یونائیٹڈ بینک میں نوکری اور بلا سود بینکاری کا شرعی حکم

ماخوذ : احکام و مسائل: خرید و فروخت کے مسائل، جلد 1، صفحہ 389

سوال

میں یونائیٹڈ بینک میں منیجر کے طور پر کام کرتا ہوں، کیا میری یہ نوکری شرعی اعتبار سے جائز ہے، جب کہ خاندان کی کفالت کی ذمہ داری بھی مجھ پر ہے؟
کیا آج کل بلا سودی شراکتی کھاتے کی بینکاری (بینکنگ) جائز ہے؟

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

یونائیٹڈ بینک میں نوکری کا شرعی حکم:

آپ کی موجودہ نوکری شرعی اعتبار سے بالکل ناجائز اور حرام ہے۔
لہٰذا آپ کو چاہیے کہ پہلی فرصت میں یہ ملازمت ترک کر دیں اور کسی حلال ذریعہ معاش کو اپنائیں۔
اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھیں، یقیناً اللہ تعالیٰ آپ کی مدد فرمائے گا، ان شاء اللہ، کیونکہ آپ نے صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے یہ حرام نوکری چھوڑنی ہے۔

بلا سودی شراکتی کھاتہ کی بینکاری کا شرعی حکم:

اگر آپ کے پاس کوئی بلا سودی بینکاری کی متعین صورت موجود ہے، تو آپ وہ صورت لکھ کر بھیج دیں۔
ان شاء اللہ تعالیٰ کتاب و سنت کی روشنی میں اس کا شرعی حکم واضح طور پر بیان کر دیا جائے گا۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے