سنن ابي داود
أبواب تفريع استفتاح الصلاة— ابواب: نماز شروع کرنے کے احکام ومسائل
باب فِي الرَّجُلِ يَتَطَوَّعُ فِي مَكَانِهِ الَّذِي صَلَّى فِيهِ الْمَكْتُوبَةَ باب: جس جگہ پر فرض نماز پڑھی ہو وہاں نفلی نماز پڑھنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ ، حَدَّثَنَا أَشْعَثُ بْنُ شُعْبَةَ ، عَنْ الْمِنْهَالِ بْنِ خَلِيفَةَ ، عَنْ الْأَزْرَقِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ : صَلَّى بِنَا إِمَامٌ لَنَا يُكْنَى أَبَا رِمْثَةَ ، فَقَالَ : صَلَّيْتُ هَذِهِ الصَّلَاةَ أَوْ مِثْلَ هَذِهِ الصَّلَاةِ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ ، وَعُمَرُ يَقُومَانِ فِي الصَّفِّ الْمُقَدَّمِ عَنْ يَمِينِهِ ، وَكَانَ رَجُلٌ قَدْ شَهِدَ التَّكْبِيرَةَ الْأُولَى مِنَ الصَّلَاةِ ، فَصَلَّى نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ سَلَّمَ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ حَتَّى رَأَيْنَا بَيَاضَ خَدَّيْهِ ، ثُمَّ انْفَتَلَ كَانْفِتَالِ أَبِي رِمْثَةَ يَعْنِي نَفْسَهُ ، فَقَامَ الرَّجُلُ الَّذِي أَدْرَكَ مَعَهُ التَّكْبِيرَةَ الْأُولَى مِنَ الصَّلَاةِ يَشْفَعُ ، فَوَثَبَ إِلَيْهِ عُمَرُ ، فَأَخَذَ بِمَنْكِبِهِ فَهَزَّهُ ، ثُمَّ قَالَ : اجْلِسْ ، فَإِنَّهُ لَمْ يَهْلِكْ أَهْلُ الْكِتَابِ ، إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ بَيْنَ صَلَوَاتِهِمْ فَصْلٌ ، فَرَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَصَرَهُ ، فَقَالَ : " أَصَابَ اللَّهُ بِكَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ " . قَالَ أَبُو دَاوُد : وَقَدْ قِيلَ : أَبُو أُمَيَّةَ مَكَانَ أَبِي رِمْثَةَ .
´ازرق بن قیس کہتے ہیں کہ` ہمیں ہمارے ایک امام نے جن کی کنیت ابورمثہ ہے نماز پڑھائی ، نماز سے فارغ ہونے کے بعد انہوں نے کہا : یہی نماز یا ایسی ہی نماز میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھی ہے ، وہ کہتے ہیں : اور ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما اگلی صف میں آپ کے دائیں طرف کھڑے ہوتے تھے ، اور ایک اور شخص بھی تھا جو تکبیر اولیٰ میں موجود تھا ، اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھا چکے تو آپ نے دائیں اور بائیں طرف سلام پھیرا ، یہاں تک کہ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گالوں کی سفیدی دیکھی ، پھر آپ پلٹے ایسے ہی جیسے ابورمثہ یعنی وہ خود پلٹے ، پھر وہ شخص جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تکبیر اولیٰ پائی تھی اٹھ کر دو رکعت پڑھنے لگا تو اٹھ کر عمر رضی اللہ عنہ تیزی کے ساتھ اس کی طرف بڑھے اور اس کا کندھا پکڑ کر زور سے جھنجوڑ کر کہا بیٹھ جاؤ ، کیونکہ اہل کتاب یعنی یہود و نصاریٰ کو صرف اسی چیز نے ہلاک کیا ہے کہ ان کی نمازوں میں فصل نہیں ہوتا تھا ، اتنے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نظر اٹھائی ( اور یہ صورت حال دیکھی ) تو فرمایا : ” خطاب کے بیٹے ! اللہ تعالیٰ نے تمہیں ٹھیک اور درست بات کہنے کی توفیق دی “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ازرق بن قیس کہتے ہیں کہ ہمیں ہمارے ایک امام نے جن کی کنیت ابورمثہ ہے نماز پڑھائی، نماز سے فارغ ہونے کے بعد انہوں نے کہا: یہی نماز یا ایسی ہی نماز میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھی ہے، وہ کہتے ہیں: اور ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما اگلی صف میں آپ کے دائیں طرف کھڑے ہوتے تھے، اور ایک اور شخص بھی تھا جو تکبیر اولیٰ میں موجود تھا، اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھا چکے تو آپ نے دائیں اور بائیں طرف سلام پھیرا، یہاں تک کہ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گالوں کی سفیدی دیکھی، پھر آپ پلٹے ایسے ہی جیسے ابورمثہ یعنی وہ خود پلٹے، پھر وہ شخص جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تکبیر اولیٰ پائی تھی اٹھ کر دو رکعت پڑھنے لگا تو اٹھ کر عمر رضی اللہ عنہ تیزی کے ساتھ اس کی طرف بڑھے اور اس کا کندھا پکڑ کر زور سے جھنجوڑ کر کہا بیٹھ جاؤ، کیونکہ اہل کتاب یعنی یہود و نصاریٰ کو صرف اسی چیز نے ہلاک کیا ہے کہ ان کی نمازوں میں فصل نہیں ہوتا تھا، اتنے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نظر اٹھائی (اور یہ صورت حال دیکھی) تو فرمایا: ”خطاب کے بیٹے! اللہ تعالیٰ نے تمہیں ٹھیک اور درست بات کہنے کی توفیق دی۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 1007]
اس روایت کی سند میں اشعث بن شعبہ اور منہال بن خلیفہ پر کلام ہے۔ اس لئے ضعیف ہے۔ مگر صحیح مسلم کی درج ذیل حدیث سے یہی مسئلہ ثابت ہوتا ہے۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب تم جمعہ پڑھو تو اسے دوسری نماز کے ساتھ مت ملاؤ۔ حتیٰ کہ کوئی بات کرو یا وہاں سے نکل جاؤ۔ بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ حکم دیا ہے کہ ایک نماز کو دوسری کے ساتھ نہ ملایا کریں، حتیٰ کہ کوئی بات کر لیں یا وہاں سے ہٹ جائیں۔ [صحیح مسلم۔ حدیث: 883]