ہلالِ عید کے ثبوت میں گواہوں کی تعداد صحیح احادیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ محمد فاروق کی کتاب عیدین کے مسائل سے ماخوذ ہے۔

ہلال عید کے ثبوت کے لیے معتبر گواہ:۔

ہلال عید کے ثبوت کے لیے کتنے گواہوں کی شہادت معتبر ہے۔ اس بارے علماء کا اختلاف ہے۔ ذیل میں ہم اس مسئلہ کے دلائل، علماء کے اقوال اور راجح مسئلہ بیان کریں گے۔
➊ عبد الرحمن بن زید بن خطاب رحمہ اللہ نے شک کے روزہ کے دن لوگوں سے خطاب کیا کہ بلاشبہ میں نے اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس اختیار کی اور میں نے انھیں اس مسئلے کے بارے پوچھا تو انھوں نے مجھے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
صوموا لرؤيته، و أفطروا لرؤيته، وانسكوالها، فإن غم عليكم فأكملوا عدة ثلاثين، فإن شهد شاهدان فصوموا وأفطروا
”چاند دیکھ کر روزہ رکھو، اسے دیکھ کر روزہ چھوڑ و اور رویت ہلال سے عبادت کا وقت مقرر کرو، پھر اگر مطلع ابر آلود ہو تو مہینہ کے تیس دن مکمل کرو، پھر اگر دو گواہ رویت ہلال کی گواہی دیں تو ، اس گواہی پر ، تم روزہ رکھو اور روزہ ترک بھی کرو۔“
مسند أحمد: 321/4 ، سنن نسائی: 2118 ، إسناده حسن
➋ حسین بن حارث جدلی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ امیر مکہ (عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ) نے اپنے خطاب میں ارشاد کیا:
عهد إلينا رسول الله صلى الله عليه وسلم أن ننسك للرؤية، فإن لم نره وشهد شاهدا عدل نسكنا بشهادتهما
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس بات کا پابند کیا ہے کہ ہم چاند دیکھ کر عبادت (روزے اور عید) کا وقت مقرر کریں اور اگر ہم خود چاند نہ دیکھ پائیں اور دو عادل گواہ (چاند نظر آنے کی) گواہی دیں تو ان کی گواہی کے سبب ہم عبادت کا وقت مقرر کریں۔
سنن أبو داؤد، كتاب الصيام، باب شهادة رجلين على رؤية هلال شوال: 2338 ، سنن دار قطنی: 2171 ، سنن بیهقى: 248/4 – إسناد: حسن
➌ ربعی بن حراش رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا:
إختلف الناس فى آخر يوم من رمضان، فقدم أعرابيان فشهد عند النبى صلى الله عليه وسلم بالله لاهلا الهلال أمس عشية، فأمر رسول الله صلى الله عليه وسلم الناس أن يفطروا وأن يغدوا إلى مصلاهم
”لوگوں میں رمضان کے آخری دن (چاند نظر آنے کے بارے) اختلاف پیدا ہو گیا۔ پھر دو دیہاتی آئے اور انہوں نے سہ پہر کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اللہ کی قسم کھا کر گواہی دی کہ انھوں نے گزشتہ کل واقعی چاند دیکھا ہے، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو روزہ افطار کرنے کا حکم دیا اور انھیں یہ حکم صادر کیا کہ کل صبح وہ عید گاہ میں حاضر ہوں۔“
سنن أبو داؤد، كتاب الصيام، باب شهادة رجلين على رؤية هلال شوال: 2339- مسند أحمد: 314/4 ـ صحيح

فوائد: ۔

ان احادیث سے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ ہلال شوال کے ثبوت کے لیے کم از کم دو عادل مسلم گواہوں کی شہادت ضروری ہے انھیں احادیث سے استدلال کرتے ہوئے جمہور علماء نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ عید الفطر کے ثبوت کے لیے دو عادل گواہوں کا رویت ہلال کی شہادت دینا لازم ہے۔
➊ چنانچہ نووی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ابو ثور رحمہ اللہ کے سوا تمام اہل علم کا موقف ہے کہ ایک عادل شخص کی گواہی پر کہ اس نے چاند دیکھا ہے عید الفطر کا انعقاد نا جائز ہے البتہ اس مسئلہ میں ابو ثور رحمہ اللہ نے ایک عادل کی شہادت کو جائز قرار دیا ہے۔
شرح النووي: 189/4
➋ عبد الرحمن مبارکپوری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ مذکورہ بالا احادیث دلیل ہیں کہ عید الفطر کے ثبوت کے لیے تنہا شخص کے چاند دیکھنے کی شہادت نا کافی ہے۔
تحفة الأحوذي: 253/3
➌ ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور ابو یوسف رحمہ اللہ رمضان کے ثبوت کے لیے ایک عادل شخص کی گواہی قبول کرتے ہیں۔ حتی کہ اس بارے وہ غلام اور عورت حتی کہ باندی کی شہادت بھی درست تسلیم کرتے ہیں، لیکن عید الفطر کے ثبوت کے لیے دو عادل مردوں کی گواہی لازم قرار دیتے ہیں اور اس بارے ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہی بھی درخور اعتناء نہیں سمجھتے۔ شافعی رحمہ اللہ عید الفطر کے ثبوت کے لیے عورتوں کے رویت ہلال کی گواہی جائز قرار نہیں دیتے اور مالک رحمہ اللہ، اوزاعی رحمہ اللہ اور اسحاق بن راہویہ رحمہ اللہ رمضان اور عید الفطر کے ثبوت کے لیے کم از کم دو گواہوں کے چاند دیکھنے کی شہادت قبول کرتے ہیں۔
عون المعبود: 28/7

راجح موقف: ۔

اس مسئلہ میں راجح موقف یہ ہے کہ عید الفطر کے ثبوت کے لیے ایک عادل شخص کا چاند دیکھنا کافی ہے اور اس کی گواہی معتبر ہوگی۔ اس کا ثبوت آئندہ دلائل ہیں۔

دلیل نمبر 1: ۔

یہ بات مسلمہ حقیقت ہے کہ ثبوت رمضان کے لیے ایک عادل شخص کی گواہی معتبر ہے اس کی دلیل عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی حدیث ہے وہ بیان کرتے ہیں:
تراءى الناس الهلال، فأخبرت رسول الله صلى الله عليه وسلم أني رأيته، فصام وأمر الناس بصيامه
”لوگ کوشش سے چاند دیکھ رہے تھے ، پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی کہ میں نے واقعی چاند دیکھا ہے چنانچہ اس شہادت پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھا اور لوگوں کو روزے کا حکم دیا۔“
سنن أبو داؤد، كتاب الصيام، باب في شهادة الواحد على رؤية هلال رمضان: 2342 – سنن دارمی: 1697 – صحيح ابن حبان: 3447۔ سنن دارقطنی: 2127 ۔ سنن بیهقی: 212/4 – مستدرك حاكم: 423/1 – إسناده حسن
یہ حدیث واضح نص ہے کہ ثبوت رمضان کے لیے ایک عادل شخص کا چاند دیکھنے کی شہادت دینا کافی ہے چنانچہ اس پر قیاس کی رو سے عید الفطر کے ثبوت کے لیے ہلال شوال کے بارے ایک شخص کی گواہی معتبر ہو گی۔
شوکانی رحمہ اللہ کہتے ہیں: جب احادیث صحیحہ سے یہ بات ثابت نہیں کہ عید الفطر کے ثبوت کے لیے دو عادل مردوں کے چاند دیکھنے کی شہادت شرط ہے تو ظاہر ہے کہ ایک شخص کی گواہی سے ثبوت رمضان کی دلیل پر قیاس کرتے ہوئے عید الفطر کے ثبوت کے لیے بھی ایک شخص کی گواہی کافی ہے۔ نیز مخصوص مسائل (جہاں دو مردوں کی گواہی شرط ہے) کے سوا جیسے دیگر مسائل میں خبر واحد قابل حجت ہے۔ اسی طرح ثبوت عید الفطر کے لیے بھی ایک شخص کی گواہی حجت ہو گی ۔ نيل الأوطار: 201/4
خطابی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: اس مسئلہ میں کوئی اختلاف نہیں کہ شوال کا چاند دیکھنے کے متعلق دو آدمیوں کی گواہی مقبول ہے لیکن ایک شخص کی گواہی کے بارے علماء کا اختلاف ہے اور اکثر علماء کا موقف ہے کہ شوال کے ثبوت کے لیے کم از کم دو گواہوں کی چاند دیکھنے کی گواہی قبول ہے۔
نیز کچھ علماء کا موقف ہے کہ ہلال عید کے ثبوت کے لیے ایک شخص کی گواہی بھی معتبر ہے ان کا خیال ہے کہ رویت ہلال کا تعلق باب الاخبار سے ہے، جس کا اطلاق شہادت (جن کے ثبوت کے لیے دو گواہوں کی گواہی شرط ہے) پر نہیں ہوتا پھر جیسے رمضان کے ثبوت کے لیے ایک شخص کی گواہی مقبول ہے اس سے لازم آتا ہے کہ ثبوت شوال کے لیے بھی ایک شخص کے چاند دیکھنے کی شہادت معتبر ہو۔
عون المعبود: 27/7

دلیل نمبر 2: ۔

وہ حدیث جس سے ثابت ہوتا ہے کہ عید الفطر کے ثبوت کے لیے دو آدمیوں کا رویت ہلال کی گواہی دینا شرط ہے۔ وہ حدیث ضعیف ہے۔
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:
إن رسول الله صلى الله عليه وسلم أجاز شهادة رجل واحد على رؤية هلال رمضان، وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يحير شهادة فى الإفطار إلا شهادة رجلين
”بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کا چاند دیکھنے کے بارے ایک شخص کی شہادت قبول کی ہے لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے چاند کے ثبوت کے لیے دو آدمیوں ہی کی گواہی تسلیم کرتے تھے۔“
المعجم الأوسط للطبرانی: 5353 – سنن دار قطني: 2129 إسناده ضعيف
یہ حدیث ضعیف ہے، اس کی سند میں ابو اسماعیل حفص بن عمر صنعانی رحمہ اللہ ضعیف راوی ہے۔