حالت نیند میں طلاق کا شرعی حکم

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال :

حالت نیند میں طلاق دی ، کیا حکم ہے؟

جواب :

اہل علم کا اجماع ہے کہ حالت نیند میں دی گئی طلاق شرعاً معتبر نہیں ہوتی، کیونکہ نیند میں انسان مکلف نہیں ہوتا۔
❀ حافظ ابن ملقن رحمہ اللہ (804ھ) فرماتے ہیں:
الإجماع على المجنون والنائم إذا تلفظا بصريح الطلاق لا يلزمهما .
”اس پر اجماع ہے کہ مجنون اور سویا ہوا شخص اگر طلاق کے صریح الفاظ بھی استعمال کرے تو بھی طلاق واقع نہیں ہوتی ۔“
(التوضيح : 184/2)