سوال:
عورت کا شوہر کے ساتھ مل کر کھانا کھانا کیسا ہے؟
جواب:
بالکل جائز ہے، بلکہ بہتر ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بھی سنت ہے۔
❀سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:
”میں حیض میں کوئی مشروب پیتی ، پھر برتن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کر دیتی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہیں سے منہ لگا کر نوش جان فرماتے ، جہاں سے میں نے پیا ہوتا تھا، میں دانتوں سے ہڈی کا گوشت نوچتی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش کرتی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی جگہ منہ رکھتے ، جہاں میں نے رکھا ہوتا (پھر اس سے گوشت اتارتے ) ۔“
(صحیح مسلم : 300)
ثابت ہوا کہ بیوی کے ساتھ مل کر کھانا پینا جائز ہے۔
❀سیدنا عبد اللہ بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
سألت النبى صلى الله عليه وسلم عن مؤاكلة الحائض؟ فقال: واكلها
”میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حائضہ (بیوی) کے ساتھ کھانے پینے کے بارے میں پوچھا، تو فرمایا: اس کے ساتھ مل کر کھا پی لیا کریں۔“
(مسند الإمام أحمد : 342/4، سنن الترمذي : 133 ، سنن أبي داود : 212، سنن ابن ماجه : 651 ، وسنده حسن)
اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن غریب اور امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (1202) نے صحیح قرار دیا ہے۔