مضمون کے اہم نکات
ہرمزان کا اسلام: ایک تاریخی واقعہ کی تحقیق
واقعہ کی تفصیل (بحوالہ ماہنامہ ’’شہادت‘‘ مارچ ۲۰۰۷ء)
ماہنامہ "شہادت” کے مارچ 2007ء کے شمارے میں صفحہ 36 پر "وعدے کا پاس” کے عنوان سے ایک معروف واقعہ ذکر کیا گیا ہے جو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے منسوب ہے:
◈ ایران کے معروف سپہ سالار ہرمزان کو گرفتار کرکے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے سامنے پیش کیا گیا۔
◈ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اُسے اسلام قبول کرنے کی دعوت دی، لیکن ہرمزان نے یہ دعوت ٹھکرا دی۔
◈ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے اسلام کو نقصان پہنچانے کی بنا پر اسے قتل کرنے کا حکم دیا۔
◈ جب قتل کی تیاری کی گئی، تو ہرمزان نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا:
"میں پیاسا ہوں، کیا مجھے قتل کرنے سے پہلے پانی دیا جا سکتا ہے؟”
حکم دیا گیا کہ اسے پانی دیا جائے۔
◈ پانی کا پیالہ ہاتھ میں لیتے ہوئے ہرمزان نے پوچھا:
"جب تک میں یہ پانی نہیں پی لیتا، آپ لوگ مجھے قتل تو نہیں کریں گے؟”
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
"ہاں! جب تک تم یہ پانی نہیں پی لیتے، تمہیں قتل نہیں کیا جائے گا۔”
◈ ہرمزان نے فوراً پانی کو گرا دیا اور کہا:
"امیرالمومنین! آپ نے وعدہ کیا ہے، اب اسے پورا کیجیے۔”
◈ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا:
"تمہیں فی الحال قتل نہیں کیا جائے گا، میں تمہارے معاملے پر غور کروں گا۔”
جلاد کو تلوار ہٹانے کا حکم دیا گیا۔
◈ اسی لمحے ہرمزان نے بلند آواز سے کلمہ پڑھا:
"اشھد ان لا اله الا الله وان محمدا رسول الله”
◈ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
"اسلام لے آئے ہو، اچھا کیا، مگر جب میں نے تمہیں دعوت دی تھی تو اس وقت کیوں نہ قبول کیا؟”
ہرمزان نے جواب دیا:
"مجھے اس بات کا ڈر تھا کہ اگر اس وقت اسلام قبول کرتا تو کہا جاتا کہ موت کے خوف سے مسلمان ہوا ہے۔”
◈ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قول:
"عقول فارس تزن الجبال”
یعنی "اہل فارس کی عقلیں پہاڑوں جیسی ہیں”
سے مراد یہ ہے کہ وہ لوگ نہایت عقلمند اور دانا ہوتے ہیں۔
اس واقعہ کی تحقیق و تخریج
مصادر و مراجع
یہ واقعہ مختلف الفاظ کے ساتھ بغیر کسی معتبر سند کے کئی تاریخی کتب میں موجود ہے، جیسے:
◈ طبقات ابن سعد (جلد 5، صفحہ 89-90)
◈ المنتظم لابن الجوزی (جلد 4، صفحہ 234-235، سنہ 17ھ بحوالہ ابن سعد)
◈ تاریخ الاسلام للذہبی (جلد 3، صفحہ 294-295 بحوالہ ابن سعد)
◈ الکامل لابن الاثیر
◈ تاریخ ابن خلدون
ضعیف راوی کی موجودگی
یہ واقعہ سیف بن عمر التمیمی (جو کہ ضعیف الحدیث اور تاریخ میں بھی ضعیف شمار ہوتے ہیں) کی سند کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے:
◈ تاریخ ابن جریر الطبری (جلد 4، صفحہ 83-88، دوسرا نسخہ: جلد 1، صفحہ 2551-2559)
◈ المنتظم (جلد 4، صفحہ 232-235)
چونکہ سیف بن عمر ضعیف راوی ہیں اور ان کی روایت میں کئی علتیں (نقائص) پائی جاتی ہیں، اس لیے یہ قصہ سند کے اعتبار سے مردود ہے۔
تاریخ خلیفہ بن خیاط میں ذکر
پانی اور پیاس کی تفصیل کے بغیر یہ واقعہ تاریخ خلیفہ بن خیاط میں موجود ہے:
"سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ہرمزان سے فرمایا تھا: تو بات کر، کوئی حرج نہیں ہے۔ اس نے الفاظ سے استدلال کرکے اپنی جان بچا لی۔”
(تاریخ خلیفہ بن خیاط، صفحہ 147)
یہ روایت حمید (الطویل) تک صحیح ہے۔
حمید نے اسے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے صیغۂ عن کے ساتھ نقل کیا ہے۔
حمید الطویل کی روایت کا حکم
◈ بعض علماء حمید الطویل کی سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے "عن” والی روایات کو صحیح سمجھتے ہیں۔
◈ حمید طبقۂ ثالثہ کے مدلس تھے۔
◈ راجح (زیادہ درست) رائے یہی ہے کہ صحیحین (صحیح بخاری و مسلم) کے علاوہ ان کی ہر معنعن (عن والی) منفرد روایت ضعیف ہوتی ہے۔
لہٰذا، یہ قصہ سند کے لحاظ سے ضعیف ہے۔
واللہ اعلم
ایک تاریخی نکتہ: ہرمزان کا قتل
تنبیہ: ہرمزان کو بعد میں عبیداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت کے فوراً بعد شک کی بنیاد پر مشتعل ہو کر قتل کر دیا تھا۔
(طبقات ابن سعد، جلد 3، صفحہ 355-356، وسندہ صحیح)
ہرمزان کا قبول اسلام
ہرمزان کے اسلام قبول کرنے کی صحیح روایت صحیح بخاری میں موجود ہے:
صحیح بخاری (حدیث نمبر 3159)
"عقول فارس تزن الجبال” والا قصہ
یہ قول کہ "عقول فارس تزن الجبال” یعنی "اہل فارس کی عقلیں پہاڑوں جیسی ہیں”، بے اصل اور ثابت نہیں ہے۔
نتیجہ
◈ اس کی اسناد ضعیف ہیں
◈ بعض تفصیلات تاریخی کتب میں غیر مستند راویوں سے منقول ہیں
◈ صحیح بخاری میں ہرمزان کے قبول اسلام کا ذکر موجود ہے
◈ پانی والا قصہ ضعیف اور بے سند روایت پر مبنی ہے
ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب