حدیث نمبر: 10
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي زَيْدٍ ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ أَبِي مَعْقِلٍ الْأَسَدِيِّ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَتَيْنِ بِبَوْلٍ أَوْ غَائِطٍ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : وَأَبُو زَيْدٍ هُوَ مَوْلَى بَنِي ثَعْلَبَةَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´معقل بن ابی معقل اسدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب اور پاخانہ کے وقت دونوں قبلوں ( بیت اللہ اور بیت المقدس ) کی طرف منہ کرنے سے منع فرمایا ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ابوزید بنی ثعلبہ کے غلام ہیں ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الطهارة / حدیث: 10
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: منكر , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ابن ماجه (319), قال البوصيري في زوائد ابن ماجه: ’’أبو زيد مجهول الحال فالحديث ضعيف به‘‘, وضعفه الحافظ في فتح الباري (1/ 246), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 13
تخریج حدیث « سنن ابن ماجہ/الطھارة 17 (319)، (تحفة الأشراف: 11463)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/210) (منکر) » (سند میں واقع راوی ”ابوزید“ مجہول ہے ، نیز اس نے ”قبلتین“ کہہ کر ثقات کی مخالفت کی ہے)
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 319

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´قضائے حاجت کے وقت قبلہ کی طرف منہ کرنا مکروہ ہے`
«. . . نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم ان نستقبل القبلتين ببول او غائط . . .»
. . . رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب اور پاخانہ کے وقت دونوں قبلوں (بیت اللہ اور بیت المقدس) کی طرف منہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ: 10]
فوائد و مسائل
➊ یہ روایت ضعیف ہے، شیخ البانی رحمہ اللہ نے بھی اسے ’’منکر‘‘ کہا ہے تاہم جن کے نزدیک صحیح ہے انہوں نے اس میں توجیہ کی ہے مثلاً علامہ خطابی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس حکم کی جو توجیہات ہو سکتی ہیں۔ اول یہ کہ جو شخص مدینہ منورہ میں بیت اللہ یعنی خانہ کعبہ کی طرف منہ کرے گا وہ لازماً بیت المقدس کی طرف پشت کرے گا۔ دوسری توجیہ یہ ہو سکتی ہے کہ چونکہ بیت المقدس بھی مسلمانوں کا قبلہ رہا ہے اس لیے اس کا احترام بھی ضروری ہے اور یہ نہی تنزیہی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 10 سے ماخوذ ہے۔