موزوں اور جرابوں پر مسح سنت ہے

تحریر : ابو ضیاد محمود احمد غضنفر حفظ اللہ عن صفوان بن عسال، قال: ((كان رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم يأمرنا إذا كنا سفرا أن لا تنزع خفافنا ثلاثة أيام وليا ليهن إلا من جنابة ولكن من غائط وبول ونوم)) [صححه الترمذي بعد تخريحه] صفوان بن عسال سے روایت ہے کہتے رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم جب ہم مسافر ہوتے تو ہمیں یہ حکم دیا کرتے تھے کہ اپنے موزے تین دن اور تین راتیں نہ اتاریں سوائے جنابت کے لیکن بول و براز اور نیند سے اتارنے کا حکم نہ تھا ۔ ترمذی نے صحیح قرار دیا ہے ۔ تحقیق و تخریج : حدیث حسن ہے ۔ مسند امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ: 239/4 240 نسائی: 1/ 84 ترمذی: 96 ترمذی نے کہا: یہ: حدیث حسن صحیح ہے ۔ ابن ماجه: 478 ابن خزیمه: 196 ابن حبان: 179 ،…

Continue Readingموزوں اور جرابوں پر مسح سنت ہے

موزوں کا تھوڑا سا پھٹا ہونا قابل معافی ہے

فتویٰ : سابق مفتی اعظم سعودی عرب شیخ ابن باز رحمہ اللہ سوال : ایک شخص نے نماز کے بعد جلد یا بدیر دیکھا کہ اس کے ایک پاؤں کی جراب درمیانہ سائز میں پھٹی ہوئی ہے، وہ نماز دوبارہ پڑھے گا یا نہیں؟ جواب : جب جراب یا موزہ تھوڑا سا پھٹا ہو یا اس میں عرفاً معمولی سوراخ ہو تو یہ قابل معافی ہے اور اس میں نماز پڑھنا درست ہو گا۔ ویسے اہل ایمان خواتین و حضرات کے لئے احتیاط کا تقاضا یہی ہے کہ موزے اور جرابیں پھٹے ہوئے نہ ہوں تا کہ دین میں احتیاطی نکتہ نظر ملحوظ رہے اور اہل علم کے اختلاف سے بچا جا سکے۔ جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: دع ما يريبك إلى ما لا يريبك [صحيح البخاري، سنن ترمذي، سنن النسائي و سنن الدارمي] ”شک سے بچیں…

Continue Readingموزوں کا تھوڑا سا پھٹا ہونا قابل معافی ہے

اوڑھنی اور باریک جرابوں میں نماز

فتویٰ : سابق مفتی اعظم سعودی عرب شیخ ابن باز رحمہ اللہ سوال : ایسی باریک اوڑھنی میں کہ جس سے عورت کا لباس نظر آ رہا ہو نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے؟ نیز باریک ریشمی جرابوں پر مسح کرنے کا حکم کیا ہے؟ جواب : باریک اوڑھنی، باریک لباس اور باریک جرابوں میں عورت کے لئے نماز ادا کرنا جائز نہیں ہے، ایسے لباس میں نماز نہیں ہو گی۔ عورت کو ایسے باپردہ لباس میں نماز پڑھنی چاہئیے جس سے اس کا جسم اور دوسرے (یعنی نیچے پہنے ہوئے) کپڑے کا رنگ نظر نہ آئے، کیونکہ عورت تمام کی تمام پردہ ہے، لہذا اس پر دوران نماز چہرے اور ہاتھوں کے علاوہ تمام جسم کا ڈھانپنا ضروری ہے، اور اگر وہ ہاتھ بھی چھپا سکے تو زیادہ بہتر ہے۔ جہاں تک پاؤں کا تعلق ہے تو انہیں دوران نماز موٹی جرابوں…

Continue Readingاوڑھنی اور باریک جرابوں میں نماز

دوران نماز عورت سر کا مسح کیسے کرے؟

فتویٰ : سابق مفتی اعظم سعودی عرب شیخ ابن باز رحمہ اللہ سوال : دوران وضو عورت کے سر کا مسح کرنے کی کیفیت کیا ہے؟ کیا عورت کسی مجبوری کے تحت سر کے ایک حصے کا مسح کر سکتی ہے؟ جواب : وضو کے لئے سر کے مسح کا حکم عورت کے لئے بھی وہی ہے جو مرد کے لئے ہے۔ مسح کانوں سمیت سر کے آخری حصے تک کرنا ضروری ہے۔ عورت کے بالوں کے آخری حصے تک مسح کرنا ضروری نہیں ہے۔ احادیث صحیحہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سر کے اگلے حصے سے لے کر اس کے آخر (گدی) تک کا مسح فرماتے تھے۔ اصل یہ ہے کہ شرعی احکام میں مرد و زن برابر ہیں۔ سوائے ان حکام کے جنہیں کسی شرعی دلیل کی رو سے اختصاص حاصل…

Continue Readingدوران نماز عورت سر کا مسح کیسے کرے؟

باریک جرابوں پر مسح

فتویٰ : سابق مفتی اعظم سعودی عرب شیخ ابن باز رحمہ اللہ سوال : باریک جرابوں پر مسح کرنے کا حکم کیا ہے؟ جواب : جرابوں پر مسح کرنے کی شرط یہ ہے کہ وہ موٹی اور ڈھانپنے والی ہوں۔ باریک جرابوں پر مسح کرنا ناجائز ہے۔ کیونکہ باریک جرابوں میں ملبوس پاؤں ننگے کے حکم میں ہیں۔ والله الموفق  

Continue Readingباریک جرابوں پر مسح

پگڑ ی پر مسح سنت ہے ! 

تحریر: غلام مصطفےٰ ظہیر امن پوری پیشانی پر ہاتھ پھیرے بغیر صرف پگڑی پر مسح کرنا سنت رسول اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ثابت ہے ۔ بعض لوگ اس سے انکاری ہیں اور ان کا دعویٰ ہے کہ پگڑی پر مسح نہیں ہو سکتا۔ آئیے دونوں طرف کے دلائل کا بالاستیعاب جائزہ لیتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ اہل حق کون ہے؟ پہلے ہم اثباتی دلائل اور ان پر وارد ہونے والے اعتراضات کا تجزیہ کرتے ہیں: دلیل نمبر ۱: عن عمرو بن أمیہ قال : رأیت النبی صلی اللہ علیہ وسلم یمسح علی عمامتہ و خفیہ. "سیدنا عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ۔ آپ نے اپنی پگڑی اور دونوں موزوں پر مسح فرمایا۔ "(صحیح بخاری ح ۲۰۵) امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (۲۲۳۔ ۳۱۱…

Continue Readingپگڑ ی پر مسح سنت ہے ! 

گردن کا مسح بدعت ہے

تحریر: حافظ ابو یحییٰ نور پوری “ گردن (گدی) پر مسح کرنا مستحب ہے۔ ” [حديث اور اهلحديث: ۱۸۲] قارئین کرام ! آلِ تقلید کی چالاکی دیکھیں کہ جب انہوں نے گردن کے مسح کی کوئی حدیث نہ پائی تو اکابر پرستی کا حق ادا کرتے ہوئے اپنی خلافِ سنت فقہ کو بچانے کے لئے گردن کا معنیٰ“ گدی ”کرنا شروع کردیا، حالانکہ ہمارا محلِ نزاع گردن کے دونوں طرف الٹے ہاتھ پھیرتے ہوئے مسح کرنا ہے ، نہ کہ سر کا مسح کرتے ہوئے گدی کو چھونا، تقلید پرست آج بھی گردن کے پہلو پر الٹے ہاتھوں سے مسح کرتے ہیں، انہیں چاہیے کہ اس عمل سے فرار اختیار نہ کریں بلکہ اسی پر ثابت قدم رہتے ہوئے اس پر کوئی ایک ”صحیح“ حدیث پیش کردیں، قیامت تک مہلت ہے ۔ فان لم تفعلوا ولن تفعلوا فاتقوا النار التى وقودها الناس و…

Continue Readingگردن کا مسح بدعت ہے

آثارِ صحابہ اور مقلدین

تحریر:حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ الحمد للہ رب العالمین والصلوٰۃ و السلام علیٰ رسولہ الأمین، أما بعد: اس تحقیقی مضمون میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے وہ صحیح و ثابت آثار پیشِ خدمت ہیں جن کی آلِ تقلید (تقلیدی حضرات) مخالف کرتے ہیں:   ۱: مسئلہ تقلید     سیدنا معاذ بن جبل ؓ نے فرمایا: ‘‘ أما العالم فإن اھتدی فلا تقلدوۃ دینکم’’ اگر عالم ہدایت پر بھی ہو تو اپنے دین میں  اس کی تقلید نہ کرو۔(حلیۃ الاولیاء ۵؍۹۷ و سندہ حسن وقال ابو نعیم الاصبہانی: وھو الصحیح’’) سیدنا عبداللہ بن مسعود ؓ نے فرمایا: ‘‘ لا تقلدو دینکم الرجال’’ تم اپنے دین میں لوگوں کی تقلید نہ کرو۔ (السنن الکبریٰ للبیہقی ۲؍۱۰ و سندہ صحیح) ان آثار کے مقابلے میں آلِ تقلید کہتے ہیں کہ ‘‘ مسلمانوں پر (ائمہ اربعہ میں سے ایک امام کی ) تقلیدِ…

Continue Readingآثارِ صحابہ اور مقلدین

وضو میں گردن اور جرابوں پر مسح

تصنیف : عمرو بن عبدالمنعم (الشامی)                                                  ترجمہ و تحقیق: حافظ زبیر علی زئی  وضو کی  بدعات میں سےایک بدعت(سر اور کانوں کے مسح کے بعد ) گردن کا (الٹے ہاتھوں سے ) مسح کرنا (بھی) ہے۔بہت سے لوگ اس کام پر بہت زیادہ توجہ دیتے ہیں اور اسے فرض یا سنت مؤکدہ سمجھتے ہیں، حالانکہ یہ صرف ایک بری اور خود ساختہ بدعت ہے۔  شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ فرماتے ہیں:          "نبی کریم ﷺ سے، وضو میں گردن کا مسح ثابت نہیں ہے اور نہ اس بارے میں کوئی صحیح حدیث مروی ہے، بلکہ وضو کی صحیح احادیث میں گردن کے مسح کا کوئی ذکر نہیں ہے  ۔ اسی لئے اسے جمہور علماء مثلاً (امام ) مالک ، شافعی اور…

Continue Readingوضو میں گردن اور جرابوں پر مسح

کانوں کا مسح کرنا مسنون عمل ہے

"عن عبداللہ بن عباس- وذکر الحدیث ، وفیہ- ثم قبض قبضۃ من الماء ثم نفض یدہ ثم مسح بھا رأسہ وأذنیہ.....إلخ" عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے....: پھر آپ نے ایک چلو پانی لے کر اسے بہایا (پھر) سر اور کانوں کا مسح کیا....الخ، ابن عباسؓ نے اسے نبی ﷺ سے (مرفوعاً) بیان کیا ہے۔ (سنن ابی داؤد: ۲۰/۱ المجتبائیہ :ح ۱۳۷ حدیث) اس کی سند حسن ہے ، اسے امام حاکم نے بھی مستدرک (۱۴۷/۱) میں روایت کیا ہے علاوہ ازیں کتب احادیث میں اس کے متعدد  شواہد ہیں۔ فوائد: ۱:        اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سر کے ساتھ کانوں کا مسح بھی کرنا چاہیے۔ ۲:        صحیح و حسن احادیث میں سر اور کانوں کے مسح کا ذکر ہے لیکن گردن کے مسح کا ذکر نہیں۔ ۳:       التلخیص الحبیر (ج۱ ص ۹۳ ح ۹۸) میں ابو الحسین ابن فارس کے جزء…

Continue Readingکانوں کا مسح کرنا مسنون عمل ہے

وضو میں جرابوں پر مسح

❀ عن ثوبان قال : بعث رسول الله صلى الله عليه وسلم سرية۔۔۔ أمرهم أن يمسحوا على العصائب و التساخين ’’ ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجاہدین کی ایک جماعت بھیجی . . . انہیں حکم دیا کہ پگڑیوں اور پاؤں کو گرم کرنے والی اشیاء (جرابوں اور موزوں) پر مسح کریں۔ “ [سنن ابي داود : ج1ص21ح146] ? اس روایت کی سند صحیح ہے۔ اسے امام حاکم رحمہ اللہ اور امام ذہبی رحمہ اللہ دونوں نے صحیح کہا ہے۔ [المستدرك و التلخيص ج 1ص169ح602] اس پر امام احمد رحمہ اللہ کی جرح کے جواب کے لئے نصب الرایہ [ج1ص165] وغیرہ دیکھیں۔ امام ابوداود فرماتے ہیں کہ جرابوں پر درج ذیل صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے مسح کیا ہے۔ ”علی بن ابی طالب، ابومسعود، (ابن مسعود)، براء بن عازب، انس بن مالک،…

Continue Readingوضو میں جرابوں پر مسح

End of content

No more pages to load