ہر آذان اور اقامت کے درمیان دو رکعتیں
حضرت عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بين كل آذانين صلاة ”ہر دو آذانوں یعنی آذان اور اقامت) کے درمیان نماز ہے۔“ لیکن تیسری مرتبہ اس فرمان کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لمن شاء ”صرف اس کے لیے جو پڑھنا چاہے۔“
[بخارى: 624 ، كتاب الأذان: باب كم بين الأذان والإقامة ، مسلم: 838 ، أبو داود: 1283 ، ترمذي: 185 ، نسائي: 29/2]
حدیث میں موجود لفظ آذانين سے مراد آذان اور اقامت ہے اور یہ لفظ تعلیباً کہا گیا ہے جیسا کہ سورج اور چاند کو قمرین اور ظہر و عصر کو عصرین کہہ دیا جاتا ہے۔
[تحفة الأحوذى: 573/1 ، الروضة الندية: 304/1]
(ابن حجرؒ) آذان اور اقامت کے درمیان جس نماز کو مشروع کیا گیا ہے اس سے نفلی نماز مراد ہے۔
[فتح البارى: 315/2]