حدیث نمبر: 1009
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ بِإِسْنَادِهِ ، وَحَدِيثُ حَمَّادٍ أَتَمُّ ، قَالَ : " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لَمْ يَقُلْ : بِنَا ، وَلَمْ يَقُلْ : فَأَوْمَئُوا ، قَالَ : فَقَالَ النَّاسُ : نَعَمْ ، قَالَ : ثُمَّ رَفَعَ وَلَمْ يَقُلْ : وَكَبَّرَ ، ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ ، ثُمَّ رَفَعَ وَتَمَّ حَدِيثُهُ " ، لَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ ، وَلَمْ يَذْكُرْ فَأَوْمَئُوا إِلَّا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ . قَالَ أَبُو دَاوُد : وَكُلُّ مَنْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ لَمْ يَقُلْ : فَكَبَّرَ وَلَا ذَكَرَ رَجَعَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´اس طریق سے بھی محمد بن سیرین سے اسی سند سے یہی حدیث مروی ہے` اور حماد کی روایت زیادہ کامل ہے مالک نے «صلى رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم» کہا ہے «صلى بنا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم» نہیں کہا ہے اور نہ ہی انہوں نے «فأومئوا» کہا ہے ( جیسا کہ حماد نے کہا ہے بلکہ اس کی جگہ ) انہوں نے «فقال الناس نعم» کہا ہے ، اور مالک نے «ثم رفع» کہا ہے ، «وكبر» نہیں کہا ہے جیسا کہ حماد نے کہا ہے ، یعنی مالک نے «رفع وكبر» کہنے کے بجائے صرف «رفع» پر اکتفا کیا ہے اور مالک نے «ثم كبر وسجد مثل سجوده أو أطول ثم رفع» کہا ہے جیسا کہ حماد نے کہا ہے اور مالک کی حدیث یہاں پوری ہو گئی ہے اس کے بعد جو کچھ ہے مالک نے اس کا ذکر نہیں کیا ہے اور نہ ہی لوگوں کے اشارے کا انہوں نے ذکر کیا ہے صرف حماد بن زید نے اس کا ذکر کیا ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ حدیث جتنے لوگوں نے بھی روایت کی ہے کسی نے بھی لفظ «فكبر‏.‏» نہیں کہا ہے اور نہ ہی «رجع.‏» کا ذکر کیا ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب تفريع استفتاح الصلاة / حدیث: 1009
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (714)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/الأذان 69 (714)، السہو 4(1228)، أخبار الآحاد 1(7250)، سنن الترمذی/الصلاة 176 (399)، سنن النسائی/السہو 22 (1225)، (تحفة الأشراف: 14449)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصلاة 15 (60)، مسند احمد (2/235، 423) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´سجدہ سہو کا بیان۔`
اس طریق سے بھی محمد بن سیرین سے اسی سند سے یہی حدیث مروی ہے اور حماد کی روایت زیادہ کامل ہے مالک نے «صلى رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم» کہا ہے «صلى بنا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم» نہیں کہا ہے اور نہ ہی انہوں نے «فأومئوا» کہا ہے (جیسا کہ حماد نے کہا ہے بلکہ اس کی جگہ) انہوں نے «فقال الناس نعم» کہا ہے، اور مالک نے «ثم رفع» کہا ہے، «وكبر» نہیں کہا ہے جیسا کہ حماد نے کہا ہے، یعنی مالک نے «رفع وكبر» کہنے کے بجائے صرف «رفع» پر اکتفا کیا ہے اور مالک نے «ثم كبر وسجد مثل سجوده أو أطول ثم رفع» کہا ہے جیسا کہ حماد نے کہا ہے اور مالک کی حدیث یہاں پوری ہو گئی ہے اس کے بعد جو کچھ ہے مالک نے اس کا ذکر نہیں کیا ہے اور نہ ہی لوگوں کے اشارے کا انہوں نے ذکر کیا ہے صرف حماد بن زید نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث جتنے لوگوں نے بھی روایت کی ہے کسی نے بھی لفظ «فكبر‏.‏» نہیں کہا ہے اور نہ ہی «رجع.‏» کا ذکر کیا ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 1009]
1009۔ اردو حاشیہ:
اس میں راویوں کے اختلاف الفاظ کا ذکر ہے اور ان میں جمع یوں ہے کہ کچھ نے زبان سے جواب دیا اور کچھ نے اشارے سے اور سجدہ سہو میں جانے اور سر اٹھانے کے لئے تکبیر کہنا صحیح ثابت ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1009 سے ماخوذ ہے۔