صدفہ فطر کے احکام قرآن اور صحیح احادیث کی روشنی میں

 تحریر: قاری اسامہ بن عبد السلام حفظہ اللہ صدفہ فطر سے مراد ➊ صدفہ فطر سے مراد ماہ رمضان کے اختتام پر نماز عید سے پہلے فطرانہ ادا کرنا ہے ۔ صحيح البخاري: كِتَابُ الزَّكَاةِ 1504. حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَضَ زَكَاةَ الْفِطْرِ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ عَلَى كُلِّ حُرٍّ أَوْ عَبْدٍ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى مِنْ الْمُسْلِمِينَ جیسا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے صدفہ فطر لوگوں پر ایک صاع کجھور یا ایک صاع جو ہر آزاد ، غلام ، مرد اور پر مرد اور پر مسلمانوں میں سے فرض قرار دیا ہے۔ [صحيح البخاري حديث 1504] نوٹ: اس پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا اجماع ہے۔…

Continue Readingصدفہ فطر کے احکام قرآن اور صحیح احادیث کی روشنی میں

کن اصناف خوراک سے صدقۂ فطر نکالنا چاہیے؟

133۔ زکاۃ الفطر کا معنی : زکاۃ کا لغو ی معنی بڑھنا اور زیادہ ہونا ہے۔ اس کا اطلاق پاک کرنے پر بھی ہوتا ہے چونکہ یہ زکاۃ ادا کرنے والے کو گناہوں سے پاک کرتی اور اس کے اجر و ثواب کو بڑھاتی ہے۔ اس لئے اسے زکاۃ کہتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّاهَا [91-الشمس:9 ] ’’ جس نے اسے پاک کیا وہ کامیاب ہوا “۔ فطر : فطر افطر الصائم إفطارا “ سے اسم مصدر ہے۔ یہ ’’ فطرت “ سے ماخوذ ہے جو اصل خلقت کے معنی میں ہے۔ شریعت کی اصطلاح میں اس سے مراد بدن کا صدقہ ہے۔ (اسی لیے اسے صدقۃ الفطر بھی کہتے ہیں۔ ) 135۔ زکاۃ الفطر کے وجوب کے دلائل : اس کا ثبوت کتاب اللہ، سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اجماع تینوں سے ہے۔…

Continue Readingکن اصناف خوراک سے صدقۂ فطر نکالنا چاہیے؟

خود کو شر سے محفوظ رکھنا بھی صدقہ ہے

مؤلف : ڈاکٹر محمد ضیاء الرحمٰن اعظمی رحمہ اللہ « باب حبس النفس عن الشر صدقة» اپنے آپ کو شر سے روکنا بھی صدقہ ہے ❀ «عن ابي ذر رضي الله عنه، قال: سالت النبى صلى الله عليه وسلم، اي العمل افضل؟ قال: إيمان بالله وجهاد فى سبيله، قلت: فاي الرقاب افضل؟ قال: اغلاها ثمنا، وانفسها عند اهلها، قلت: فإن لم افعل؟ قال: تعين صانعا او تصنع لاخرق، قال: فإن لم افعل؟ قال: تدع الناس من الشر، فإنها صدقة تصدق بها على نفسك. » [متفق عليه : رواه البخاري 2518، ومسلم 84 واللفظ للبخاري۔] حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ کون سا عمل سب سے افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: الله پر ایمان، اور الله کی راہ میں جہاد۔ انھوں نے…

Continue Readingخود کو شر سے محفوظ رکھنا بھی صدقہ ہے

قرض کی ادائیگی میں ٹال مٹول کرنا

  تحریر : فضیلۃ الشیخ حافظ عبدالستار الحماد حفظ اللہ مَطْلُ الْغَنِيِّ ظُلْمٌ ” صاحب حیثیت مقروض کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے۔ “ [صحيح البخاري/كِتَاب الِاسْتِقْرَاضِ وَأَدَاءِ الدُّيُونِ وَالْحَجْرِ وَالتَّفْلِيسِ: 2400] فوائد : بوقت ضرورت قرض لینے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن جب حالات سازگار ہو جائیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے وسعت اور کشادگی آ جائے تو اسے جلدی ادا کرنا چاہئے، اگر دانستہ طور پر اس کی ادائیگی میں لیت و لعل کرتا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے عمل کو ظلم سے تعبیر کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرض کے متعلق فرمایا ہے : ”نہ تم ظلم کرو اور نہ تم پر ظلم کیا جائے۔“ [البقره : 279 ] یہ ارشاد اس بات کی دلیل ہے کہ مقروض، اصل رقم ادا نہ کرنے پر ظالم قرار پاتا ہے جیسا کہ قرض خواہ…

Continue Readingقرض کی ادائیگی میں ٹال مٹول کرنا

زرعی پیداوار سے عشر

  تحریر : فضیلۃ الشیخ حافظ عبدالستار الحماد حفظ اللہ لَيْسَ فِيمَا أَقَلُّ مِنْ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ صَدَقَةٌ ” پانچ وسق سے کم پیداوار میں زکوٰۃ (عشر) نہیں ہے۔ “ [صحيح البخاري/كِتَاب الزَّكَاة: 1484] فوائد : عشر کے لئے یہ زرعی پیداوار کا نصاب ہے۔ اس سے کم پر عشر دینا ضروری نہیں، کیونکہ اس سے کم مقدار تو کاشتکار کے گھر کا سالانہ خرچہ ہی تصور کیا جائے گا۔ ہاں پانچ وسق یا اس سے زیادہ پیداوار میں عشر واجب ہو گا۔ واضح رہے کہ ایک وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے۔ جدید اعشاری نظام کے مطابق ایک صاع دو کلو سو گرام کا ہوتا ہے۔ اس حساب سے پانچ وسق یعنی تین صد صاع میں چھ صد تیس کلو گرام ہوتے ہیں جبکہ کچھ اہل علم کے ہاں ایک صاع اڑھائی کلو کے مساوی ہوتا ہے۔ لہٰذا ان کے ہاں زرعی پیداوار…

Continue Readingزرعی پیداوار سے عشر

فطرانہ کی ادائیگی

  تحریر : فضیلۃ الشیخ حافظ عبدالستار الحماد حفظ اللہ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِزَكَاةِ الْفِطْرِ قَبْلَ خُرُوجِ النَّاسِ إِلَى الصَّلَاةِ ” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ فطرانہ، نماز عید سے پہلے ادا کیا جائے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الزَّكَاة: 1509] فوائد : صدقہ فطر، مسلمانوں کے ہر فرد پر فرض ہے خواہ وہ روزے رکھتا ہو یا نہ رکھتا ہو۔ اس با ت کی صراحت احادیث میں موجود ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الزَّكَاة: 1503] اس کی مقدار ایک صاع ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الزَّكَاة: 1505] ہمارے ہاں اعشاری نظام کے مطابق ایک صاع دو کلو، سو گرام کا ہوتا ہے۔ یہ عید کے دن، نماز عید سے پہلے ادا کرنا چاہئے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے۔ ”جس نے صدقہ فطر نماز سے پہلے ادا کیا تو یہ صدقہ قبول ہو گا اور…

Continue Readingفطرانہ کی ادائیگی

سخاوت کا مطلب کچھ دے دینا

تحریر : فضیلۃ الشیخ حافظ عبدالستار الحماد حفظ اللہ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْوَدَ النَّاسِ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب لوگوں سے زیادہ سخی تھے۔ “ [صحيح بخاري/الوحي : 6 ] فوائد : مکمل حدیث کا ترجمہ حسب ذیل ہے۔ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں سب سے زیادہ سخاوت کرتے تھے۔ خصوصاً رمضان میں جب حضرت جبرائیل علیہ السلام سے آپ صلى اللہ علیہ وسلم کی ملاقات ہوتی تو بہت زیادہ سخاوت کرتے اور حضرت جبرائیل علیہ السلام رمضان میں ہر رات ملاقات کرتے اور آپ صلى اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ قرآن مجید کا دور فرماتے تھے۔ الغرض رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صدقہ و خیرات اور سخاوت کرنے میں کھلی ہوا سے بھی زیادہ تیز رفتار ہوتے۔ “ سخاوت کسی کے سوال کرنے پر دل کے نرم ہونے کی وجہ سے…

Continue Readingسخاوت کا مطلب کچھ دے دینا

فضائل اعمال ، صدقہ

تالیف : ابوعمار عمر فاروق سعیدی حفظ اللہ صدقہ کی فضیلت فرشتوں کی دعائیں : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہےکہ : مَا مِنْ يَوْمٍ يُصْبِحُ الْعِبَادُ فِيهِ، إِلَّا مَلَكَانِ يَنْزِلَانِ، فَيَقُولُ أَحَدُهُمَا: اللَّهُمَّ أَعْطِ مُنْفِقًا خَلَفًا، وَيَقُولُ الْآخَرُ اللَّهُمَّ: أَعْطِ مُمْسِكًا تَلَفًا ”ہر دن جب لوگ صدقہ کرتے ہیں تو دو فرشتے اترتے ہیں ایک کہتا ہے : اے اللہ ! خرچ کرنے والے کو نعم البدل عنایت فرما، اور دوسرا کہتا ہے : اے اللہ ! خرچ کرنے والے ( بخیل ) کا مال ضائع کر دے ! “ [صحيح بخاري مسلم2336] صدقہ کی اللہ تعالیٰ کے ہاں قبولیت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آنحضرت علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ : لَا يَتَصَدَّقُ أَحَدٌ بِتَمْرَةٍ مِنْ كَسْبٍ طَيِّبٍ، إِلَّا أَخَذَهَا اللَّهُ بِيَمِينِهِ، فَيُرَبِّيهَا…

Continue Readingفضائل اعمال ، صدقہ

زیورات کی زکوٰۃ

فتویٰ : شیخ ابن جبرین حفظ اللہ سوال : ایک عورت کے پاس اتنا سونا ہے جو نصاب کو پہنچ چکا ہے۔ اسے سعودی کرنسی میں کس مقدار سے زکوٰۃ ادا کرنا ہو گی ؟ جواب : اسے ہر سال سونے کا کاروبار کرنے والوں یا دوسرے لوگوں سے زیر استعمال ایک قیراط کی قیمت معلوم کرنی چاہئیے۔ جب اسے سعودی ریال میں حاضر وقت قیراط کی قیمت معلوم ہو جائے تو اس کی قیمت کی زکوٰۃ ادا کرے، اسے راس المال جاننے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ وجوب زکوٰۃ کے وقت اس کے مساوی پر عمل ہو گا۔

Continue Readingزیورات کی زکوٰۃ

مجاہدین کو زکوٰۃ دینا

فتویٰ : شیخ ابن جبرین حفظ اللہ سوال : ایک قابل اعتماد شخص کا کہنا ہے کہ وہ زکوٰۃ کا مال ایک ایسے معتمد علیہ عالم کے پاس پہنچا سکتا ہے جو اسے مجاہدین تک پہنچا دے، کیا میں اس طرح اپنے سونے کی زکوٰۃ ادا کر سکتی ہوں ؟ یا اس سے بہتر بھی کوئی راستہ ہے ؟ میرے لئے مستحق لوگوں کی تلاش مشکل ہے۔ جواب : مجاہدین کو زکوٰۃ دینا درست ہے، ممتاز علماء کا فتویٰ یہی ہے اور یہ اس لئے کہ مجاہدین اسلام، کفار اور سخت ترین اعداء دین کے خلاف برسرپیکار ہیں۔ اگر کوئی قابل اعتماد شخص اموال زکوٰۃ مجاہدین تک پہنچا سکے یا کسی ایسے شخص کے حوالے کر سکے جو اسے مجاہدین تک پہنچا دے گا تو زکوٰۃ کا مال ایسے شخص کے حوالے کر دینا جائز ہوگا۔ زکوٰۃ ادا کرنے والا اپنی ذمہ داری…

Continue Readingمجاہدین کو زکوٰۃ دینا

گھریلو استعمال کے خاص برتنوں میں زکوٰۃ نہیں ہے

فتویٰ : سابق مفتی اعظم سعودی عرب شیخ ابن باز رحمہ اللہ سوال : میرے پاس گھریلو استعمال کے لئے بہت سے برتن ہیں، ان میں سے کچھ تو روزانہ کے استعمال کے لئے ہیں جبکہ کچھ عام مسمانوں کے لئے، اور کچھ خاص تقریبات کے لئے ہیں، اور یہ بہت زیادہ ہیں۔ میں برتن ادھار یا کرائے پر لینے کی بجائے انہی برتنوں کو استعمال کرتی ہوں، کیونکہ بیرونی برتن گندے اور پرانے ہونے کی وجہ سے میری سوسائٹی میں ناقابل استعمال ہوتے ہیں۔ میں یہ برتن گھر پر الماریوں میں سنبھال کر رکھتی ہوں اور بوقت ضرورت اپنے قریبی رشے داروں اور ہمسائیوں کے ساتھ تعاون کی غرض سے انہیں عاریتاً فراہم کرتی ہوں۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ میں نے عورتوں کے ایک اجتماع میں ایک خاتون سے سنا وہ کہہ رہی تھی کہ انسان کا تمام سامان کے بارے…

Continue Readingگھریلو استعمال کے خاص برتنوں میں زکوٰۃ نہیں ہے

ماں کو زکوۃ دینا

فتویٰ : سابق مفتی اعظم سعودی عرب شیخ ابن باز رحمہ اللہ سوال : کیا کوئی شخص اپنی ماں کو زکوٰۃ دے سکتا ہے ؟ جواب : مسلمان شخص اپنے والدین یا اولاد کو زکوٰۃ نہیں دے سکتا۔ اگر وہ صاحب استطاعت ہے تو اپنے ضرورت مند والدین اور بچوں پر اپنے ذاتی مال سے خرچ کرے۔ وبالله التوفيق  

Continue Readingماں کو زکوۃ دینا

عورت غریب و مقروض خاوند کو زکوٰۃ دے سکتی ہے

فتویٰ : سابق مفتی اعظم سعودی عرب شیخ ابن باز رحمہ اللہ سوال : ایک عورت کا خاوند ملازم ہے، چار ہزار ریال تنخواہ پاتا ہے مگر تیس ہزار کا مقروض ہے کیا وہ اسے زکوٰۃ دے سکتی ہے ؟ جواب : عام دلائل کی رو سے، علماء کے صحیح ترین قول کے مطابق اگر عورت اپنے زیورات یا غیر زیورات کی زکوٰۃ اپنے غریب یا مقروض خاوند (جو ادائیگی قرض کی طاقت نہ رکھتا ہو) کو دینا چاہے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ اس کی ایک دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد بھی ہے : إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ [9-التوبة:60] ”صدقات (زکوٰۃ) فقراء و مساکین کے لئے ہیں۔ ‘‘ وبالله التوفيق  

Continue Readingعورت غریب و مقروض خاوند کو زکوٰۃ دے سکتی ہے

بیوی کی طرف سے خاوند کا زکوٰۃ ادا کرنا اور بھانجے کو زکوٰۃ دینا

فتویٰ : سابق مفتی اعظم سعودی عرب شیخ ابن باز رحمہ اللہ سوال : کیا میری طرف سے میرا خاوند زکوٰۃ ادا کر سکتا ہے ؟ جبکہ یہ خاوند ہی کا دیا ہوا مال ہے۔ نیز کیا میں اپنے یتیم اور نوجوان بھانجے کو زکوۃ دے سکتی ہوں، جبکہ وہ شادی کی فکر میں ہے ؟ جواب : اگر آپ کا مال سونے، چاندی یا دیگر اموال زکوٰۃ میں سے نصاب یا اس سے زائد مقدار کو پہنچ چکا ہے تو اس کی زکوٰۃ ادا کرنا آپ پر واجب ہے۔ اگر آپ کا خاوند آپ کی اجازت (و مشاورت) سے زکوٰۃ ادا کر دے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ اسی طرح آپ کی طرف سے آپ کا باپ، بھائی یا کوئی اور شخص آپ کی اجازت سے زکوٰۃ ادا کر دے تو بھی کوئی حرج نہیں۔ اگر آپ کا بھانجا شادی کرنا…

Continue Readingبیوی کی طرف سے خاوند کا زکوٰۃ ادا کرنا اور بھانجے کو زکوٰۃ دینا

End of content

No more pages to load