یومِ جمعہ کی فضیلت، احکام اور مسنون اعمال: قرآن و حدیث کی روشنی میں
ماخذ: خطبات حافظ محمد اسحاق زاہد، مرتب کردہ: توحید ڈاٹ کام
مضمون کے اہم نکات

زیرِ نظر مضمون یومِ جمعہ کی عظمت، فضیلت، اس کے شرعی احکام اور آداب پر مشتمل ہے۔ اس مضمون کا مقصد یہ ہے کہ قرآنِ مجید اور صحیح احادیثِ نبویہ کی روشنی میں مسلمانوں کے سامنے یومِ جمعہ کی اہمیت واضح کی جائے، نمازِ جمعہ کی فرضیت، اس کے ترک پر وعید، اور اس دن سے متعلق مسنون اعمال کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا جائے، تاکہ مسلمان اس عظیم دن کی برکات سے صحیح معنوں میں فائدہ اٹھا سکیں اور سنتِ نبویہ کے مطابق اپنی عبادات کو سنوار سکیں۔

یومِ جمعہ کی اہمیت و فضیلت

یومِ جمعہ ہفتے کے تمام دنوں میں سب سے افضل دن ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی خاص رحمت سے امتِ محمدیہ کو اس دن کی طرف راہنمائی فرمائی، جبکہ پچھلی امتیں اس نعمت سے محروم رہیں۔ یہ دن اللہ تعالیٰ کے خصوصی فضل، عظیم واقعات اور بڑے انعامات کا حامل ہے۔

حدیثِ رسول ﷺ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(( نَحْنُ الْآخِرُوْنَ السَّابِقُوْنَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ … ))
صحیح البخاری: 3486، صحیح مسلم: 855
ترجمہ:
ہم دنیا میں آنے کے اعتبار سے سب سے آخر ہیں، لیکن قیامت کے دن سب سے آگے ہوں گے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم سے پہلے لوگوں کو کتاب دی گئی اور ہمیں ان کے بعد دی گئی۔ یہ جمعہ کا دن ان پر فرض کیا گیا تھا مگر وہ اس میں اختلاف کر بیٹھے، تو اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس دن کی طرف ہدایت دی۔ لہٰذا یہودی (اپنی عید کے اعتبار سے) ہفتہ کے دن اور نصاریٰ اتوار کے دن ہوں گے۔

حدیثِ رسول ﷺ

ایک اور روایت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(( أَضَلَّ اللّٰہُ عَنِ الْجُمُعَۃِ مَنْ کَانَ قَبْلَنَا … ))
صحیح مسلم: 856
ترجمہ:
اللہ تعالیٰ نے ہم سے پہلے لوگوں کو جمعہ کے دن سے محروم رکھا، چنانچہ یہودیوں کیلئے ہفتہ اور نصاریٰ کیلئے اتوار کا دن مقرر ہوا۔ پھر اللہ تعالیٰ ہمیں لے آیا اور ہمیں جمعہ کے دن کی ہدایت دی۔ اس طرح جمعہ، پھر ہفتہ اور پھر اتوار مقرر ہوا۔ قیامت کے دن بھی وہ ہمارے پیچھے ہوں گے۔ ہم دنیا میں آخر میں ہیں لیکن قیامت کے دن سب سے پہلے حساب لینے والے ہوں گے۔

یومِ جمعہ: تمام دنوں میں سب سے افضل

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یومِ جمعہ کو تمام دنوں میں سب سے افضل قرار دیا ہے۔

حدیثِ رسول ﷺ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(( خَیْرُ یَوْمٍ طَلَعَتْ عَلَیْہِ الشَّمْسُ یَوْمُ الْجُمُعَۃِ … ))
صحیح مسلم: 854
ترجمہ:
سورج کے طلوع ہونے والے دنوں میں سب سے بہترین دن جمعہ کا دن ہے۔ اسی دن حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کیا گیا، اسی دن جنت میں داخل کیا گیا، اور اسی دن جنت سے نکالا گیا۔ قیامت بھی جمعہ کے دن ہی قائم ہو گی۔

حدیثِ رسول ﷺ

ایک اور حدیث میں ہے:

(( خَیْرُ یَوْمٍ طَلَعَتْ فِیْہِ الشَّمْسُ یَوْمُ الْجُمُعَۃِ … ))
سنن ابی داؤد: 1046، وصححہ الالبانی
ترجمہ:
جمعہ کا دن سب سے بہترین دن ہے۔ اسی دن حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کیا گیا، زمین پر اتارا گیا، ان کی توبہ قبول کی گئی، اور اسی دن ان کا انتقال ہوا۔ اسی دن قیامت قائم ہو گی۔ ہر جانور جمعہ کے دن صبح سے سورج نکلنے تک قیامت کے خوف سے لرزاں رہتا ہے، سوائے جن و انس کے۔ اور اس دن ایک ایسی گھڑی ہے کہ اگر کوئی مسلمان بندہ نماز کی حالت میں اللہ سے دعا کرے تو اللہ تعالیٰ اس کی دعا قبول فرما لیتا ہے۔

یومِ جمعہ: عید کا دن

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(( إِنَّ ہٰذَا یَوْمُ عِیْدٍ جَعَلَہُ اللّٰہُ لِلْمُسْلِمِیْنَ … ))
سنن ابن ماجہ: 1098، وصححہ الالبانی
ترجمہ:
بے شک یہ دن عید کا دن ہے جسے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کیلئے مقرر فرمایا ہے۔ لہٰذا جو شخص جمعہ کیلئے آئے وہ غسل کرے، اگر خوشبو میسر ہو تو لگائے اور مسواک کا اہتمام کرے۔

یہ تمام احادیث اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ یومِ جمعہ نہ صرف عبادت کا دن ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے امتِ محمدیہ کیلئے ایک عظیم نعمت، روحانی عید اور خصوصی انعامات کا دن ہے۔

نمازِ جمعہ کی فرضیت اور اس کی تاکید

یومِ جمعہ کا سب سے بڑا اور اہم فریضہ نمازِ جمعہ ہے۔ یہ ہر اُس مسلمان مرد پر فرضِ عین ہے جو عاقل، بالغ، مقیم اور اس کی ادائیگی پر قادر ہو۔ قرآنِ مجید اور احادیثِ صحیحہ دونوں سے اس کی فرضیت واضح طور پر ثابت ہے۔

قرآنِ مجید کی دلیل

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا إِذَا نُوْدِیَ لِلصَّلَاۃِ مِنْ یَّوْمِ الْجُمُعَۃِ فَاسْعَوْا إِلٰی ذِکْرِ اللّٰہِ وَذَرُوْا الْبَیْعَ ذٰلِکُمْ خَیْرٌ لَّکُمْ إِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ﴾
سورۃ الجمعۃ: 9
ترجمہ:
اے ایمان والو! جب جمعہ کے دن نماز کیلئے اذان دی جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف دوڑ پڑو اور خرید و فروخت چھوڑ دو، اگر تم سمجھ رکھتے ہو تو یہی تمہارے لئے بہتر ہے۔

اس آیتِ کریمہ میں واضح حکم دیا گیا ہے کہ اذانِ جمعہ کے بعد ہر قسم کی خرید و فروخت ترک کرکے نمازِ جمعہ کیلئے حاضر ہونا واجب ہے، جس سے نمازِ جمعہ کی فرضیت اور اس کی اہمیت پوری طرح واضح ہو جاتی ہے۔

حدیثِ رسول ﷺ

حضرت طارق بن شہاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(( اَلْجُمُعَۃُ حَقٌّ وَاجِبٌ عَلٰی کُلِّ مُسْلِمٍ فِیْ جَمَاعَۃٍ إِلَّا أَرْبَعَۃً … ))
سنن ابی داؤد: 1067، وصححہ الالبانی
ترجمہ:
نمازِ جمعہ باجماعت ہر مسلمان پر حق اور واجب ہے، سوائے چار افراد کے: غلام، عورت، بچہ اور مریض۔

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نمازِ جمعہ:
❀ فرض ہے
❀ جماعت کے ساتھ ادا کی جائے گی
❀ بعض افراد (عورت، بچہ، مریض، غلام) اس سے مستثنیٰ ہیں

اسی طرح مسافر پر بھی نمازِ جمعہ فرض نہیں، اور اس پر امت کا اجماع ہے۔

نمازِ جمعہ چھوڑنے پر سخت وعید

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بغیر شرعی عذر کے نمازِ جمعہ چھوڑنے والوں کیلئے سخت وعید بیان فرمائی ہے۔

حدیثِ رسول ﷺ

حضرت ابو الجعد الضمری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(( مَنْ تَرَکَ ثَلَاثَ جُمَعٍ تَہَاوُنًا بِہَا طَبَعَ اللّٰہُ عَلٰی قَلْبِہٖ ))
سنن ابی داؤد: 1052، وصححہ الالبانی
ترجمہ:
جو شخص سستی اور لاپرواہی کی وجہ سے تین جمعے چھوڑ دے، اللہ تعالیٰ اس کے دل پر مہر لگا دیتا ہے۔

حضرت ابن عمر اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(( لَیَنْتَہِیَنَّ أَقْوَامٌ عَنْ وَدْعِہِمُ الْجُمُعَاتِ أَوْ لَیَخْتِمَنَّ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوْبِہِمْ … ))
صحیح مسلم: 865
ترجمہ:
لوگ نمازِ جمعہ چھوڑنے سے باز آ جائیں، ورنہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں پر مہر لگا دے گا، پھر وہ غافلوں میں سے ہو جائیں گے۔

انتہائی سخت وعید

حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(( لَقَدْ ہَمَمْتُ أَنْ آمُرَ رَجُلًا یُّصَلِّیْ بِالنَّاسِ … ))
صحیح مسلم: 652
ترجمہ:
میرا دل چاہتا ہے کہ میں کسی شخص کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے، پھر میں ان لوگوں کے گھروں کو آگ لگا دوں جو نمازِ جمعہ میں حاضر نہیں ہوتے۔

یہ تمام احادیث واضح کرتی ہیں کہ نمازِ جمعہ کا ترک معمولی گناہ نہیں بلکہ ایمان کیلئے خطرہ بن سکتا ہے۔

نمازِ جمعہ باجماعت کی شرط

ان احادیث سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ:

◈ نمازِ جمعہ انفرادی طور پر ادا کرنا درست نہیں
◈ اگر کسی کی نمازِ جمعہ فوت ہو جائے تو وہ چار رکعات ظہر ادا کرے گا

آدابِ جمعہ (ابتدائی)

➊ غسلِ جمعہ

یومِ جمعہ کے آداب میں سب سے اہم ادب غسلِ جمعہ ہے۔

حدیثِ رسول ﷺ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

(( إِذَا أَرَادَ أَحَدُکُمْ أَنْ یَّأْتِیَ الْجُمُعَۃَ فَلْیَغْتَسِلْ ))
صحیح البخاری: 877، صحیح مسلم: 844
ترجمہ:
جب تم میں سے کوئی شخص جمعہ کیلئے آنے کا ارادہ کرے تو اسے چاہئے کہ غسل کرے۔

اور حضرت ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

(( غُسْلُ یَوْمِ الْجُمُعَۃِ وَاجِبٌ عَلٰی کُلِّ مُحْتَلِمٍ ))
صحیح البخاری: 879، صحیح مسلم: 846
ترجمہ:
جمعہ کے دن غسل کرنا ہر بالغ پر واجب ہے۔

بقیہ آدابِ جمعہ

➋ خوشبو لگانا اور بہترین لباس پہننا

یومِ جمعہ کے آداب میں خوشبو لگانا اور صاف ستھرے، اچھے کپڑے پہننا بھی شامل ہے، تاکہ مسجد میں آنے والوں کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو اور اجتماع خوشگوار رہے۔

حدیثِ رسول ﷺ

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(( لَا یَغْتَسِلُ رَجُلٌ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ، وَیَتَطَہَّرُ مَا اسْتَطَاعَ مِنْ طُہْرٍ، وَیَدَّہِنُ مِنْ دُہْنِہٖ، أَوْ یَمَسُّ مِنْ طِیْبِ بَیْتِہٖ … ))
صحیح البخاری: 883
ترجمہ:
جو شخص جمعہ کے دن غسل کرے، حسبِ استطاعت پاکیزگی اختیار کرے، تیل لگائے یا اپنے گھر کی خوشبو استعمال کرے، پھر مسجد جائے اور دو آدمیوں کے درمیان تفریق نہ کرے، پھر جتنی نماز اس کے مقدر میں ہو ادا کرے، اور جب امام خطبہ دے تو خاموشی اختیار کرے، تو اس کے ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک کے گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں۔

➌ گردنیں نہ پھلانگنا

مسجد میں پہلے سے بیٹھے ہوئے لوگوں کی گردنیں پھلانگ کر آگے جانا سخت ناپسندیدہ عمل ہے اور اس سے دوسروں کو اذیت پہنچتی ہے، جس سے جمعہ کا اجر ضائع ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے۔

خطبۂ جمعہ کے دوران خاموشی کی تاکید

خطبۂ جمعہ کے دوران مکمل خاموشی اختیار کرنا واجب ہے، حتیٰ کہ کسی کو خاموش رہنے کا کہنا بھی لغو شمار کیا گیا ہے۔

حدیثِ رسول ﷺ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(( إِذَا قُلْتَ لِصَاحِبِکَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ أَنْصِتْ وَالْإِمَامُ یَخْطُبُ فَقَدْ لَغَوْتَ ))
صحیح البخاری: 934، صحیح مسلم: 851
ترجمہ:
اگر تم نے جمعہ کے دن خطبہ کے دوران اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے شخص سے کہا کہ خاموش رہو، تو تم نے لغو حرکت کی۔

لغو حرکت کا انجام

حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(( مَنْ لَغَا وَتَخَطَّی رِقَابَ النَّاسِ کَانَتْ لَہُ ظُہْرًا ))
سنن ابی داؤد: 347، وصححہ الالبانی
ترجمہ:
جس شخص نے لغو حرکت کی اور لوگوں کی گردنیں پھلانگیں، اس کا جمعہ نمازِ ظہر شمار ہو گا۔

جمعہ کیلئے جلدی آنے کی فضیلت

یومِ جمعہ مسجد میں جلدی پہنچنا بڑی فضیلت کا باعث ہے۔

حدیثِ رسول ﷺ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(( مَنِ اغْتَسَلَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ غُسْلَ الْجَنَابَۃِ، ثُمَّ رَاحَ … ))
صحیح البخاری: 881، صحیح مسلم: 850
ترجمہ:
جو شخص جمعہ کے دن غسلِ جنابت جیسا غسل کرے، پھر پہلی گھڑی میں مسجد جائے تو گویا اس نے ایک اونٹ قربان کیا، دوسری گھڑی میں جائے تو گویا گائے قربان کی، تیسری میں جائے تو سینگوں والا مینڈھا، چوتھی میں مرغی اور پانچویں میں انڈا قربان کرنے کے برابر ثواب پاتا ہے۔ جب امام نکلتا ہے تو فرشتے خطبہ سننے کیلئے حاضر ہو جاتے ہیں۔

فرشتوں کے رجسٹر

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

(( إِذَا کَانَ یَوْمُ الْجُمُعَۃِ کَانَ عَلٰی کُلِّ بَابٍ مِنْ أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ الْمَلَائِکَۃُ … ))
صحیح البخاری: 929، صحیح مسلم: 850
ترجمہ:
جمعہ کے دن مسجد کے ہر دروازے پر فرشتے کھڑے ہوتے ہیں، جو آنے والوں کے نام باری باری لکھتے ہیں، اور جب امام بیٹھ جاتا ہے تو وہ صحیفے لپیٹ کر خطبہ سننے آ جاتے ہیں۔

تحیۃ المسجد کا حکم

نمازِ جمعہ کیلئے مسجد میں داخل ہوتے ہی دو رکعت تحیۃ المسجد پڑھنا ضروری ہے، چاہے خطبہ شروع ہو چکا ہو۔

حدیثِ رسول ﷺ

حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

(( دَخَلَ رَجُلٌ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَالنَّبِیُّ ﷺ یَخْطُبُ … ))
صحیح البخاری: 931، صحیح مسلم: 875
ترجمہ:
ایک شخص جمعہ کے دن مسجد میں داخل ہوا جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تم نے نماز پڑھی؟ اس نے کہا: نہیں۔ فرمایا: دو رکعت نماز پڑھو۔

جمعہ کے دن دعا کی قبولیت کی مبارک گھڑی

یومِ جمعہ کی ایک عظیم خصوصیت یہ ہے کہ اس دن ایک ایسی مبارک گھڑی آتی ہے جس میں مانگی جانے والی دعا رد نہیں کی جاتی۔

حدیثِ رسول ﷺ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یومِ جمعہ کا ذکر کیا اور فرمایا:

(( فِیْہِ سَاعَۃٌ لَا یُوَافِقُہَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ وَہُوَ قَائِمٌ یُّصَلِّیْ یَسْأَلُ اللّٰہَ تَعَالٰی شَیْئًا إِلَّا أَعْطَاہُ إِیَّاہُ ))
صحیح البخاری: 935، صحیح مسلم: 852
ترجمہ:
جمعہ کے دن ایک ایسی گھڑی ہے کہ اگر کوئی مسلمان بندہ نماز کی حالت میں اللہ تعالیٰ سے کسی چیز کا سوال کرے تو اللہ تعالیٰ اسے وہ چیز عطا فرما دیتا ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ کے اشارے سے واضح فرمایا کہ یہ گھڑی بہت مختصر ہوتی ہے۔

وہ مبارک گھڑی کون سی ہے؟

اس بارے میں مختلف صحیح احادیث وارد ہوئی ہیں:

پہلی روایت

حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(( ہِیَ مَا بَیْنَ أَنْ یَّجْلِسَ الْإِمَامُ إِلٰی أَنْ تُقْضَی الصَّلَاۃُ ))
صحیح مسلم: 853
ترجمہ:
وہ گھڑی امام کے منبر پر بیٹھنے سے لے کر نماز کے ختم ہونے تک کے درمیانی وقت میں ہوتی ہے۔

دوسری روایت

حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(( فَالْتَمِسُوْہَا آخِرَ سَاعَۃٍ بَعْدَ الْعَصْرِ ))
سنن ابی داؤد: 1048، وصححہ الالبانی
ترجمہ:
اس گھڑی کو عصر کے بعد دن کی آخری گھڑی میں تلاش کرو۔

حضرت عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کی روایت

(( ہِیَ آخِرُ سَاعَۃٍ مِنْ سَاعَاتِ النَّہَارِ ))
سنن ابن ماجہ: 1139، وصححہ الالبانی
ترجمہ:
وہ دن کی گھڑیوں میں سے آخری گھڑی ہے۔

صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا بھی اس بات پر اتفاق تھا کہ یہ گھڑی جمعہ کے دن آخری وقت میں ہوتی ہے۔
زاد المعاد: 1/379

علماء کی آراء

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس مسئلے میں چالیس اقوال ذکر کئے ہیں۔
فتح الباری

امام ابن القیم رحمہ اللہ نے دو اقوال کو راجح قرار دیا:

➊ امام کے منبر پر بیٹھنے سے نماز کے اختتام تک
➋ عصر کے بعد دن کی آخری گھڑی

اور دوسرے قول کو زیادہ راجح قرار دیا۔
زاد المعاد: 1/378

لہٰذا ان دونوں اوقات میں خصوصی طور پر دعا کا اہتمام کرنا چاہئے۔

نمازِ جمعہ کے بعد سنت نماز

نمازِ جمعہ سے پہلے کوئی سنت مؤکدہ ثابت نہیں، البتہ بعد میں سنتیں ادا کرنا ثابت ہے۔

رسول اللہ ﷺ کا عمل

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

(( وَکَانَ لَا یُصَلِّیْ بَعْدَ الْجُمُعَۃِ حَتّٰی یَنْصَرِفَ فَیُصَلِّیْ رَکْعَتَیْنِ ))
صحیح البخاری: 937، صحیح مسلم: 882
ترجمہ:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نمازِ جمعہ کے بعد مسجد میں کوئی نماز ادا نہیں کرتے تھے، بلکہ گھر جا کر دو رکعات پڑھتے تھے۔

امت کیلئے حکم

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(( مَنْ کَانَ مِنْکُمْ مُصَلِّیًا بَعْدَ الْجُمُعَۃِ فَلْیُصَلِّ أَرْبَعًا ))
صحیح مسلم: 881
ترجمہ:
تم میں سے جو شخص جمعہ کے بعد نماز پڑھنا چاہے وہ چار رکعات ادا کرے۔

ایک روایت میں ہے کہ اگر جلدی ہو تو دو رکعات مسجد میں اور دو گھر جا کر پڑھ لے۔
صحیح مسلم: 881

ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ:

❀ مسجد میں چار رکعات پڑھنا جائز ہے
❀ یا دو مسجد میں اور دو گھر میں
❀ یا صرف گھر جا کر دو رکعات پڑھنا بھی سنت ہے

نمازِ جمعہ پانے کا طریقہ

نمازِ جمعہ پانے کیلئے ضروری ہے کہ امام کے ساتھ کم از کم ایک رکعت مل جائے۔

حدیثِ رسول ﷺ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

(( مَنْ أَدْرَکَ مِنَ الْجُمُعَۃِ رَکْعَۃً فَلْیُصَلِّ إِلَیْہَا أُخْرٰی ))
سنن ابن ماجہ: 1121، وصححہ الالبانی
ترجمہ:
جو شخص نمازِ جمعہ کی ایک رکعت پا لے وہ اس کے ساتھ ایک اور رکعت ملا لے۔

اگر دوسری رکعت کے رکوع کے بعد شامل ہو تو جمعہ فوت ہو جائے گا اور چار رکعات ظہر ادا کرنا ہوں گی۔

نتیجہ

جو مسلمان یومِ جمعہ کے فضائل کو سمجھ کر نمازِ جمعہ کی پابندی کرتا ہے، غسل، خوشبو، بروقت مسجد آنا، خاموشی سے خطبہ سننا، اور دعا و درود کا اہتمام کرتا ہے، وہ دنیا و آخرت کی عظیم بھلائی حاصل کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں یومِ جمعہ کے حقوق ادا کرنے اور سنتِ نبویہ پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

یہ پوسٹ اپنے دوست احباب کیساتھ شئیر کریں

فیس بک
وٹس اپ
ٹویٹر ایکس
ای میل

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے