مضمون کے اہم نکات
سوال
کوئی بچہ مسلمان کے گھر میں اور کوئی ہندو کے گھر میں پیدا ہوتا ہے، تو پھر نتیجہ پر اعتراض کیوں؟
الجواب
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
یہ حقیقت ہے کہ اس سوال کا جواب تقدیر کے سوال میں پہلے ہی ذکر کیا جا چکا ہے۔ لہٰذا اس کو دوبارہ دہرانا محض بےفائدہ ہے۔ اگر آپ ذرا سا غور کریں تو وہی جواب یہاں بھی کافی ہے۔ بہرحال چونکہ آپ نے سوال کیا ہے تو کچھ وضاحت کرنا پڑ رہی ہے۔
سب انسان فطرتِ صحیحہ پر پیدا ہوتے ہیں
❀ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے ہر انسان کو صحیح اور سالم فطرت پر پیدا کیا ہے۔
❀ قرآن و حدیث میں بھی یہ بات بیان کی گئی ہے۔
❀ یہ کہ کوئی ہندو، مسلمان، عیسائی، یہودی، مجوسی یا دہریہ بن جاتا ہے، یہ سب انسان کے اپنے غلط استعمالِ اختیار کا نتیجہ ہے۔
❀ اس تقسیم کو اللہ کی طرف منسوب کرنا درست نہیں ہے۔
اگر سب کو مسلمان گھر میں پیدا کیا جاتا
❀ اگر اللہ تعالیٰ سب کو مسلمان گھرانوں میں ہی پیدا کرتا تو اس کا مطلب یہ ہوتا کہ انسان کو دیے گئے اختیار کو سلب کر لیا جاتا۔
❀ انسان محض ایک مشین یا بےاختیار مخلوق بن جاتا جیسے سورج، چاند اور ستارے اپنے مدار میں بغیر ارادہ و شعور کے گردش کرتے ہیں۔
❀ ایسی صورت میں انسان اشرف المخلوقات نہ کہلاتا، نہ ہی اس کو اعلیٰ درجے کا مقام ملتا۔
❀ انسان کی فضیلت اسی وقت ہے جب وہ اپنے ارادے اور اختیار سے اعلیٰ عمل کرے۔
امتحان گاہ میں انسان کا مقام
❀ دنیا انسان کے لیے امتحان گاہ ہے۔
❀ امتحان کے لیے ارادے کی آزادی ضروری ہے۔
❀ جب آزادی ہے تو لازمی طور پر مختلف راستے پیدا ہوں گے۔
❀ لہٰذا اس پر اعتراض بےمعنی ہے۔
عقل کا انعام
❀ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو عقل جیسی قیمتی نعمت عطا کی ہے۔
❀ بچہ جب تک نابالغ ہے تو اس پر کوئی شرعی حکم لاگو نہیں ہوتا۔
❀ لیکن بلوغت کے بعد جب عقل مکمل ہو جاتی ہے تو انسان چاہے تو اپنی عقل استعمال کر کے مسلمان ہو سکتا ہے۔
❀ ہم دیکھتے ہیں کہ کتنے ہی ہندو بلوغت کے بعد تحقیق اور قرآن و حدیث کا مطالعہ کر کے مسلمان ہو چکے ہیں۔
❀ انہوں نے اپنے ماحول اور مخالفتوں کے باوجود اسلام کو اپنایا اور ترک نہ کیا۔
ہندو گھر میں پیدا ہونا کوئی دلیل نہیں
❀ صرف ہندو گھر میں پیدا ہونا اسلام کے ترک کی حقیقی دلیل نہیں ہے۔
❀ قیامت کے دن کوئی بھی یہ نہیں کہہ سکے گا کہ "اے اللہ! تو نے مجھے ہندو کے گھر پیدا کیا تھا، میں مجبور تھا۔”
❀ اس وقت اللہ پوچھے گا:
◈ "کیا میں نے تجھے عقل جیسی عظیم نعمت نہیں دی تھی؟”
◈ "کیا تو نے عقل سے کام لے کر سیدھا راستہ اختیار نہیں کر سکتا تھا؟”
◈ "دنیاوی معاملات میں تو نے اپنے آباء و اجداد کی روایات چھوڑیں، تو پھر دین کے معاملے میں ایسا کیوں نہ کیا؟”
❀ اس کا کوئی جواب نہ دنیا میں موجود ہے اور نہ قیامت کے دن ہوگا۔
عقل کا استعمال ہدایت یا گمراہی کا ذریعہ
❀ حقیقت یہ ہے کہ ہندو گھر میں پیدا ہونے والے بچے عقل استعمال کر کے مسلمان ہو جاتے ہیں۔
❀ لیکن مسلمانوں کے گھروں میں پیدا ہونے والے کچھ بچے عقل استعمال نہ کرنے کی وجہ سے گمراہی اختیار کر لیتے ہیں۔
❀ اس سے واضح ہوتا ہے کہ صرف کسی گھر میں پیدا ہونا ہدایت یا گمراہی کے لیے کافی نہیں ہے۔
نتیجہ
یہ سوال دراصل سراسر بیہودگی، حماقت اور بےعقلی کا ثبوت ہے۔
مزید وضاحت کے لیے گزشتہ صفحات کا مطالعہ کیا جائے تو حقیقت بالکل واضح ہو جائے گی۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب