یومِ جمعہ کے 28 عظیم فضائل اور برکتیں صحیح احادیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ الحدیث مولانا محمد یوسف (بانی دارالحدیث جامعہ کمالیہ) کی کتاب تحفہ جمعہ سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

یوم الجمعۃ کے فضائل

یوم الجمعۃ کے نام:

كثرة المياني تدل على كثرة المعاني
کثرت الفاظ کثرت مقاصد پر دلالت کرتے ہیں:
جس کے نام زیادہ ہوں اس کا شرف اور بزرگی بھی زیادہ ہوا کرتی ہے۔ جمعہ المبارک کا دن اسلام میں بڑی اہمیت کا حامل ہے بے شمار فضائل و برکات کا مرکب ہے اس کا ایک شرف امتیاز یہ بھی ہے کہ اس کے متعدد صفاتی نام ہیں اور ہر نام اس کے شرف پر دلالت کناں ہے۔ ہفتہ کے دنوں میں صرف یہ خصوصیت جمعۃ المبارک کو حاصل ہے ہفتہ کے بقیہ ایام کے اتنے نام نہیں جتنے جمعۃ المبارک کے ہیں۔

یوم الجمعۃ کے نام درج ذیل ہیں:

① دور جاہلیت میں اس دن کا نام ”عروبہ “تھا۔
② اسعد بن زرارہ اور ان کے ساتھیوں نے مسلمانوں کے اجتماع کی بنا پر اس کا نام جمعہ المبارک رکھا جس کی تائید کتاب وسنت کے دلائل سے ہوتی ہے اور اس کا مستقل نام جمعہ ہی پڑ گیا۔
③ مختلف احادیث نبویہ میں اس کا نام یوم العید بھی ہے۔
④ یوم الزیادہ بھی کہا جاتا ہے۔
⑤ یوم البشارہ بھی حدیث سے ثابت ہے۔
⑥ یوم المغفر بھی وارد ہے۔
⑦ یوم الحتیق بھی کہا جاتا ہے۔
⑧ یوم الشاہد بھی ثابت ہے۔
⑨ یوم المشہود بھی ہے۔
⑩ یوم الازہر بھی حدیث میں آیا ہے۔
⑪ یوم المزید بھی کتب حدیث میں موجود ہے۔
⑫ سید الایام بھی کہا گیا ہے۔
⑬ فضل الایام بھی ہے۔
⑭ سلامہ الایام بھی ہے۔
⑮ اور یہ یوم الحساب بھی ہے۔

جمعہ کی وجہ تسمیہ:

یوم الجمعہ کو جمعہ اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس دن میں بڑے بڑے امور کا ظہور ہوا اعلیٰ سبيل المثال
① اس دن میں زمین کے ہر خطہ سے مٹی جمع کی گئی جس سے ابو البشر سیدنا حضرت آدم علیہ السلام کا پتلہ تیار ہوا۔
② اسی دن میں قیامت کا نفخہ اور صعقہ ہوگا۔
③ یہی وہ دن ہے جس میں نفخہ بعثہ ہوگا۔ (یعنی دوبارہ جی اٹھنا ہوگا)۔
④ اسی دن میں بعثہ ہوگا۔
⑤ یوم الجمعۃ ہی کو سیدنا حضرت آدم علیہ السلام کو زمین پر اتارا گیا۔
⑥ ابوالبشر سیدنا آدم علیہ السلام اسی دن دنیا فانی سے فوت ہوئے۔
⑦ قیامت بھی اس یوم الجمعہ کو برپا ہوگی۔
⑧ یوم الجمعہ ہی وہ دن ہے جس میں دربار الہی کا قیام ہوگا۔
⑨ یہی وہ مبارک دن ہے جس میں جنت میں جنتی لوگوں کا اجتماع ہوگا۔
⑩ یہی وہ بابرکت دن ہوگا کہ خالق کائنات جنتیوں کو اپنا دیدار کروائیں گے۔
تلك عشرة كاملة
بایں وجہ زیادہ مناسب تھا کہ اس مبارک دن کا نام جمعۃ المبارک ہی رکھا جائے۔
جمعۃ المبارک کا نام جمعہ رکھنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ سب سے پہلے عرب میں کعب بن لؤی نامی ایک بزرگ شخص نے اس دن کا نام جمعہ رکھا۔ اور قریش مکہ اس دن جمع ہوئے تھے اور کعب بن لؤی خطبہ دیتے تھے۔ یہ واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے تقریبا پانچ سو ساٹھ سال پہلے کا ہے۔ کعب بن لؤی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اجداد میں سے ہیں۔ ان کو حق تعالیٰ نے زمانہ جاہلیت میں بھی بت پرستی سے بچایا اور توحید کی توفیق عطا فرمائی تھی۔ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی خوش خبری بھی لوگوں کو سنائی تھی۔ قریش میں ان کی عظمت کا عالم یہ تھا کہ ان کی وفات جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے تقریبا پانچ سو ساٹھ سال پہلے ہوئی عرب کے لوگ اسی وفات سے اپنی تاریخ شمار کرنے لگے۔ عرب کی تاریخ ابتداء میں کعبہ کی تعمیر سے لی جاتی تھی۔ کعب بن لوئی کی وفات کے بعد اس سے تاریخ جاری کی گئی۔ پھر جب واقعہ فیل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کے سال پیش آیا تو اس واقعہ سے عرب کی تاریخ کا سلسلہ جاری ہو گیا۔
خلاصہ یہ ہے کہ جمعہ کا اہتمام عرب میں اسلام سے پہلے کعب بن لؤی کے زمانہ میں ہو چکا تھا مگر جمعہ کی خاص شان بعد میں اس امت کو عطا کی گئی۔
(ماخوذ از معارف القرآن مفتی محمد شفیع عثمانی جلد 8 صفحہ 440)

فضائل جمعۃ المبارک:

کتب احادیث جمعۃ المبارک کے فضائل سے بھری پڑی ہیں۔ حدیث کی ہر کتاب میں جمعہ کا ایک مستقل باب ہے۔ قارئین ذی وقار کی دلچسپی کے لیے چند احادیث ملاحظہ فرما کر اپنے ایمان کو تازگی بخشیں، اور روح پر در نظارے حاصل کریں۔

حدیث نمبر 1 : یوم الجمعۃ امت اسلامیہ پر خصوصی عنایت

عن أبى هريرة رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:
نحن الآخرون السابقون يوم القيامة بيد أنهم أوتوا الكتاب من قبلنا وأوتيناه من بعدهم ثم هذا يومهم الذى فرض عليهم أعني يوم الجمعة فاختلفوا فيه فهدانا الله له والناس لنا فيه تبع اليهود غدا والنصارى بعد غد
”سیدنا حضرت ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے امام کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہم آخر میں آنے والی امت ہیں قیامت کے دن سب امتوں سے آگے ہوں گے جب کہ کتاب ان لوگوں کو پہلے دی گئی اور ہمیں کتاب ان کے بعد دی گئی۔ پھر یہ جمعہ کا دن ان پر فرض کیا گیا تو انہوں نے اس میں اختلاف کیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں ہماری راہنمائی فرمائی اور تمام لوگ اس میں ہمارے پیچھے ہیں یہودی کل اور عیسائی پرسوں۔“
(صحیح بخاری حدیث نمبر: 876 داراسلام، صحیح مسلم حدیث نمبر: 99، 855 داراسلام، سنن نسائی حدیث نمبر: 1376، مشکوۃ المصابیح: 1354)

حدیث نمبر 2 : جمعہ میں شمولیت سے ہر قدم کے بدلے ایک سال کے روزوں اور تہجد کا ثواب

عن أوس بن أوس رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:
من غسل يوم الجمعة واغتسل وبكر وابتكر ومشى ولم يركب ودنا من الإمام واستمع ولم يلغ كان له من كل خطوة عمل سنة أجر صيامها وقيامها
”سیدنا حضرت اوس بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے امام اعظم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص جمعہ کے دن کسی کو غسل کرئے اور خود بھی غسل کرے اور جمعہ کے لیے جلدی آئے اور ابتداء خطبہ میں شمولیت کرے اور پیدل چل کر آئے سوار ہو کر نہ آئے اور امام کے قریب ہو کر خطبہ سنے اور لغو کام نہ کرے تو اس کے ہر قدم کے بدلے ایک سال کے روزے اور رات کا قیام کرنے کا ثواب لکھا جاتا ہے۔ “
(ابو داؤد: 345، جامع ترمذی: 496، سنن نسائی: 1384، ابن ماجه: 1087)

حکم الحدیث:

یہ حدیث حسن درجہ کی ہے اور اس کی اسناد صحیح ہیں۔

راوی حدیث :

سیدنا اوس بن اوس رضی اللہ عنہ سیدنا حضرت اوس بن اوس رضی اللہ عنہ ثقفی ہیں عمرہ بن اوس کے والد ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ابو الا شعث سمعانی اور ان کے بیٹے عمرہ وغیرہ نے روایت کیا ہے

حدیث نمبر 3 : ایک جمعے میں حاضری سے دس دنوں کے گناہوں کی معافی

عن أبى هريرة رضى الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: من اغتسل ثم أتى الجمعة فصلى ما قدر له ثم أنصت حتى يفرغ من خطبته ثم يصلي معه غفر له ما بينه وبين الجمعة الأخرى وفضل ثلاثة أيام
”سیدنا حضرت ابی ہریرہ عبدالرحمن بن سخر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے شاہ مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے غسل کیا اور جمعہ ادا کرنے کے لیے آیا اور اس نے نوافل ادا کیے جتنے اس کے مقدر میں تھے پھر خاموش رہا یہاں تک کہ خطبہ سے فارغ ہو گیا پھر امام کے ساتھ نماز جمعہ ادا کی اس کے اس جمعہ سے لے کر دوسرے جمعہ تک کے درمیانے وقفہ کے گناہ معاف کر دیے جائیں گے بلکہ مزید تین دن کے اور بھی گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔ “
(صحیح مسلم: 26-857)
اہم نوٹ: تین دن کا اضافہ اس لیے ہے کہ ہر نیکی کا اجر دس گنا ہے اس لیے دوسرے جمعہ تک سات دن بنتے ہیں تین دن مزید اس میں شامل کیے تاکہ پورا عشرہ ہو جائے۔

حدیث نمبر 4 : خصوصی فہرست میں اندراج اور قربانی کا ثواب

عن أبى هريرة رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إذا كان يوم الجمعة وقفت الملائكة على باب المسجد يكتبون الأول فالأول ومثل المهجر كمثل الذى يهدي بدنة ثم كالذي يهدي بقرة ثم كبشا ثم دجاجة ثم بيضة فإذا خرج الإمام طووا صحفهم ويستمعون الذكر
”سیدنا حضرت ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ جب جمعۃ المبارک کا دن ہوتا ہے ملائکہ مسجد کے دروازے پر کھڑے ہوتے ہیں ہر آنے والے کا نام لکھتے ہیں۔ جلدی اور پہلے آنے والے کی مثال ایسے ہی ہے جیسے کسی نے اونٹ قربان کیا پھر جو اس کے بعد آئے ایسے ہے جیسے اس نے گائے قربان کی پھر مینڈھا پھر مرغی پھر انڈا قربان کیا ہو۔ جب امام خطبہ کے لیے آتا ہے تو فرشتے اپنے رجسٹر بند کر لیتے ہیں اور خطبہ سننے کے لیے شریک ہو جاتے ہیں۔ “
(صحیح بخاری: 929، صحیح مسلم: 24-840، ابو داؤد: 351، جامع ترمذی: 499، سنن نسائی: 1385، سنن ابن ماجه: 102)

فائدہ:

اس حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بالکل واضح ہو رہا ہے کہ جب امام خطبہ کے لیے مسجد میں تشریف لے آتا ہے امام کے منبر پر بیٹھ جانے کے بعد آنے والوں کو قربانی کے فضائل نصیب نہیں ہوتے صرف فرضیت ادا ہوتی ہے۔
خالق کائنات نے کل مخلوق سے اٹھارہ گناہ زیادہ فرشتے پیدا فرمائے ہیں۔ کتاب الملائکۃ میں یہ تعداد مذکور ہے جو کہ ابوداؤد کے حاشیہ پر ہے۔ جمعۃ المبارک کا ثواب لکھنے والے فرشتے پیش ہوتے ہیں جو کہ صرف جمعۃ المبارک ہی کا ثواب لکھتے ہیں بقیہ اعمال کا ثواب لکھنے کے لیے فرشتے الگ ہوتے ہیں۔
إذا خرج الإمام طووا صحفهم
جب امام گھر سے خطبہ دینے کے لیے نکلتا ہے تو وہ مخصوص ملائکہ اپنے مخصوص رجسٹر بند کر دیتے ہیں امام کا خطبہ سننے کے لیے شریک ہو جاتے ہیں۔ جو لوگ امام کے منبر پر بیٹھ جانے کے بعد مسجد میں آتے ہیں وہ اس اجر عظیم سے محروم رہ جاتے ہیں ان کا صرف فرض ہی ادا ہوتا ہے۔ مزید فضائل اور اجر سے محرومی ہے۔ کس قدر افسوس کی بات ہے کہ دنیا کی خاطر آپ نے آخرت کا کس قدر نقصان اٹھایا اونٹ کی قربانی سے محروم رہے جس کی قیمت آج کل کم و بیش 50 ہزار روپے ہوگی گویا کہ 50 ہزار روپے کی قربانی سے محروم رہا۔
خطباء حضرات سے ادب کے ساتھ گزارش ہے کہ جمعہ المبارک کا خطبہ بنسبت دوسرے خطبات کے مقابلے میں مختصر کریں۔
سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:
إن طول صلاة الرجل وقصر خطبته مئنة من فقهه
نماز لمبی اور خطبہ مختصر ہونا یہ خطیب کے فقہیہ ہونے کی نشانی ہے۔
(رواہ مسلم: 47 ، 829)
دین اسلام کی تکمیل جمعہ کے دن ہوئی۔

حدیث نمبر 5 : یوم الجمعہ کی اولیت کا سبب

عن حذيفة رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أضل الله عن الجمعة من كان قبلنا فكان لليهود يوم السبت وكان للنصارى يوم الأحد فجاء الله بنا فهدانا الله ليوم الجمعة فجعل الجمعة والسبت والأحد وكذلك هم تبع لنا يوم القيامة نحن الآخرون من أهل الدنيا والأولون يوم القيامة المقضي لهم قبل الخلائق
”سیدنا حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ہم سے پہلے لوگوں کو جمعہ سے محروم رکھا چنانچہ یہودیوں کے لیے ہفتہ اور نصاریٰ کے لیے اتوار کا دن تھا پھر اللہ تعالیٰ ہمیں لے آئے اور اللہ تعالیٰ نے ہماری یوم الجمعہ کی طرف راہنمائی فرمائی اور اس نے (ایام کی ترتیب اس طرح بنائی کہ) پہلے جمعہ پھر ہفتہ اور اس کے بعد اتوار اور اسی طرح وہ قیامت کے دن بھی ہمارے پیچھے ہی ہوں گے ہم دنیا میں آئے تو آخر میں ہیں لیکن قیامت کے روز ہم پہلے ہوں گے اور تمام امتوں میں سب سے پہلے ہمارا فیصلہ کیا جائے گا۔ “
(رواہ مسلم: 856)
جمعہ المبارک کا امتیاز کی شان کے ساتھ عطا کیا جانا صرف اس امت کے ساتھ مخصوص ہے۔ اسی مناسبت سے دین اسلام کی تکمیل بھی اسی دن میں ہوئی۔
﴿الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا ﴾
”اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان میدان عرفات میں 9 ہجری میں جمعہ کے دن نازل ہوا۔ “
(سورۃ المائدہ: 3)
دین مکمل کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آج دین کے تمام احکام آداب اور حدود و فرائض مکمل کر دیے گئے ہیں اب اس میں کمی کا احتمال ہے نہ اضافہ کی ضرورت باقی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس آیت کریمہ کے نزول کے بعد اسلامی احکام میں کوئی حکم نازل نہیں ہوا جو چند آیات اس کے بعد نازل ہوئی ہیں وہ ترغیب و ترہیب پر مشتمل ہیں یا پھر ان ہی احکام کی تاکید بیان کی گئی ہے جو پہلے نازل ہو چکے تھے۔
(معارف القرآن جلد 3 ص36)

سیدنا حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ :

سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کی کنیت ابو عبد الرحمن ہے ان کے والد حسیل ہیں دونوں باپ بیٹا اکھٹے مسلمان ہوئے۔ بدر کے علاوہ تمام غزوات میں شرکت کی جنگ بدر میں بھی شرکت کے لیے نکلے لیکن قریش کے نرغے میں آگئے اور شرکت سے محروم رہے۔ جس کا ملال پوری زندگی رہا۔
انہی کے بارے میں رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا۔ حذیفہ تیرے لیے یہ حق حاصل ہے کہ اپنے آپ کو مہاجر کہلا دے یا انصاری۔
تو سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے انصاری کہلانا پسند فرمایا۔ یہی وہ صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جن کو صاحب سر رسول اللہ کا لقب ملا مدائن میں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو والی مقرر کیا شہادت عثمان رضی اللہ عنہ کے 40 دن بعد سن 36 ہجری خلافت علی رضی اللہ عنہ میں فوت ہوئے۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ ایک محدث کے راوی ہیں 12 احادیث متفق علیہ ہیں 6 حدیثوں میں امام بخاری منفرد ہیں اور 7 حدیثوں میں امام مسلم منفرد ہیں۔

حدیث نمبر 6 : یوم الجمعہ سید الایام وافضل ایام

عن أبى هريرة رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: خير يوم طلعت عليه الشمس يوم الجمعة فيه خلق آدم وفيه أدخل الجنة وفيه أخرج منها ولا تقوم الساعة إلا فى يوم الجمعة
”امام المحدثین سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں رؤف رحیم رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سب سے بہترین دن جس کا سورج طلوع ہوا جمعہ کا دن ہے اس میں حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کیا گیا اور اس میں انہیں جنت میں داخل کیا گیا اور اسی دن انہیں جنت سے نکالا گیا اور قیامت بھی جمعہ کے دن ہی قائم ہوگی۔ “
(رواہ مسلم: 854، جامع ترمذی: 488)
کہ حضرت حسن سے مروی ہے کہ
عن سمرة قال نزلت: اليوم أكملت لكم دينكم وأتممت عليكم نعمتي ورضيت لكم الإسلام دينا فمن اضطر فى مخمصة غير متجانف لإثم فإن الله غفور رحيم يوم عرفة ورسول الله صلى الله عليه وسلم واقف بعرفة يوم الجمعة ….. الخ
(المعجم الكبير للطبراني، ج 6، صفحه 361، حدیث نمبر 6773، مجمع الزوائد جلد 7 حدیث نمبر 10966)
اليوم أكملت لكم دينكم وأتممت عليكم نعمتي ورضيت لكم الإسلام دينا ….. الخ عرفہ کے دن 9 ذی الحجہ کو نازل ہوئی اس وقت امام کائنات میدان عرفات میں جمعہ کے دن موجود تھے۔

حدیث نمبر 8 : یوم الجمعہ یوم تکمیل دین

سیدنا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے بارہ احادیث میں یہ قصہ مذکور ہے۔ کہ
أنه قرأ اليوم أكملت لكم دينكم الآية: وعنده يهودي قال لو نزلت هذه الآية علينا لاتخذناها عيدا فقال ابن عباس فإنها نزلت فى يوم عيدين فى يوم الجمعة ويوم عرفة
”سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ایک دن یہ آیت کریمہ تلاوت کی اليوم أكملت….. الخ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس ایک یہودی بیٹھا ہوا تھا اس نے کہا کہ اگر یہ آیت ہمارے ہاں نازل ہوتی تو ہم اسے (یعنی اس دن کو) عید قرار دیتے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا یہ آیت دو عیدوں کے دن جمعہ اور عرفہ کے دن نازل ہوئی ہے۔“
(رواہ الترمذی)

حدیث نمبر 9 : یوم الجمعہ یوم عید

اور صحیح بخاری میں طارق بن شہاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:
قال رجل من اليهود لعمر يا أمير المؤمنين لو أن علينا نزلت هذه الآية اليوم أكملت….. الخ لاتخذنا ذلك اليوم عيدا فقال عمر إني لأعلم أى يوم نزلت هذه الآية نزلت يوم عرفة فى يوم الجمعة
ایک یہودی نے سیدنا حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اے امیر المومنین اگر یہ آیت کریمہ ہمارے اوپر نازل ہوتی تو ہم اسے عید کا دن قرار دیتے تو جواباً خلیفہ ثانی سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کہ میں جانتا ہوں کہ یہ آیت کس دن نازل ہوئی۔ یہ آیت کریمہ عرفہ میں جمعہ کے دن نازل ہوئی۔ سیدنا ابن عباس اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کے دونوں قصوں سے جمعہ کے دن کا عید ہونا ثابت ہوتا ہے۔
(صحیح بخاری: 6726)

فائدہ:

بڑے بڑے کام جمعہ کے دن واقع ہوئے اور کچھ مستقبل میں ہوں گے خواہ ان میں کوئی فضیلت ہو یا نہ ہو ان کا تذکرہ اس لیے فرمایا ہے تاکہ عمل صالح کے لیے اور رحمت الہی کے حصول کے لیے ہمہ وقت تیار رہیں۔

حدیث نمبر 10 : جمعہ عید سے بھی افضل ہے

عن أبى لبابة بن المنذر رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن يوم الجمعة سيد الأيام وأعظمها عند الله وهو أعظم عند الله من يوم الأضحى ويوم الفطر فيه خمس خلال خلق الله فيه آدم وأهبط الله فيه آدم إلى الأرض وفيه توفي الله آدم وفيه ساعة لا يسأل العبد فيها شيئا إلا أعطاه إياه ما لم يسأل حراما وفيه تقوم الساعة ما من ملك مقرب ولا سماء ولا أرض ولا رياح ولا جبال ولا بحر إلا هو مشفق من يوم الجمعة
سیدنا لبابہ بن منذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رحمتہ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جمعہ کا دن تمام دنوں کا سردار ہے اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ عظمت والا ہے۔ اور اللہ کے نزدیک یہ عید الاضحی اور عید الفطر سے بھی زیادہ تعظیم کے لائق ہے اس میں پانچ خصوصیات ہیں۔ ① اللہ تعالیٰ نے اس دن میں آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا ② اسی دن سیدنا آدم علیہ السلام کو زمین پر اتارا ③ اسی دن میں اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو فوت فرمایا ④ اور اسی دن میں ایک مبارک گھڑی ہے کہ اس میں انسان اللہ تعالیٰ سے جو خیر کی دعا کرے اللہ تعالیٰ اسے ضروری قبول فرماتے ہیں بشرطیکہ وہ چیز ناجائز سوال نہ ہو اور ⑤ اسی دن قیامت برپا ہوگی کوئی مقرب فرشتہ اور آسمان و زمین ہوائیں پہاڑ اور سمندر سب جمعہ کے دن (قیامت کے برپا ہونے) سے کانپتے ہیں۔
(رواہ ابن ماجه: 1084)

فائدہ:

یہ عظمت اور فضیلت اس لیے ہے کہ جمعہ کا دن صرف عبادت کے لیے خاص ہے جب کہ عیدین میں عبادت کے ساتھ ساتھ کھیل اور خوشیاں وغیرہ بھی ہوتی ہیں اور کھانے پینے کا بھی خاص اہتمام ہوتا ہے۔

سیدنا حضرت لبابۃ بن منذر رضی اللہ عنہ:

سیدنا لبابۃ رضی اللہ عنہ کا نام رفاعۃ تھا ان کے باپ کا نام عبد المنذر تھا اور قبیلہ اوس میں سے ہیں۔ (اور نقیب رسول تھے بیعت عقبہ اور غزوہ بدر اور اس کے بعد دوسرے غزوات میں حاضر تھے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں انتقال فرمایا ان سے سیدنا نافع اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما وغیرہ نے روایت کیا ہے۔)

حدیث نمبر 11 : یوم الجمعہ یوم عید و یوم طہارت

عن ابن عباس رضي الله عنهما قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن هذا يوم عيد جعله الله للمسلمين فمن جاء إلى الجمعة فليغتسل وإن كان طيب فليمس منه وعليكم بالسواك
”سیدنا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بے شک یہ عید کا دن ہے جسے اللہ تعالیٰ نے صرف اہل اسلام کے لیے بنایا ہے لہذا جو شخص نماز جمعہ کے لیے آئے وہ غسل کرے اور خوشبو موجود ہو تو ضرور لگائے اور تمہارے اوپر مسواک کرنا لازم ہے۔ “
(ابن ماجه: 1098 وصححه الألباني)

حدیث نمبر 12 : جمعہ خیر و برکت کا خصوصی تحفہ

عن أنس بن مالك رضى الله عنه قال عرضت الجمعة على رسول الله صلى الله عليه وسلم جاءه بها جبريل عليه السلام فى كفة كالمرآة البيضاء فى وسطها كالنكتة السوداء فقال ما هذه يا جبريل قال هذه الجمعة يعرضها عليك ربك لتكون لك عيدا ولقومك من بعدك ولكم فيها خير
”خادم رسول صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جمعہ پیش کیا گیا جبریل علیہ السلام لے کر آئے اپنے ہاتھ میں ایک سفید شیشہ کی مانند جس کے درمیان میں ایک سیاہ نکتہ تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبریل علیہ السلام سے پوچھا جبریل علیہ السلام یہ کیا ہے؟ جبریل علیہ السلام نے جواب دیا کہ یہ جمعہ المبارک ہے جو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رب نے آپ کو عطا فرمایا ہے تاکہ آپ کے لیے اور آپ کی امت کے لیے عید ہو اور تمہارے لیے اس میں بھلائی ہے۔ “
(الترغیب والترهیب ص 489، جلد 1)

حدیث نمبر 13 : جمعہ ادا کرنے والوں کا قیامت کے دن مقام و مرتبہ

عن أبى موسى الأشعري رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: تحشر الأيام يوم القيامة على هيئتها وتحشر الجمعة زهراء منيرة أهلها يحضون بها كالعروس تهدى إلى خدرها تضيء لهم يمشون فى ضوئها ألوانهم كالثلج بياضا وريحهم كالمسك يحوضون فى حبال الكافور ينظر إليهم الثقلان لا يطرفون تعجبا حتى يدخلون الجنة لا يحاط بهم أحد إلا المؤذنون المحتسبون
”سیدنا حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تمام دنوں کو (قیامت کے دن) لایا جائے گا جب کہ جمعہ سنہری چمک دار شکل میں لایا جائے گا۔ جمعہ والے اس کے ساتھ ایسے لپٹے ہوں گے جیسے دلہن کو اس کی پالکی کی طرف لایا جاتا ہے (جمعہ) ان کے لیے روشنی کرے گا جس میں وہ چلیں گے ان کے رنگ برف کی طرح سفید اور ان کی خوشبو کستوری جیسی ہوگی وہ کافور کے پہاڑ میں داخل ہو جائیں گے۔ جن و انس ان کی طرف دیکھتے رہ جائیں گے پلکیں بھی نہیں جھپکیں گے اور وہ جنت میں داخل ہو جائیں گے ان کے ساتھ ثواب کی خاطر اذان کہنے والوں کے علاوہ کوئی شخص شامل نہیں ہو گا۔“
(المتحیر الرابح فی ثواب العمل الصالح جلد 1، حدیث 418)

ابو موسیٰ الاشعری رضی اللہ عنہ:

”سیدنا ابو موسیٰ کا نام عبد اللہ ہے اور ان کے والد کا نام قیس ہے مکہ میں آکر اسلام قبول کیا۔ حبشہ کی طرف ہجرت کی خیبر کے سال اصحاب سفینہ کے ساتھ مدینہ منورہ تشریف لائے۔ سن 20 ہجری میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو بصرہ کا حاکم مقرر کیا اور خلافت عثمانی کے ابتدائی دور تک کوفہ میں حاکم رہے۔ بعد ازاں کوفہ منتقل ہو گئے۔ شہادت عثمان رضی اللہ عنہ تک کوفہ کے گورنر رہے سن 50 ہجری میں وفات پائی۔“
سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کی 760 احادیث کتب حدیث کی زینت ہیں، جن میں 50 متفق علیہ ہیں 4 حدیثوں میں امام بخاری منفرد ہیں 25 احادیث میں امام مسلم منفرد ہیں۔

حدیث نمبر 14 : جمعہ کے لیے چل کر جانا عمل جہاد کی طرح ہے

عن عباية بن رفاعة أدركني أبو عبس وأنا أذهب إلى الجمعة فقال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول من اغبرت قدماه فى سبيل الله حرمه الله على النار
”سیدنا حضرت عبایہ بن رفاعہ بیان کرتے ہیں کہ میں جمعہ کے لیے جا رہا تھا تو راستہ میں مجھے ابو عبس رضی اللہ عنہ ملے انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص کے دونوں قدم اللہ کے راستہ میں خاک سے الودہ ہوئے اللہ تعالیٰ ان کو جہنم کی آگ پر حرام کر دے گا۔“
(صحیح بخاری حدیث نمبر907، داراسلام)

حدیث نمبر 15 : جمعہ گناہوں کے کفارہ کا سبب

عن أبى هريرة رضى الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: الصلوات الخمس والجمعة إلى الجمعة ورمضان إلى رمضان مكفرات لما بينهن إذا اجتنب الكبائر وفي رواية الجمعة كفارة لما بينها وبين الجمعة التى تليها وزيادة لثلاثة أيام وذلك بأن الله عز وجل قال من جاء بالحسنة فله عشر أمثالها
”سیدنا ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں پانچ نمازیں ایک جمعہ سے دوسرا جمعہ ایک رمضان سے دوسرا رمضان گناہوں کا کفارہ ہوتے ہیں اگر کبیرہ گناہوں سے اجتناب کیا جائے اور ایک دوسری روایت میں ہے۔“
”جمعہ کفارہ ہوتا ہے پہلے جمعہ اور دوسرے جمعہ کے درمیانہ وقفہ کے لیے اور مزید تین دن کا (یعنی گیارہ دنوں کا کفارہ ہوتا ہے)۔ مالک کائنات کا فرمان ہے جو ایک نیکی کرے اس کی مثال دس نیکوں کے ساتھ ہے۔ “
(صحیح الترغیب والترهیب حدیث نمبر684، مطبع المعارف الرباض)

حدیث نمبر 16 : جمعہ جنت میں داخلہ کا سبب

عن أبى سعيد أنه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: خمس من عملهن فى يوم كتبه الله من أهل الجنة من عاد مريضا وشهد جنازة وصام يوما وراح إلى الجمعة واعتق رقبة
”سیدنا ابی سعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا جو شخص ایک دن میں پانچ کام کرے گا اللہ تعالیٰ اس کو جنتیوں میں لکھ دیتے ہیں۔“
① جس نے مریض کی عیادت کی۔
② اور جنازہ میں شرکت کی۔
③ روزہ رکھا۔
④ جمعہ کے لیے پیدل چل کر گیا۔
⑤ اور کسی اسیر کو آزاد کرا دیا۔
(صحیح الترغیب والترهیب: 686)

حدیث نمبر 17 : جمعہ میں تاخیر سے آنے والا جنت میں تاخیر سے جائے گا۔

عن سمرة رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أحضروا الجمعة وادنوا من الإمام فإن الرجل ليكون من أهل الجنة فيتأخر فيؤخر عن الجنة وإنه لمن أهلها
”سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جمعہ میں حاضری دو اور امام کے قریب بیٹھو یقیناً ایسا آدمی اہل جنت سے ہوگا اور بشخص جمعہ سے لیٹ ہوتا ہے جنت میں بھی پیچھے رہتا ہے۔“
(صحیح الترغیب والترهیب: 713)

سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ :

سیدنا سمرہ بن جندب الفزاری رضی اللہ عنہ قبیلہ انصاری کے حریف تھے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی خلافت میں سن 58 ہجری بصرہ میں وفات پائی۔
123 احادیث کے راوی ہیں جن میں دو حدیثیں متفق علیہ ہیں 2 حدیثوں میں امام بخاری منفرد ہیں اور 4 حدیثوں میں امام مسلم منفرد ہیں۔

حدیث نمبر 18 : جمعہ کی رات یا دن میں سورۃ کہف تلاوت کی فضیلت

عن أبى سعيد الخدري رضى الله عنه أن النبى صلى الله عليه وسلم قال: من قرأ سورة الكهف فى يوم الجمعة أضاء له من النور ما بين الجمعتين
”سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رؤف الرحیم امام کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس نے جمعہ کے دن سورۃ کہف کی تلاوت کی اس کے لیے ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک نور پھوٹے گا۔“
(سنن نسائی، بیہقی، مستدرك حاکم بحوالہ صحیح الترغیب والترهیب للالبانی: 736 جلد 1 ص 455)
ایک روایت میں ہے حضرت ابوسعید سے موقوفاً مروی ہے:
وفي رواية من قرأ سورة الكهف ليلة الجمعة أضاء له من النور ما بينه وبين البيت العتيق
”کہ جس نے جمعہ کی رات سورہ کہف کی تلاوت کی اس کے لیے بیت العتیق تک نور ہوگا۔ “
(مسند دارمی بحوالہ مذکورہ صحیح الترغیب والترهیب)
اور یہ بھی وارد ہے کہ جو شخص جمعہ کے دن سورہ الکہف کی تلاوت کرتا ہے تو اس کے ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک اور تین دن کے مزید اس کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں اور اس کو نور عطا کیا جاتا ہے جو آسمان تک پہنچتا ہے۔ اور اس کو دجال کے فتنہ سے محفوظ رکھا جاتا ہے۔

حدیث نمبر 19:

جو شخص جمعہ کی رات کو سورۃ البقرہ اور آل عمران کی تلاوت کرے گا اس کو ساتویں زمین سے لے کر ساتویں آسمان تک اجر بھرپور ملتا ہے۔ (رواہ الاصبہانی)

حدیث نمبر 20:

ایک روایت میں ہے کہ جس نے جمعہ کے دن سورۃ آل عمران کی تلاوت کی تو شام تک اللہ تعالیٰ اس پر اپنی رحمت کا نزول عام فرماتے ہیں اور فرشتے رحمت کی دعائیں کرتے ہیں۔ (طبرانی)

حدیث نمبر 21:

ایک حدیث میں ہے کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جمعہ کے دن سورۃ ہود کی تلاوت کرو۔

حدیث نمبر 22:

الاصبہانی کی روایت ہے کہ جس نے جمعہ کی رات سورہ یسین پڑھی وہ بخشا جائے گا۔ (الاصبہانی)

حدیث نمبر 23:

سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ ہر جمعہ کو سورہ یسین پڑھا کرتے تھے۔

حدیث نمبر 24:

ابن ابی شیبہ میں ہے سیدنا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا جس نے جمعہ کی رات سورۃ الفاتحہ، الاخلاص اور معوذتین سات سات بار پڑھیں وہ آئندہ جمعہ تک گناہوں سے محفوظ رکھا جائے گا۔ جمعہ والے دن سورہ کہف کے علاوہ باقی سورتوں کے بارے میں وارد احادیث ضعیف ہیں۔
(دیکھیے: ضعیف الترغیب، البانی جلد 1 ص 232، 233 واللہ اعلم از مرتب)

حدیث نمبر 25 : جمعہ میں حاضری سے قربانی کا ثواب

عن أبى هريرة رضى الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: من اغتسل يوم الجمعة غسل الجنابة ثم راح فكأنما قرب بدنة، ومن راح فى الساعة الثانية فكأنما قرب بقرة، ومن راح فى الساعة الثالثة فكأنما قرب كبشا أقرن، ومن راح فى الساعة الرابعة فكأنما قرب دجاجة ومن راح فى الساعة الخامسة فكأنما قرب بيضة فإذا خرج الإمام حضرت الملائكة يستمعون الذكر
”سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس نے جمعہ کے دن غسل جنابت جیسا غسل کیا پھر نماز جمعہ کے لیے مسجد میں چلا گیا تو اس نے گویا ایک اونٹ کی قربانی کی اور جو آدمی دوسری ساعۃ میں گیا اس نے گویا کہ ایک گائے قربان کی اور جو تیسری گھڑی میں پہنچا اس نے گویا سینگوں والا ایک مینڈھا قربان کیا اور جو چوتھی گھڑی میں گیا اس نے گویا ایک مرغی قربان کی اور جو پانچویں گھڑی میں گیا اس نے گویا کہ ایک انڈا صدقہ کیا پھر جب امام منبر کی طرف چل نکلے تو فرشتے (مسجد میں) حاضر ہو کر ذکر (خطبہ) سنتے ہیں۔“
(صحیح بخاری: 881، صحیح مسلم: 850، مؤطا امام مالک: 85-84، مطبع نور اصح المطابع کراچی )

فائدہ:

نیکی کے حصول میں ایک دوسرے سے سبقت کرنی چاہیے لہذا ہمیں بھی اونٹ کی قربانی کا اجر حاصل کرنے کے لیے اول وقت میں جمعہ کے لیے مسجد میں پہنچنے کی بھرپور کوشش کرنی چاہیے تاکہ فرشتوں سے دعائیں حاصل کر سکیں۔
الحاصل: جمعۃ المبارک کی پہلی فضیلت کیا کچھ کم ہے! کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں پوری ایک سورۃ ”سورۃ الجمعہ“ کے نام سے نازل فرمائی ہے جو اٹھائیسویں پارہ کا حصہ ہے۔ جو اس دن کی عظمت اور شان کا پتہ دیتی ہے۔

حدیث نمبر 26 : جمعہ اول وقت پر پڑھنے والے کستوری کے ٹیلوں پر ہونگے

اللہ تعالیٰ کی جمعہ کے روز جنت میں زیارت سے متعلق امام آجری رحمہ اللہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث نقل کی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن أهل الجنة يرون ربهم تعالى فى كل يوم الجمعة فى رمال الكافور وأقربهم منه مجلسا أسرعهم إليه يوم الجمعة وأبكرهم غدوا
”جنتی اپنے رب تبارک و تعالیٰ کی ہر جمعہ کے دن کافور کے ٹیلے پر زیارت کریں گے اور ان میں سے اللہ تعالیٰ کے زیادہ قریب بیٹھنے والے وہ لوگ ہوں گے جو جمعہ کے دن جمعہ کے لیے جلدی کرتے تھے اور صبح سے ہی جمعہ کے لیے پہنچ جاتے تھے۔ “
(الابانة الكبرى لابن بطة: 2479، و حدیث 614)

حدیث نمبر 27 : جمعہ کے دن جنت میں دیدار الہی

اللہ تعالیٰ کے قول (ولدينا مزيد) یعنی ہمارے پاس ایسی نعمتیں بھی ہیں جن کی طرف انسان کا وہم و خیال بھی نہیں ہو سکتا اس سے مراد یہ ہے کہ ہر جمعہ کے روز اللہ تعالیٰ کی زیارت کی نعمت حاصل ہوگی۔ اور اللہ تعالیٰ کی زیارت سب نعمتوں سے بڑھ کر ہے۔
(معارف القرآن جلد 4، صفحه نمبر 530)

حدیث نمبر 28 : جمعہ کے دن اعمال کی پیشی

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں یہ الفاظ بھی وارد ہیں۔
إن الأعمال تعرض يوم الخميس ويوم الجمعة فيغفر لكل عبد لا يشرك بالله شيئا إلا رجلين فإنه يقول أخروا هذين حتى يصطلحا
”جمعرات اور جمعہ کے دن اعمال پیش کیے جاتے ہیں اور ہر ایسے مومن بندے کی مغفرت کر دی جاتی ہے جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک نہیں کرتا مگر دو (نزاع رکھنے والے) آدمیوں کی مغفرت نہیں کی جاتی اللہ تعالیٰ ان کے بارے میں فرماتے ہیں کہ انہیں رہنے دو یہاں تک کہ یہ صلح کر لیں۔ “
(کنز العمال جلد 3 صفحه 465، حدیث نمبر 7456)
اللهم صل على محمد وعلى آل محمد كما صليت على إبراهيم وعلى آل إبراهيم إنك حميد مجيد اللهم بارك على محمد وعلى آل محمد كما باركت على إبراهيم وعلى آل إبراهيم إنك حميد مجيد