مضمون کے اہم نکات
آثار صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین
صحیح اور حسن سندوں کے ساتھ ثابت ہے کہ درج ذیل صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین رکوع سے پہلے اور بعد میں رفع الیدین کیا کرتے تھے۔
① عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما
سیدنا ابن رضی اللہ عنہما سے رفع الیدین کو درج ذیل تابعین نے روایت کیا ہے:
◈ نافع (صحیح بخاری:739)
◈ محارب بن دثار [ جزء البخاری : 48 و اسنادہ صحیح، مسند ابی یعلی 246/2 واِسناده حسن ]
◈ طاؤس [ جزء رفع الیدین: 28]
◈ سالم [ جزء رفع الیدین للبخاری: 77 وھو صحیح ]
◈ ابوالزبیر( مسائل الامام احمد بن حنبل روایته عبدالله بن احمد ج 1 ص 244 و اسناده صحیح )
بلکہ امام نافع رحمہ اللہ (تابعی) بیان کرتے ہیں کہ
أن ابن عمر رضي الله عنهما كان إذا رأى رجلا لا يرفع يديه إذا ركع وإذا رفع رماه بالحصى ابن عمر رضی اللہ عنہما جس شخص کو دیکھتے کہ رکوع سے پہلے اور بعد رفع الیدین نہیں کرتا تو اسے کنکریوں سے مارتے تھے۔ [جزء رفع الیدین للبخاری:15 وسندہ صحیح]
نووی نے کہا: ” باسناده الصحيح عن نافع “ یعنی اس کی سند صحیح ہے۔ المجموع شرح المهذب 405/3
ابن الملقن نے کہا: باسناد صحيح عن نافع (البدر المنير 478/3)
② مالک بن الحویرث رضی اللہ عنہ
[ البخاری: 737 و مسلم : 391]
③ ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ
(سنن الدارقطنی 292/1 ح 1111 وسنده صحیح ومسائل احمد رولیۃ صالح ص 74 اوالا وسط لابن المنذر138/3 وسنده صحیح)
④ عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما
(السنن الكبرى للبیہقی 73/2 وسنده صحیح)
⑤ابو بکر الصدیق رضی اللہ عنہ
(السنن الكبرى للبیہقی 73/2 دسندہ صحیح)
⑥ انس بن مالک رضی اللہ عنہ
قال البخاري فى جزء رفع اليدين : حدثنا مسدد: ثنا عبدالواحد بن زياد عن عاصم الأحول قال : رأيت أنس بن مالك رضى الله عنه إذا افتتح الصلوة كبر ورفع يديه ويرفع كلما ركع ورفع رأسه من الركوع
سید نا انس رضی اللہ عنہ شروع نماز ، رکوع سے پہلے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع الیدین کرتے تھے۔ [ جزء رفع الیدین : 20 وسندہ صحیح، نیز دیکھئے جز ء رفع الیدین: 65]
⑦ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ
قال البخاري فى جزء رفع اليدين : حدثنا سليمان بن حرب : ثنا يزيد بن إبراهيم عن قيس بن سعد عن عطاء قال: صليت مع أبى هريرة رضي الله عنه فكان يرفع يديه إذا كبر وإذا ركع (وإذا رفع)
یعنی سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ تکبیر تحریمہ ، (رکوع کے لئے ) تکبیر کہتے وقت اور (رکوع سے ) اُٹھتے وقت رفع الیدین کرتے تھے۔ ( جزء رفع الیدین 32 وسندہ صحیح)
⑧ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما
آپ رکوع سے پہلے اور بعد رفع الیدین کرتے تھے۔ [مصنف ابن ابی شیبہ 1/335 ح 2431 وسندہ حسن ]
اس کے راوی صحیح مسلم کے راوی اور ثقہ و صدوق ہیں۔
ابوحمزہ عمران بن ابی عطاء الاسدی کو درج ذیل علماء نے ثقہ قرار دیا ہے:
① احمد بن حنبل ② ابن معین ③ ابن نمیر ④ ابن حبان ⑤ مسلم (بتخریج حديثہ ) ⑥ الذہبی فی سیر اعلام النبلاء (387/5)
اور درج ذیل علماء نے ضعیف قرار دیا ہے:
① ابوزرعہ ② ابو حاتم ③ نسائی ④ ابوداود (ملخصاً من التهذيب)
لہذا بقول راجح ابو حمزہ ثقہ و صدوق ہے۔
تنبیہ: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منسوب تفسیر ابن عباس ساری کی ساری مکذوب و موضوع ہے۔ اس کے بنیادی راوی محمد بن مروان السدی ، الکلبی اور ابو صالح تینوں کذاب (جھوٹے راوی) ہیں جیسا کہ آگے آرہا ہے لہذا اس نام نہاد تفسیر سے استدلال کسی کے لئے حلال نہیں ہے۔ دوسرے یہ کہ اس تفسیر میں بھی رفع الیدین کے خلاف کوئی صریح بات موجود نہیں ہے۔
تمام صحابہ کرام کا رفع الیدین کرنا
امام بیہقی نے کہا:
أخبر نا محمد بن عبدالله : حدثني محمد بن صالح : حدثنا يعقوب بن يوسف الأخرم : حدثنا الحسن بن عيسى : أنبأنا ابن المبارك : أنبأنا عبدالملك بن أبى سليمان عن سعيد بن جبير أنه سئل عن رفع اليدين فى الصلوة فقال : هو شيء يزين به الرجل صلوته وكان أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم يرفعون أيديهم فى الإفتتاح و عند الركوع وإذا رفعوا رؤسهم
سعید بن جبیر تابعی رحمہ اللہ سے رفع الیدین کے متعلق پوچھا گیا تو انھوں نے کہا: یہ نماز کی زینت ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین شروع نماز میں ، رکوع کے وقت اور رکوع سے سر اٹھانے کے بعد رفع الیدین کرتے تھے۔ (السنن الکبری للبیہقی 75/2 وسندہ صحیح]
◈سند کی تحقیق
یہ سند بالکل صحیح ہے۔ راویوں کا علی الترتیب جائزہ پیش خدمت ہے:
① امام محمد بن عبداللہ الحاکم مشہور امام ہیں اور صدوق ہیں، مستدرک کے مصنف ہیں۔ مزید تحقیق کے لئے ملاحظہ فرمائیں : سیر اعلام النبلاء( 162/17)، میزان الاعتدال (608/3)، تذكرة الحفاظ( 1039/3)، تاریخ بغداد(473/5 )، الانساب للسمعانی (432/1)، المنتظم لابن الجوزی( 274/7)، العبر (3 /91) ، البدایہ والنہایہ (351/11)
ان پر جرح مردود ہے۔
② محمد بن صالح بن ہانی ثقہ تھے۔ (المنتظم 86/4)
③ یعقوب بن یوسف الاخرم سے ان کے بیٹے امام ، حافظ متقن ، حجت محمد بن یعقوب بن یوسف النیسابوری، ابن الشرقی، یحیی العنبری، محمد بن صالح اور ایک جماعت نے حدیث بیان کی ہے۔ انھوں نے مصر میں پڑھا۔ قتیبہ وغیرہ سے سماع حدیث کیا اور ان سے امام مسلم نے حدیث لکھی ہے۔ حافظ ذہبی کہتے ہیں: وكان لبيبا نبيلا فقيها كثير العلم ( تاریخ الاسلام 338/21) اور ان کی وفات 287 ھ میں ہوئی۔
ان کو امام ابو حازم عمر بن احمد العبدوی نے ثقہ کہا۔ [السنن الکبری للبیہقی 230/5]
④ الحسن بن عیسی ثقہ تھے۔ (التقريب: 1288)
⑤ ابن المبارک ثقه ثبت فقیہ عالم، جواد مجاہد تھے۔ [التقریب 3570]
⑥ عبدالملک بن ابی سلیمان مشہور ثقہ تھے۔ (میزان الاعتدال 2 /656)
ان کو احمد اور ابن معین و غیر ہما نے ثقہ قرار دیا ہے۔ وہم کے مطلق الزام سے ان کی ہر حدیث ساقط نہیں ہو سکتی ، کون ہے جسے وہم نہیں ہوا ہے؟ یادر ہے کہ ان کی یہ روایت کسی ثقہ راوی کے مخالف نہیں ہے۔
⑦ سعید بن جبیر تابعی ثقه ثبت فقیہ تھے۔ [التقریب : 2278]
خلاصہ
خلاصہ یہ کہ اس اثر کی سند بالکل صحیح ہے اور یہ اثر اس بات کی واضح دلیل ہے کہ
➊ رفع الیدین نماز کی زینت ہے۔
➋ صحابہ کرام رفع الیدین کیا کرتے تھے۔
سعید بن جبیر مشہور جلیل القدر تابعی تھے جنھیں ان کی حق گوئی کی وجہ سے شہید کر دیا گیا تھا۔ ان کی گواہی سے معلوم ہوا کہ ( تمام) صحابہ ( رضی اللہ عنہم ) رکوع سے پہلے اور بعد رفع الیدین کرتے تھے ۔ انھوں نے کسی ایک صحابی کا بھی استثنا نہیں کیا ہے لہذا رفع الیدین پر صحابہ کا اجماع ثابت ہو گیا۔ مزید دیکھئے جزء رفع الیدین (29 وسندہ صحیح)
مگر جو شخص ”میں نہ مانوں“ کی رٹ لگائے رکھے اس کا کیا علاج ہے؟
تارکین و مانعین کے آثار
گزشتہ صفحات میں ثابت کیا جا چکا ہے کہ تمام صحابہ رفع الیدین کرتے تھے۔ حجۃ الاسلام، امام الفقہاء والمحدثین محمد بن اسماعیل البخاری رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
کسی ایک صحابی سے بھی رفع الیدین نہ کرنا ثابت نہیں ہے۔ [جزء ما رفع الیدین: 176، 40، مجموع شرح المهذب 405/3]
اس باب میں منکرین رفع الیدین جو آثار پیش کرتے ہیں ان کا مختصر و جامع جائزہ الگ الگ مضامین میں پیش خدمت ہے:
① ترک رفع یدین اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ
② ترک رفع یدین اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ