اسلامی قانونِ وراثت میں مفقود کی تعریف، مدت انتظار اور طریقہ تقسیم

یہ اقتباس مولانا ابو نعمان بشیر احمد کی کتاب اسلامی قانون وراثت سے ماخوذ ہے۔

مفقود

سوال:

مفقود کی تعریف، مدت انتظار، حالتیں اور طریقہ تقسیم وراثت بیان کریں؟

جواب:

تعریف: وہ گم شدہ شخص جس کے زندہ یا فوت ہونے کا علم نہ ہو سکے۔ مثلاً سفر یا قتال کے لیے نکلنے والا، عرصہ دراز تک واپس نہ آئے اور اس کے متعلق کوئی خبر بھی موصول نہ ہوئی ہو۔
مدت انتظار: مفقود کی مدت انتظار میں فقہاء کا اختلاف ہے۔ امام ابوحنیفہ اور امام شافعی رحمہ اللہ علیہ کے نزدیک نوے سال ہے۔ امام مالک رحمہ اللہ کے نزدیک ستر سال ہے۔ اور ایک روایت میں امام احمد رحمہ اللہ کے نزدیک صرف چار سال ہے۔ لیکن صحیح بات یہ ہے کہ زمان، مکان اور اشخاص کے اختلاف سے مدت مختلف ہو جاتی ہے۔ اس لیے احوال کو دیکھ کر حاکم کے فیصلے کو معتبر سمجھا جائے گا۔
مفقود کے احوال: اس کی دو حالتیں ہیں: ① وارث ② مورث ۔
جب مفقود کسی کا وارث بنتا ہو تو اس کا حصہ محفوظ کر کے رکھا جائے گا۔ اگر اس کے وجود کے ثبوت مل جائیں تو حصہ دے دیا جائے گا، ورنہ دوسرے ورثاء میں تقسیم کیا جائے گا۔
اگر مفقود مورث ہو اور مدت انتظار کے بعد حاکم اس کی موت کا فیصلہ کر دے، تو اس وقت موجود ورثاء میں اس کی وراثت تقسیم کر دی جائے گی اور فیصلہ سے قبل وفات پانے والے ورثاء محروم قرار دیے جائیں گے۔ اگر تقسیم وراثت کے بعد مفقود مل جائے تو ورثاء کے پاس اس کا موجود مال اسے واپس کر دیا جائے گا۔ اور جو انہوں نے خرچ کیا اور واپس کرنے کی طاقت بھی نہیں رکھتے، ان کا معاملہ حاکم کی رائے پر ہوگا۔
طریقہ کار: مفقود تنہا وارث ہو یا اس کے ساتھ اور بھی ورثاء ہوں لیکن اس کی وجہ سے وہ محروم بنتے ہوں تو تمام مال اس کے لیے رکھا جائے گا۔ اگر زندہ حالت میں پایا جائے تو تمام مال کا وارث بنے گا، ورنہ باقی ورثاء میں تقسیم کر دیا جائے گا۔ اگر اس کے ساتھ دیگر ورثاء بھی شریک ہوں تو ان کو اقل حصہ دیا جائے گا، یعنی مفقود کو ایک مرتبہ زندہ اور ایک مرتبہ مردہ تسلیم کر کے مسئلہ بنایا جائے اور باقی عمل اسی طرح کیا جائے جیسے ”حمل “میں گزر چکا ہے ۔

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سوشل میڈیا پر یہ مضمون فیچرڈ امیج کے ساتھ شئیر کرنے کے لیے یہ تصویر محفوظ کریں ⬇️