الصلاة / حدیث: 1011
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: شاذ , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (482)
تخریج حدیث « انظر حدیث رقم : (1008)، (تحفة الأشراف: 14415،14469) (شاذ) » (ہشام بن حسان نے متعدد لوگوں کے برخلاف روایت کی ہے)

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´سجدہ سہو کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذوالیدین کے قصہ میں روایت کی ہے کہ آپ نے «الله أكبر» کہا اور سجدہ کیا، ہشام بن حسان کی روایت میں ہے کہ آپ نے «الله أكبر» کہا پھر «الله أكبر» کہا اور سجدہ کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو حبیب بن شہید، حمید، یونس اور عاصم احول نے بھی محمد بن سیرین کے واسطہ سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، ان میں سے کسی نے بھی اس چیز کا ذکر نہیں کیا ہے جس کا حماد بن زید نے بواسطہ ہشام کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «الله أكبر» کہا، پھر «الله أكبر» کہا اور سجدہ کیا، حماد بن سلمہ اور ابوبکر بن عیاش نے بھی اس حدیث کو بواسطہ ہشام روایت کیا ہے مگر ان دونوں نے بھی ان کے واسطہ سے اس کا ذکر نہیں کیا ہے جس کا حماد بن زید نے ذکر کیا ہے کہ آپ نے «الله أكبر» کہا پھر «الله أكبر» کہا۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 1011]
1011۔ اردو حاشیہ:
اگر سلام کے بعد سجدہ سہو کرے تو سجدے میں جانے کے لئے ایک ہی تکبیر کافی ہے۔ پہلے تکبیر تحریمہ کی ضرورت نہیں ہے۔ اس روایت میں پہلی تکبیر (تحریمہ) کا ذکر شاذ ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1011 سے ماخوذ ہے۔