مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

یوم عاشورہ کے روزے کی فضیلت اور مکمل شرعی حکم

فونٹ سائز:
ماخوذ : فتاویٰ ارکان اسلام

یوم عاشورہ کے روزے کے بارے میں شرعی حکم

نبی کریم ﷺ کی سنت اور عمل

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ ﷺ نے یہودیوں کو 10 محرم (یوم عاشورہ) کا روزہ رکھتے ہوئے دیکھا۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا:

«أَنَا أَحَقُّ بِمُوسَی مِنْکُمْ فَصَامَهُ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ»
(صحیح البخاری، الصوم، باب صوم یوم عاشوراء، حدیث: ۲۰۰۴؛ صحیح مسلم، باب صوم یوم عاشوراء، حدیث: ۱۱۳۰، واللفظ للبخاری)

ترجمہ: "میں موسیٰ علیہ السلام کی اقتداء اور پیروی کا تم سے زیادہ حق دار ہوں۔” چنانچہ آپ ﷺ نے یوم عاشورہ کا روزہ رکھا اور دوسروں کو بھی اس کے روزے کا حکم دیا۔

یہود کی مخالفت اور مزید روزے رکھنے کا حکم

بعد ازاں نبی کریم ﷺ نے یہودیوں کی مخالفت کرتے ہوئے یہ ہدایت فرمائی کہ صرف 10 محرم کا روزہ نہ رکھا جائے بلکہ اس کے ساتھ:

یا تو 9 محرم (یعنی اس سے ایک دن پہلے)

یا 11 محرم (یعنی اس کے بعد کا دن)

افضل عمل کیا ہے؟

◈ سب سے افضل طریقہ یہ ہے کہ نو اور دس محرم کا روزہ رکھا جائے۔

◈ اگر نو محرم کا روزہ نہ رکھ سکے تو دس اور گیارہ محرم کا روزہ رکھنا بھی جائز ہے۔

◈ تاہم، نو محرم کا روزہ گیارہ محرم کے روزے سے افضل ہے۔

مسلمانوں کے لیے رہنمائی

اے مسلمان بھائی! آپ کو چاہیے کہ:

◈ یوم عاشورہ (10 محرم) کے ساتھ ساتھ

نو محرم کا روزہ بھی ضرور رکھیں تاکہ آپ سنت نبوی ﷺ پر عمل پیرا ہوں اور یہودیوں کی مشابہت سے بچ سکیں۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔