مضمون کے اہم نکات
[إن الحمد لله نحمده ونستعينه، ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا ومن سيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادي له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، وأشهد أن محمدا عبده ورسوله، أما بعد! فإن خير الحديث كتاب الله وخير الهدي هدى محمد صلى الله عليه وسلم وشر الأمور محدثاتها وكل محدثة بدعة وكل بدعة ضلالة، الضلالة في النار]
عام طور پر خطبہ میں (نؤمن به و تتوكل عليه) کے الفاظ پڑھے جاتے ہیں، یہ صحیح احادیث میں موجود نہیں ہیں۔ احادیث صحیحہ میں (نشهد) جمع کا صیغہ نہیں بلکہ (أشهد) واحد کا صیغہ ہے۔ یہ خطبہ نکاح و جمعہ، عام و عظ و ارشاد اور درس و تدریس کے موقع پر پڑھا جاتا ہے۔ اسے خطبہ حاجت کہتے ہیں، اسے پڑھ کر آدمی اپنی حاجت وضرورت بیان کرے۔
میرے بھائیو! یہ خطبہ رسول اللہﷺ کا ہے۔ آج کل کچھ کلمہ گو اس مسنون خطبہ کو چھوڑ کر خود ساختہ خطبے پڑھتے ہیں، جیسا کہ محمد الیاس قادری بریلوی صاحب کی کتاب ،،فیضان سنت،، میں ہے۔ یاد رہے کہ جس طرح نبی اکرمﷺ کی ذات روئے زمین کے تمام بزرگوں اور اماموں سے اعلیٰ و ارفع ہے، اسی طرح آپ کی تعلیم و سنت روئے زمین کے تمام طریقوں سے اعلی و ارفع ہے۔ لوگ جھوم جھوم کر نبیﷺ کے حسن و اخلاق، عفت و کردار اور امانت و صداقت کو تو خوب بیان کرتے ہیں لیکن اتباع رسولﷺ میں وہ آپ کی بات کے مقابلے میں فقہ، قیاس اور بدعات کو ترجیح دیتے ہیں۔ انھیں سوچنا چاہیے کہ یہ کس کا کردار ہے جسے انھوں نے اپنایا ہوا ہے، حالانکہ دین مکمل ہو چکا ہے اور اس میں ایک لفظ کی بھی تبدیلی کرنا جائز نہیں ہے۔
یہ دنیا چند روزہ ہے پھر موت آنی ہے۔ قیامت کے بعد شروع ہونے والی زندگی کبھی ختم نہ ہوگی، کیونکہ قیامت کے دن موت کو ذبح کر دیا جائے گا۔ اس لیے ہر انسان کو چاہیے کہ دین کے معاملہ میں مکمل تحقیق کرے اور اندھا دھند چال نہ چلے۔ دین کی اچھی طرح تحقیق کر کے اپنے عقیدہ کو درست کرے۔ عقیدے کی درستی کے بعد نیک اعمال کرے، کیونکہ جس کا عقیدہ درست نہیں اس کا کوئی عمل قابل قبول نہیں :
[وَ مَنۡ یَّکۡفُرۡ بِالۡاِیۡمَانِ فَقَدۡ حَبِطَ عَمَلُہٗ ۫ وَ ہُوَ فِی الۡاٰخِرَۃِ مِنَ الۡخٰسِرِیۡنَ]
اور جو ایمان سے انکار کرے تو یقینا اس کا عمل ضائع ہوگیا، اور وہ آخرت میں خسارہ اٹھانے والوں سے ہے۔ [المائدة:5]
اور قرآن مجید میں جگہ جگہ پہلے ایمان اور پھر عمل کا ذکر ہے، مثلاً:
[اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَہُمۡ جَنّٰتُ النَّعِیۡمِ]،[خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا ؕ وَعۡدَ اللّٰہِ حَقًّا ؕ وَ ہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ]
بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک کام کیے ان کے لیے نعمت کے باغات ہیں۔ شہ ان میں رہنے والے۔ اللہ کا وعدہ ہے سچا اور وہی سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔ [لقمان:8-9]
اور مقدمہ ہدایہ صفحہ 2 پر ہے کہ جب تک صحیح اعتقاد نہ ہو بدنی اعمال رائیگاں ہیں۔ اور یہی چیز قرآن مجید میں کئی جگہ ہے کہ پہلے ایمان اور پھر عمل:
[اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ۙ اُولٰٓئِکَ ہُمۡ خَیۡرُ الۡبَرِیَّۃِ]
بے شک جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کیے، یہی لوگ بہترین مخلوق ہیں۔ [البينه:7]
(مزید حوالہ جات کے لیے دیکھیے: [البقرہ:25]،[ التين:6]،[آل عمران:57/56]،[النساء:132تا134]
زیر مطالعہ کتاب کی تالیف سے کسی کی دل آزاری مقصود نہیں بلکہ یہ عقیدے کی درستی کے متعلق لکھی گئی ہے۔ اصلاح احوال اور کلمہ گو بھائیوں کی ہمدردی اور بھلائی مقصود ہے۔ اسے آپ حوالہ جات کی کتاب بھی کہہ سکتے ہیں۔ اس کتاب میں قرآن مجید، صحیح احادیث اور فقہ حنفی کی کتابوں کے حوالے دیے گئے ہیں۔ اس کتاب میں اہل سنت و الجماعت کے تمام فریقوں یعنی حنفی بریلوی حنفی دیوبندی، اہل حدیث اور اس کے علاوہ شیعہ اور قادیانی حضرات کے عقائد کے متعلق بحث کی گئی ہے اور فرقہ ناجی کی نشاندہی کی گئی ہے یعنی وہ فرقہ جو اللہ کے دین کی رو سے نجات پانے والا ہے۔
دین کو سمجھنے کے لیے بریلوی، دیو بندی اور اہل حدیث علماء سے پوچھ کر تحقیق کریں، جو مسئلہ آپ کے ذہن میں صاف نہ ہو وہ ان علماء سے قرآن و حدیث کی روشنی میں بار بار پوچھیں، یہاں تک کہ آپ کے ذہن میں وہ معاملہ بالکل صاف ہو جائے، ہر اختلافی مسئلہ میں اسی طرح کریں۔ علمائے سوء کی اس بات پر بالکل توجہ نہ دیں کہ فلاں کے پاس جاؤ اور فلاں اور فلاں کے پاس نہ جاؤ، کیونکہ جو یہ بات کہتا ہے کہ فلاں کے پاس نہ جاؤ وہ جھوٹا ہے، اس لیے کہ یہ کافروں کا طرز عمل ہے، وہ بھی کہتے تھے کہ محمدﷺ اور ان کے ساتھیوں کے پاس نہ جاؤ، ان کی بات نہ سنوں۔ ہمیں مسلمانوں والا طریقہ اختیار کرنا چاہیے۔ آپ تحقیق ضرور کریں پھر اپنی مرضی کریں، کیونکہ کسی کو اس معاملہ میں مجبور نہیں کیا جا سکتا اور قیامت کے دن بھی ہر کوئی اپنے اعمال کا خود ذمہ دار ہوگا۔
فهرست کتب:
کتابوں کی تفصیل جن کے زیادہ تر حوالے اس کتاب میں دیے گئے ہیں:
① قرآن مجید مع ترجمه و جملہ تفاسیر: [احمد رضا خان صاحب اور نعیم الدین مراد آبادی صاحب]۔ [احمد علی صاحب لاہوری]۔ [شبیر احمد عثمانی صاحب]۔ [مودودی صاحب]۔ [اشرف علی تھانوی صاحب]۔ [حافظ نذر احمد صاحب: یہ بریلوی دیوبندی اور اہل حدیث کا متفقہ ترجمہ ہے]۔ [جناب نواب وحید الزماں صاحب حیدر آبادی]۔ [احسن البیان مکتبہ دار السلام]-
② اللؤلؤ والمرجان: اسلام کی بنیاد قرآن و حدیث پر ہے۔ احادیث طیبہ کا ذخیرہ علمائے اسلام نے مختلف کتابوں کی صورت میں مرتب و مدون کیا۔ ان کتب احادیث میں جو مقام صحیح بخاری اور صحیح مسلم کو حاصل ہوا ہے وہ کسی دوسری کتاب کو حاصل نہیں ہوا۔امت مسلمه ان دونوں میں موجود احادیث کی صحت پر متفق ہے۔ اس لیے ان کو صحیحین کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ ان کتب میں موجود ہر حدیث ہمارے لیے حجت اور دلیل ہے۔ كتاب اللؤلؤ والمرجان ان ہر دو کتب مقدسہ میں موجود متفق علیہ احادیث کا مجموعہ ہے، یعنی یہ کتاب ان احادیث کا مجموعہ ہے جن کی صحت پر امام بخاری اور امام مسلم متفق ہیں۔
③ صحیح بخاری،صحیح مسلم: اجماع ہے کہ بعد قرآن کے بخاری ہے اور پھر مسلم۔ (مقدمہ هدایه:1/113)،(شرح و قایه:ص5)،(مقدمه فتاوی عالمگیری:1 /2تا29)
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ کیا امام بخاری اور امام مسلم شافعی مسلک کے تھے؟ لیکن حقیقت یہ ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ اور امام مسلم رحمہ اللہ مجتہد تھے، اللہ نے ان کو بڑے علم سے نوازا تھا، اپنے وقت کے بڑے محدث تھے۔ صحیح اور ضعیف روایات میں سے صحیح ترین روایات کو انھوں نے چھانٹ کر علیحدہ کیا اور صحیح بخاری اور صحیح مسلم مرتب کیں اور اس کام میں امام بخاری رحمہ اللہ نے 16 برس صرف کیے۔ کسی بھی امام کی کوئی بات ان دونوں کو غلط معلوم ہوئی تو اس کو انھوں نے رد کیا ہے۔ کہیں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی بات کو غلط پایا ہے تو اس کا انکار کیا ہے۔ کہیں امام شافعی رحمہ اللہ کی بات غلط سمجھی تو اسے رد کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حنفی فقہ کی مشہور کتابوں میں صحیح بخاری و صحیح مسلم کو صحیحین کہا گیا ہے۔
③ مشكوة المصابيح: یه مشکوة اردو ترجمه مع فوائد از محمد صادق خلیل اللہ فیصل آبادی پانچ جلدوں پر مشتمل ہے، اس مشکوۃ میں جہاں جہاں ضرورت تھی وہاں حدیث کے نیچے اس کا فائدہ بھی لکھا گیا ہے۔ یعنی حدیث کی صحت پر تبصرہ کیا گیا ہا ہے۔ یہ کتاب ساٹھ کتابوں کا کا مطالعہ کر کے لکھی گئی ہے جیسا کہ جلد5 کے آخر میں درج ہے۔
⑤ ابوداؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ یعنی کتب ستہ کی باقی چار کتب احادیث۔
حنفی فقہ کی مندرجہ ذیل کتابوں سے بھی حوالے دیے گئے ہیں۔
جو مکتبہ رحمانیہ اردو بازار لاہور سے دستیاب ہیں، ان سب کتابوں کے اردو ترجمے شائع ہو چکے ہیں، یہ سب کتابیں بریلویوں اور دیوبندیوں دونوں کی ہیں، کیونکہ یہ دونوں امام ابو حنیفہ کو اپنا امام اعظم تسلیم کرتے ہیں:
① قدوری: یہ کتاب مکتبہ شرکت علمیہ بیرون بوہر گیٹ ملتان نے طبع کروائی ہے اور اس کی دو جلدیں ہیں۔
② ہدایہ: فقہ حنفی کی یہ مشہور کتاب اردو ترجمہ میں چار جلدوں پر مشتمل ہے اور اسے مکتبہ رحمانیہ اردو بازار لاہور نے طبع کرایا ہے ۔ (ہدایہ کے اردو ترجمہ کو عین الہدایہ کہتے ہیں)
③ کنز الدقائق: اردو ترجمہ والی حنفی فقہ کی یہ کتاب مکتبہ رحمانیہ اردو بازار لاہور سے دستیاب ہے۔
④ شرح وقایہ: اردو ترجمہ والی حنفی فقہ کی یہ کتاب ایچ ایم سعید کمپنی ادب منزل پاکستان چوک کراچی نے طبع کرائی ہے، یہ کتاب چار جلدوں پر مشتمل ہے۔
⑤ در مختار: اردو ترجمہ والی حنفی فقہ کی یہ کتاب چار جلدوں پر مشتمل ہے اور ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ہی نے طبع کی ہے۔
⑥ فتاوی عالمگیری: حنفی فقہ کی یہ کتاب اردو ترجمہ کے ساتھ دس جلدوں پر مشتمل ہے اور اسے مکتبہ رحمانیہ لاہور نے طبع کیا ہے۔ یہ کتاب مغل بادشاہ اورنگ زیب عالمگیر نے پانچ سو حنفی علماء سے تالیف کروائی۔ [مقدمه عالمگیری:308/1]
⑦ مالا بدمنه: اصل کتاب فارسی میں ہے ، مکتبہ شرکت علمیہ بیرون بوہر گیٹ ملتان نے اس کا اردو ترجمہ طبع کیا ہے۔
⑧ بہشتی زیور: حنفی فقہ کی یہ کتاب جناب اشرف علی تھانوی کی تصنیف ہے، اور یہ اردو زبان میں بارہ حصوں پر مشتمل ہے۔
یہ سب کتابیں بریلویوں اور دیوبندیوں کی فقہ کی ہیں، کیونکہ یہ دونوں امام ابو حنیفہ کو اپنا امام اعظم تسلیم کرتے ہیں۔
دینی علم کی اہمیت:
ہر کلمہ گو کے لیے دین کا علم حاصل کرنا ازبس ضروری ہے۔ جو اللہ کی آیات سنے اور ان کا خیال نہ کرے وہ ظالم اور مجرم ہے، اللہ تعالیٰ اس سے انتقام لے گا:
[وَ مَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنۡ ذُکِّرَ بِاٰیٰتِ رَبِّہٖ ثُمَّ اَعۡرَضَ عَنۡہَا ؕ اِنَّا مِنَ الۡمُجۡرِمِیۡنَ مُنۡتَقِمُوۡنَ]
اور اس سے بڑا ظالم کون ہے جسے اس کے رب کی آیات کے ساتھ نصیحت کی گئی، پھر اس نے ان سے منہ پھیر لیا۔ یقینا ہم ان مجرموں سے انتقام لینے والے ہیں۔[السجدة:22]
جس نے اللہ کی ہدایت کا خیال نہ کیا وہ قیامت کے دن اندھا اٹھایا جائے گا:
[قَالَ اہۡبِطَا مِنۡہَا جَمِیۡعًۢا بَعۡضُکُمۡ لِبَعۡضٍ عَدُوٌّ ۚ فَاِمَّا یَاۡتِیَنَّکُمۡ مِّنِّیۡ ہُدًی ۬ۙ فَمَنِ اتَّبَعَ ہُدَایَ فَلَا یَضِلُّ وَ لَا یَشۡقٰی]،[وَ مَنۡ اَعۡرَضَ عَنۡ ذِکۡرِیۡ فَاِنَّ لَہٗ مَعِیۡشَۃً ضَنۡکًا وَّ نَحۡشُرُہٗ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ اَعۡمٰی]،[قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرۡتَنِیۡۤ اَعۡمٰی وَ قَدۡ کُنۡتُ بَصِیۡرًا]،[قَالَ کَذٰلِکَ اَتَتۡکَ اٰیٰتُنَا فَنَسِیۡتَہَا ۚ وَکَذٰلِکَ الۡیَوۡمَ تُنۡسٰی]
[فرمایا تم دونوں اکٹھے اس سے اتر جائو، تم میں سے بعض بعض کا دشمن ہے، پھر اگر کبھی واقعی تمھارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت آئے تو جس نے میری ہدایت کی پوری طرح پیروی کی تو نہ وہ گمراہ ہوگا اور نہ مصیبت میں پڑے گا]،[اور جس نے میری نصیحت سے منہ پھیرا تو بے شک اس کے لیے تنگ گزران ہے اور ہم اسے قیامت کے دن اندھا کر کے اٹھائیں گے]،[کہے گا اے میرے رب! تو نے مجھے اندھا کر کے کیوں اٹھایا؟ حالانکہ میں تو دیکھنے والا تھا]،[وہ فرمائے گا اسی طرح تیرے پاس ہماری آیات آئیں تو توُ انھیں بھول گیا اور اسی طرح آج تو بھلایا جائے گا]۔ [سورۃ طہ:123 تا 126]
(مزید حوالہ جات کے لیے دیکھیے: [الكهف:57]،[البقرة:38،39،130،135،187،198،242،285]،[الاعراف:3]،[الأنعام:55،57]،[الرعد:37]،[النجم:2،5]
اسی طرح بخاری شریف، مسلم شریف اور مشکوۃ المصابیح کے علم کے باب میں یہی کچھ ہے که هر مسلمان دین کا علم حاصل کرے، اور دوسروں تک پہنچائے اور یہ کہ دین کے عالم کی عام لوگوں پر بہت فضیلت ہے۔ اور جو شخص دین کا علم حاصل کرنے کے لیے نکلتا ہے، ساری مخلوق اس کی مغفرت کے لیے دعا مانگتی ہے۔
خلاصه:
اس بحث کا حاصل یہ ہے کہ ہر کلمہ گو کے لیے ضروری ہے کہ دین کا علم حاصل کرے، ہر کلمہ گو کو اسلام کے عقائد، فرامین، اوامر و نواہی اور اللہ تعالی اور اس کے رسولﷺ کی پسندیدہ اور ناپسندیدہ باتوں کا علم ہونا چاہیے، تا کہ صحیح عمل کر کے قیامت کے دن سرخرو ہو سکے اور غلط عقیدہ اور غلط عمل سے بچ کر قیامت کے دن دوزخ کی سزا سے بچ سکے اور یہ تبھی ممکن ہے جب دین کا علم ہو ۔ دین کا علم حاصل کرنے کے لیے گھر سے ایک فرد وقف کریں، کیونکہ دین کا معاملہ نہایت اہم ہے، اس پر ابدی زندگی کا انحصار ہے، اس معاملہ میں کوتاہی بہت نقصان دہ ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ دین کا سمجھنا ہر شخص کے بس کی بات نہیں ہے، یہ بات بالکل غلط ہے، کیونکہ اگر دین سمجھنا ہی مشکل ہے تو دین کے اتارنے کا مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے، دین بالکل آسان ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے :
[وَ لَقَدۡ یَسَّرۡنَا الۡقُرۡاٰنَ لِلذِّکۡرِ فَہَلۡ مِنۡ مُّدَّکِرٍ]
اور بے شک ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لیے آسان کر دیا۔ پس کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے۔ [القمر:17]
یعنی اس کے مطالب و معانی کو سمجھنا، اس سے عبرت و نصیحت حاصل کرنا اور اسے زبانی یاد کرنا ہم نے آسان کر دیا ہے۔ چنانچہ یہ واقعہ ہے کہ قرآن اعجاز و بلاغت کے اعتبار سے نهایت اونچے درجے کی کتاب ہونے کے باوجود اگر کوئی شخص تھوڑی سی توجہ دے تو وہ عربی گرائمر اور معانی و بلاغت کی کتابیں پڑھے بغیر بھی اسے آسانی سے سمجھ سکتا ہے۔ اس طرح یہ دنیا کی واحد کتاب ہے جو لفظ بہ لفظ یاد کر لی جاتی ہے۔ ورنہ چھوٹی سے چھوٹی کتاب کو بھی اس طرح یاد کر لینا اور اسے یاد رکھنا نہایت مشکل ہے اور انسان اگر اپنے قلب و ذہن کے دریچے و ارکھ کر اسے عبرت کی آنکھوں سے پڑھے، نصیحت کے کانوں سے سنے اور سمجھنے والے دل سے اس پر غور کرے تو دنیا و آخرت کی سعادت کے دروازے اس کے لیے کھل جاتے ہیں اور یہ اس کے قلب و دماغ کی گہرائیوں میں اتر کر کفر و معصیت کی تمام آلودگیوں کو صاف کر دیتی ہے۔ یاد رہے:
- قرآن کریم نے یہ بتایا کہ رسول اللہﷺ اس لیے آئے کہ جاہلوں اور گمراہوں کو ہدایت پر لائیں۔
- قرآن کریم کو اللہ نے آسان و عام فہم بنایا، تا کہ اس سے ہر شخص فائدہ اٹھائے۔
- رسول اللہﷺ نے فرمایا: کہ میں آسان دین لے کر آیا ہوں۔
ثابت ہوا کہ اللہ اور اس کے رسولﷺ نے جو کچھ فرمایا وہ حق ہے۔ اگر کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ قرآن وحدیث کا سمجھنا مشکل ہے تو گویا وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺکو چیلنج کر رہا ہے جس کا وہ بروز قیامت جواب دہ ہوگا۔
[تفسیر مراد آبادی میں التوبہ(132)،ف(293)] میں ہے کہ علم دین حاصل کرنا فرض ہے، جو چیزیں بندے پر فرض و واجب ہیں اور جو اس کے لیے ممنوع و حرام ہیں اس کا سیکھنا فرض عین ہے۔ علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: میں دین کا علم تقسیم کرنے والا ہوں اور اللہ تعالی دین دینے والا ہے۔ (بخاری و مسلم)
یہ حدیث دین کا علم تقسیم کرنے کے بارے میں ہے لیکن کچھ کلمہ گو بھائیوں نے یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ یہ حدیث بتاتی ہے کہ اللہ کے رسولﷺ کے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور وہ ان خزانوں کو تقسیم کر رہے ہیں حالانکہ قرآن میں ہے کہ (اے نبی!) فرما دیجیے کہ میرے پاس اللہ کے خزانے نہیں ہیں۔ [الأنعام:50]
دین کے معاملہ میں ہمارا رویہ:
دین کے معاملہ میں ہمارا رویہ ،،سمعنا واطعنا،، ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی والا ہونا چاہیے نہ کہ مخالفانہ اور جدلی (یعنی) جھگڑے والا انداز کہ ،،سمعنا وعصينا،، ہم نے سنا اور ہم نہیں مانتے والا نہیں ہونا چاہیے:
[اِنَّمَا کَانَ قَوۡلَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ اِذَا دُعُوۡۤا اِلَی اللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ لِیَحۡکُمَ بَیۡنَہُمۡ اَنۡ یَّقُوۡلُوۡا سَمِعۡنَا وَ اَطَعۡنَا ؕ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ]
ایمان والوں کی بات، جب وہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلائے جائیں، تاکہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کرے، اس کے سوا نہیں ہوتی کہ وہ کہتے ہیں ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔[النور:51]
ہر کلمہ گو کو نازل شدہ دین پر ایمان لانا ضروری ہے، جیسا کہ (سورۃ البقرہ (285) میں ہے کہ رسول اللہﷺ نازل شدہ دین پر ایمان لائے اور مومن بھی ایمان لائے، اور انھوں نے ،،سمعنا وأطعنا،، کہا۔ میری ایک کلمہ گو شخص سے ملاقات ہوئی، وہ میرے گھر میری کتاب لینے آیا، میں نے اسے کہا کہ نعیم مراد آبادی کی تفسیر میں لکھا ہے کہ انبیاء کو بشر کہنا کافروں کا شیوہ ہے۔ وہ آدمی کہنے لگا کہ یہ بات ٹھیک لکھی ہے۔ میں نے کہا کہ قرآن میں اللہ تعالی نے کئی جگہ فرمایا کہ انبیاء بشر تھے، اور قرآن میں اللہ تعالی نے ہمارے رسولﷺ سے کئی جگہ اعلان کروایا کہ فرما دیجیے کہ میں بشر ہوں، وہ کہنے لگا کہ یہ بات ٹھیک ہے کہ اللہ تعالی نے رسول اللہﷺ کو قرآن میں بشر کہا اور رسول اللہﷺ نے بھی اپنے بشر ہونے کا اعلان فرمایا:لیکن آپ مجھے یہ دکھا ئیں کہ قرآن میں یہ کہاں لکھا ہے کہ تم بھی رسول اللہﷺ کو بشر کہو اور اٹھ کر چلا گیا اور مزید بات نہ سنی۔
یہ بات سن کر مجھے بہت افسوس ہوا، جو کچھ اللہ تعالی نے نازل فرمایا ہر کلمہ گو کے لیے ضروری ہے کہ اس پر ایمان لائے۔ (البقرہ: 285) اور ،،سمعنا واطعنا،، کا رویہ اختیار کرے اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا اس سے انکار نہ کرتے، کیونکہ انکار کرنے والا مسلمان نہیں رہتا اور اس کی بخشش نا ممکن ہے۔ [الأعراف:37تا41] اور جو کچھ اللہ تعالی نے نازل فرمایا اس کو نا پسند نہ کرے، کیونکہ ایسا کرنے والے کے سارے عمل برباد ہو جاتے ہیں۔ [محمد:1تا9] ہر کلمہ گو کو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ دین کی دل سے تصدیق کرے اور زبان سے اقرار کرے، اقرار باللسان و تصدیق بالقلب، کیونکہ جب اللہ اور اس کے رسولﷺ کا حکم آجائے تو کسی مسلمان مرد یا کسی مسلمان عورت کو کچھ اختیار نہیں رہتا اور جو حکم نہ مانے وہ صریح گمراہ ہو چکا۔ [الأحزاب:36]
قرآن حکیم مع ترجمہ پڑھیں:
اور ہم نے اس قرآن کو آسان کر دیا ہے تو ہے کوئی اس سے نصیحت حاصل کرنے والا [القمر:17] قرآن حکیم کھول کر ترجمہ کے ساتھ پڑھیے۔
کیا آپ نے قرآن کا مطالعہ کیا ہے؟
اگر نہیں تو اس سے زیادہ محرومی کی بات اور کیا ہو سکتی ہے!
لوگوں کا حال تو یہ ہے کہ صبح اُٹھتے ہی اخبار پڑھنے کے لیے بے چین رہتے ہیں، رسائل کا شوق سے مطالعہ کرتے ہیں، اپنے اپنے مسالک کے جرائد لے کر بیٹھ جاتے ہیں، دنیا بھر کی کتابیں پڑھنے کے لیے وقت نکال لیتے ہیں، لیکن اللہ کی کتاب پڑھنے کے لیے ان کے پاس کوئی وقت نہیں ہے؟ حالانکہ نزول قرآن کا آغاز ہی اس کتاب کو پڑھنے کے حکم ،،اقرأ،، سے ہوا ہے۔
صرف تلاوت کے لیے نہیں بلکہ سمجھ کر پڑھنے اور ہدایت حاصل کرنے کے لیے نازل ہوئی ہے۔
مردوں کو بخشوانے کے لیے نہیں بلکہ زندوں پر نجات کی راہ کھولنے کے لیے آئی ہے۔
یہ انسان کو غور و فکر کی دعوت دیتی ہے، تاکہ اس کے خیالات میں نکھار پیدا ہو اور زندگی سنور جائے۔
یہ مطالبہ کرتی ہے کہ زندگی کا سفر اس کی روشنی میں طے کیا جائے۔
کیا یہ مقاصد دیواروں پر یہ جو کتاب ہے۔ درس انقلاب ہے لکھنے سے پورے ہوں گے؟ یا اس کتاب کو صرف مکمل ضابطہ حیات کہنے سے مسئلے حل ہوں گے؟ یا یہ مقاصد قرآن یا کے مطالعہ کے بغیر پورے ہو سکتے ہیں؟ ایسے کتنے لوگ ہیں جنھوں نے زندگی میں کم از کم ایک مرتبہ ہی قرآن سمجھ کر پڑھا ہوا؟ آئیے! غفلت کے اس پردے کو چاک کریں اور قرآن فہمی کو عام کریں:
[اَفَلَا یَتَدَبَّرُوۡنَ الۡقُرۡاٰنَ اَمۡ عَلٰی قُلُوۡبٍ اَقۡفَالُہَا] تمھیں کیا ہو گیا ہے کہ تم قرآن پر غور وفکر نہیں کرتے، کیا تمھارے ولوں پر تالے پڑ گئے ہیں؟[محمد:24]
قرآن مجید:
قرآن مجید کی جو خصوصیات اللہ تعالی نے بیان فرمائی ہیں وہ یہ ہیں:
① قرآن میں کوئی شک نہیں، یہ مومنوں کے لیے راہ ہدایت ہے۔ [البقرۃ:2]
② قرآن مجید جیسا کلام کوئی نہیں سنا سکتا۔ [البقرۃ:23-24]
③ قرآن مجید کی آیات صاف اور کھلی ہیں، ان کا انکار نا فرمان ہی کرتے ہیں۔ [البقرة:99]
④ آسمانی ہدایت ہی ہدایت ہے، اس سے رو گردانی خطرناک ہے۔ [البقرة:137/135/120]
⑤ آسمانی ہدایت اتارنے کا مقصد یہ ہے کہ اللہ کی نعمت مکمل ہو جائے، لوگ ہدایت پر آجائیں اور ان کو شریعت کی وہ باتیں بتا دی جائیں جن کا ان کو علم نہیں۔ [البقرة:151/150]
⑥ قرآن لوگوں کے لیے ہدایت اور حق و باطل کے درمیان پہچان ہے۔ [البقرۃ:185]
⑦ وحی پر پیغمبر اور مومنوں کا ایمان لانا ضروری ہے اور ،،سمعنا واطعنا،، یعنی ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت اختیار کی والا رویہ ضروری ہے۔ [البقرۃ:285]
⑧ قرآن سمجھنے میں آسان ہے۔ [القمر:40/32/22/17]
⑨ اللہ تعالیٰ کی بات سچی ہے۔ [النساء:122/87]
⑩ اس میں اختلاف نہیں ۔ [النساء:82]
⑪ قرآن باطل پر حق کی چوٹ ہے۔ [الانبیاء:18]،[الفرقان:33]
⑫ قرآن کی حفاظت کا ذمہ اللہ تعالٰی نے خود اپنے ذمہ لیا۔ [الحجر:9]
⑬ وحی کے مطابق فیصلہ نہ کرنے والے کافر ہیں، ظالم ہیں، نا فرمان ہیں۔ [المائدة:47/45/44]
⑭ قرآن سے ہدایت یافتہ اور مجرموں کا پتا چلتا ہے۔ [البقرۃ:2تا5،،39/38]
⑮ اللہ تعالیٰ کے کلام سے اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والوں کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ [الزمر:23]
حدیث مبارک:
حدیث کا جواز قرآن سے ثابت ہے، اس کے لیے صفحہ۔۔۔۔۔۔۔۔ سے سوالات و جوابات دیکھیے۔ قرآن مجید کے ساتھ ساتھ حدیث مبارک پر عمل کرنا بھی ضروری ہے، کیونکہ قرآن مجید میں اللہ تعالی نے نماز، روزہ، حج، زکوۃ، قربانی وغیرہ کا حکم دیا ہے اور رسول اللہﷺ نے ان پر پوری طرح عمل کر کے تفصیل کے ساتھ بتایا، کہ ان احکام پر عمل درآمد اس طرح کرتا ہے۔ حدیث مبارک کے بغیر قرآن پر عمل نا ممکن ہے۔ اللہ تعالی نے قرآن مجید میں اکتیس دفعہ اپنی اطاعت کے ساتھ رسول اللہﷺ کی اطاعت کا حکم بھی دیا ہے، جس کی تفصیل اس کتاب کے توحید فی الحکم اور شرک فی الحکم کی بحث اور سنت و بدعت کی بحث میں ہے۔ صحیح احادیث آپ کو صحیح بخاری، صحیح مسلم، اللؤلؤ والمرجان، مشکوة شریف وغیرہم اور علامہ البانی کی کتاب السلسلة الصحيحة میں مل سکتی ہیں۔
احادیث مبارکہ کی اہمیت کے سلسلہ میں ہم صرف ایک حدیث بیان کرنے پر اکتفا کریں گے جو مومنوں کے لیے کافی ہے:
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: لعنت کی اللہ تعالیٰ نے گودنے والیوں اور گودوانے والیوں پر اور منہ کے بال اکھاڑنے والیوں اور اکھڑوانے والیوں اور دانتوں کو کشادہ کرنے والیوں پر خوب صورتی کے لیے اور اللہ کی تخلیق بدلنے والیوں پر۔ پھر یہ خبر بنی اسد کی ایک عورت کو پہنچی جس کا نام ام یعقوب تھا، وہ قرآن پڑھا کرتی تھی تو وہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور بولی: مجھے کیا خبر پہنچی ہے کہ تم نے لعنت کی گودنے اور گودوانے اور منہ کے بال اکھاڑنے اور اکھڑوانے اور دانتوں کو کشادہ کرنے اور اللہ تعالی کی خلقت کو بدلنے والیوں پر۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا:میں کیوں لعنت نہ کروں اس پر جس پر رسول اللہﷺ نے لعنت کی اور یہ تو اللہ کی کتاب میں موجود ہے۔ وہ عورت بولی: میں نے تو دوگتوں میں جس قدر قرآن تھا پڑھ ڈالا، مجھے یہ نہیں ملا۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر تو پڑھتی تو تجھ کو ملتا، اللہ تعالی فرماتا ہے: جو رسول تم کو دے اس کو تھامے رکھو اور جس سے منع کرے اس سے باز رہو۔ [الحشر:7] وہ عورت بولی: ان میں سے تو بعض کام تمھاری بیوی بھی کرتی ہے۔ سید نا عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: جا دیکھ تو سہی۔ وہ ان کی بیوی کے پاس گئی تو کچھ نہ پایا، پھر لوٹ آئی اور کہنے لگی: ان میں سے کوئی بات میں نے ان میں نہیں دیکھی۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر وہ ایسا کرتی تو ہم اس سے صحبت نہ کرتے ۔[صحيح مسلم، کتاب اللباس والزينة، باب تحريم فعل المواصلة والمسوصلة والواشمة والمستوشمة الخ:2125]،[ نیز دیکھیے صفحہ 124 تا 137 سے سوالات و جوابات]
اب ہم
ملاعلی قاری حنفی کی کتاب موضوعات کبیر
کے کچھ حوالہ جات درج کریں گے۔ یاد رہے کہ یہ کتاب موضوع احادیث کے بارے میں ہے، یہ کتاب اردو ترجمہ کے ساتھ محمد سعید اینڈ سنز کراچی نے شائع کی ہے:
(1) ابو حنیفہ میری امت کے چراغ ہیں۔ (یہ حدیث باتفاق محدثین موضوع ہے۔ ص91)
(2) خضر علیہ السلام اور الیاس علیہ السلام ہر سال حج کے موسم میں جمع ہوتے ہیں۔ (حافظ عسقلانی فرماتے ہیں: اس بارے میں کوئی شے ثابت نہیں۔ ص96)
(3) رسول اللہﷺ کے والدین کا زندہ ہونا۔ (یہ حدیث موضوع ہے۔ ص98)
(4) میری امت کا اختلاف بھی رحمت ہے۔ (اس حدیث کی کوئی اصل نہیں۔ ص98)
(5) جب محبت سچی ہو جائے تو شرائط ادب ختم ہو جاتی ہیں۔ ( یہ حدیث نہیں ہے۔ ص107)
(6) چار چیزوں کا چار چیزوں سے پیٹ نہیں بھرتا: زمین کا بارش سے، عورت کا مرد سے، آنکھ کا دیکھنے سے اور عالم کا علم ہے۔ (یہ حدیث موضوع ہے۔ ص109)
(7) تم میں سب سے اچھا فیصلہ کرنے والا علی رضی اللہ عنہ ہے۔ ( یہ حدیث مرفوعاً ثابت نہیں۔ ص122)
(8) اے اللہ! اسلام کی دو عمروں میں سے ایک عمر کے ساتھ تائید فرما۔ (ان الفاظ کے ساتھ اس کی کوئی اصل نہیں۔ ص128)
(9) شہد کی مکھیوں کے امیر سیدنا علی رضي اللہ عنہ ہیں۔ (اس کی کوئی اصل نہیں ۔ ص132)
(10) میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں۔ ( یہ حدیث منکر ہے۔ ص134)
(11) میں اللہ سے ہوں اور مومن مجھ سے ہیں۔ (یہ حدیث نہیں۔ ص136)
(12) بلال اذان میں ،،ش،، کو ،،س،، سے بدل دیا کرتے تھے۔ (کتب حدیث میں اس کا کہیں وجود نہیں ۔ص137)
(13) مردہ اپنے گھر میں لوگوں کو سات دن تک دیکھتا ہے۔ (یہ باطل ہے۔ ص149)
(14) دنیا کی محبت ہر گناہ کی جڑ ہے۔ (بعض محدثین کا خیال ہے کہ یہ موضوع ہے۔ ص191)
(15) عالم کی مجلس میں حاضر ہونا ایک ہزار رکعت نماز سے افضل ہے۔ (یہ موضوع ہے۔ ص202)
(16) سیدنا علی رضي اللہ عنہ نے خیبر کے دروازے کو اٹھا لیا۔ ( یہ غلط ہے۔ ص203)
(17) عرب کے سردار سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہیں۔ (یہ ضعیف ہے۔ ص238)
(18) (صدق رسول الله) (اس کی کوئی اصل نہیں۔ ص251)
(19) عالم کے پیچھے نماز پڑھنے سے چالیس ہزار چار سو چالیس نمازوں کا اجر ملتا ہے۔ (یہ باطل ہے ۔ ص253)
(20) مسواک کر کے نماز پڑھنا بغیر مسواک کے ستر نمازوں سے بہتر ہے۔ (یہ حدیث باطل ہے۔ ص255)
(21) میری امت کے علماء بنی اسرائیل کے انبیاء کی طرح ہیں۔ (اس کی کوئی اصل نہیں۔ ص298)
(22) غرباء انبیاء کے وارث ہیں۔ ( یہ حدیث باطل ہے۔ ص273)
(23) دل اللہ کا گھر ہے۔ (اس کی مرفوعا کوئی اصل نہیں۔ ص284)
(24) میں اس وقت بھی نبی تھا جب آدم مٹی اور پانی کے درمیان تھے۔ ان الفاظ کے ساتھ یہ حدیث نہیں۔ ص297)
(25) جب رسول اللہﷺ کو غسل دیا گیا تو پانی آپﷺ کی آنکھوں کے گڑھوں پر بلند ہو گیا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اسے پی لیا تو انھیں اولین اور آخرین کا علم دے دیا گیا۔ (یہ روافض کا قول ہے۔ ص315)
(26) چاول کے متعلق تمام احادیث موضوع ہیں۔(ص324)
(27) جھنڈے کو قیامت کے دن سیدنا علی رضی اللہ عنہ اٹھائیں گے۔ (یہ موضوع ہے۔ ص327)
(28) کوئی پستہ قد حکمت سے اور کوئی لمبا قد حماقت سے خالی نہیں ہوتا۔ (سخاوی کہتے ہیں میں اس سے واقف نہیں۔ ص336)
(29) جو بھی نبی بنایا گیا وہ چالیس سال کی عمر میں بنایا گیا۔ (یہ حدیث موضوع ہے۔ ص341)
(30) گردن کا مسح کرنا طوق سے امان ہے۔ (یہ حدیث موضوع ہے۔ ص347)
(31) اذان کے وقت رسول اللہﷺ کے نام پر دونوں شہادت کی انگلیوں کے پوروں سے انھیں چومنے کے بعد آنکھوں پر مسح کرنا۔ یہ صحیح نہیں۔ ص348)
(32) جو بازار میں داخل ہوتے وقت ،،لا الہ الا اللہ،، کہے اللہ تعالٰی اس کے لیے ایک لاکھ نیکیاں لکھ دیتا ہے، ایک لاکھ گناہ مٹاتا ہے۔ (یہ منکر ہے۔ ص350)
(33) میرا وہی، میرے بھید کی جگہ، میرے گھر والوں میں میرا خلیفہ اور میرے بعد کے لوگوں میں سب سے بہتر سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہیں۔ یہ حدیث موضوع ہے۔ ص425)
(34) سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے علاوہ کوئی جوان نہیں اور ذوالفقار کے علاوہ کوئی تلوار نہیں۔ (اس کی کوئی اصل نہیں۔ ص434)
(35) ائمہ کی ایک دوسرے سے ملاقات کے بارے میں، اور ایسی ہی وہ تصانیف جو بڑے بڑے لوگوں کی قبروں کے بارے میں لکھی گئیں، یہ سب کی سب باطل ہیں۔(ص454)
(36) ایسی ہی وہ سب روایات جن میں تھوڑا سا نیک عمل کرنے کا بہت زیادہ ثواب لکھا ہے، ان کی بھی کوئی اصل نہیں ہے۔
(37) جو شخص بعد مغرب کے چھ رکعات نماز پڑھے اسے بارہ سال کی عبادت کے برابر ثواب ا ہے۔ ( یہ حدیث منکر ہے۔ ص486)
(38) عقل کے بارے میں جتنی بھی روایات ہیں، وہ صحیح نہیں۔ (ص515)
(39) سیدنا خضر علیہ السلام کے بارے میں جن احادیث میں ان کی زندگی کا تذکرہ ہو وہ سب جھوٹ ہے۔(ص515)
(40) ایک اہم اصول یہ بھی ہے کہ جو حدیث صریحا قرآن کے مخالف ہے، وہ صحیح نہیں۔ (ص525)
(41) جو حدیث عقیدہ نصاری کے مشابہ ہو، وہ صحیح نہیں۔ (ص525)
(42) دن رات کی جتنی نمازیں ہیں مثلاً اتوار، پیر، منگل وغیرہ اور ان راتوں کی نمازیں حتی کہ پورے ہفتہ کی نمازیں، یہ سب موضوع ہیں۔ (ص541)
(43) شعبان کی پندرھویں شب کی نمازیں ثابت نہیں۔ >(ص560)
(44) کبوتر کی روایات میں سے کوئی بھی صحیح نہیں۔ (ص552)
(45) عاشورہ کے متعلق جملہ روایات صحیح نہیں۔ (ص560)
(46) اس طرح کی وہ روایات جو سورتوں کے فضائل اور ثواب کو بیان کرتی ہیں وہ صحیح نہیں، سوائے بخاری، مسلم، ترمذی وغیرہ کے۔ (ص562)
احادیث موضوعه و ضعیفہ کا مجموعہ اور امت کا خسارہ عظیم:
ذیل میں ہم ان احادیث کا تذکرہ کر رہے ہیں جن کو احادیث موضوعہ و ضعیفہ کہا جاتا ہے، ان احادیث کی وجہ سے امت کو نا قابل تلافی نقصان پہنچا۔
① علامہ ناصر الدین البانی کی ایک کتاب اردو ترجمہ کے ساتھ بازار سے دستیاب ہے اس کتاب میں (100)موضوع احادیث دی گئی ہیں۔ کتاب کا نام احادیث موضوعہ ضعیفہ کا مجموعہ
جن سے امت مسلمہ کو نا قابل تلافی نقصان پہنچا ہے ۔ یہ (100) موضوع احادیث مندرجہ ذیل ہیں:
حدیث 1: دین اسلام عقل کے مطابق ہے اور جو شخص دین اسلام میں داخل نہیں اس میں عقل نہیں۔ (یہ حدیث باطل ہے)
حدیث 2: جس شخص کو اس کی نماز بے حیائی اور برے کاموں سے نہیں روکتی وہ اللہ تعالٰی سے مزید دور ہو جاتا ہے۔ (یہ حدیث باطل ہے)
حدیث3: لوگوں کی ہمت پہاڑوں کو اپنی جگہ سے ہلا دیتی ہے۔ (یہ حدیث رسول نہیں ہے)
حدیث4: مسجد میں باتیں کرنا نیک اعمال کو ضائع کر دیتا ہے جیسا کہ چار پائے گھاس کو کھا جاتے ہیں۔ ان الفاظ کے ساتھ حدیث کا کچھ اصل نہیں)
حدیث5: جو شخص صرف اللہ کی رضا کے لیے کسی کام کو چھوڑ دیتا ہے تو اللہ تعالٰی اس کے بدلے اس کو دنیا و آخرت میں بہتر چیز سے نوازے گا۔ (ان الفاظ کے ساتھ یہ حدیث موضوع ہے)
حدیث6: غبار سے کنارہ کش رہو اس لیے کہ غبار سے سانس کی بیماری لاحق ہوتی ہے۔ (اس حدیث کے اصل کا علم نہیں)
حدیث7: دو کاموں کے قریب نہ جاؤ، اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا اور لوگوں کو اذیت پہنچانا ۔ (اس حدیث کا کچھ اصل نہیں ہے)
حدیث8: اس دنیا کے حصول کے لیے اس طرح عمل کیجیے جیسا کہ آپ نے ہمیشہ زندہ رہنا ہے اور اپنی آخرت کے حصول کے لیے ایسے عمل کیجیے جیسا کہ آپ نے کل ہی فوت ہو جانا ہے۔ (اس حدیث کا کچھ اصل نہیں ہے)
حدیث9: میں تمام پر ہیز گاروں کی خوش بختی کا محور ہوں۔ (ایضا)
حدیث10: بے شک اللہ تعالیٰ محبوب جانتا ہے کہ وہ اپنے بندے کو طلب حلال میں تھکا ہوا دیکھے۔ (یہ حدیث موضوع ہے)
حدیث11: مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے۔ (یہ حدیث ضعیف ہے)
حدیث12: اللہ نے دنیا کو وحی کی کہ تو اس کی خادم بن جو میرا خادم ہو۔ (یہ حدیث موضوع ہے)
حدیث13: شام کے باشندے اللہ کی زمین پر اس کا درہ ہیں۔ (یہ حدیث ضعیف ہے)
حدیث14: تم خود کو بظاہر سبزہ زاروں سے بچاؤ۔ (یہ نہایت ضعیف روایت ہے)
حدیث15: شام کا ملک میرا ترکش ہے۔ (اس حدیث کا اصل مرفوعاً ثابت نہیں )
حدیث16: میری امت میں دو قسم کے لوگ ایسے ہیں کہ جب وہ درست ہوں گے تو لوگ بھی درست ہوں گے اور وہ امراء اور فقہاء ہیں (یہ حدیث موضوع ہے)
حدیث17: جو شخص گناہ کرتا ہوا ہنستا رہا وہ روتا ہوا دوزخ میں داخل ہو گا۔ (یہ حدیث من گھڑت ہے)
حدیث18:پر کئے ہوئے کبوتروں کو پال رکھو اس لیے کہ وہ تمھارے بچوں سے جنوں کو غفلت میں رکھیں گے۔ (ایضا)
حدیث19: تم اپنی عورتوں کی محفلوں کو چرخے سے آراستہ کرو۔ (یہ حدیث موضوع ہے)
حدیث20: دستر خوان کو سبزیوں سے سجایا کرو۔ (یہ حدیث موضوع ہے)
حدیث21: مجھے سوال کرنے سے یہ بات کفایت کرتی ہے کہ وہ میرے حال کو جانتا ہے۔ (یہ حدیث موضوع ہے)
حدیث22: تم میرے مقام کا وسیلہ اختیار کرو یقیناً میرا مقام اللہ کے نزدیک عظیم ہے۔ (یہ حدیث بے اصل ہے)
حدیث23: اللہ تعالیٰ وہ ہے جو زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے نیز وہ ہمیشہ زندہ رہے گا۔ (اے اللہ) میری والدہ فاطمہ بن اسد کو معاف فرما۔ (یہ حدیث موضوع ہے)
حدیث24: جو شخص گھر سے نماز ادا کرنے نکلا اور اس نے کہا اے اللہ! میں تجھ سے ان سائلین کے طفیل سوال کرتا ہوں جو تجھ سے مانگتے ہیں۔ (یہ حدیث ضعیف ہے)
حدیث25: جب آدم غلطی کے مرتکب ہوئے تو انھوں نے یہ دعا کی: اے رب میرے پروردگار! میں تجھ سے محمدﷺ کے طفیل سوال کرتا ہوں۔ (یہ حدیث من گھڑت ہے)
حدیث26: تیزی طبع میری امت کے بہترین لوگوں کا وصف ہے۔ (یہ حدیث ضعیف ہے)
حدیث27: تیزی طبع قرآن پاک کے حاملین میں اس لیے ہوتی ہے،کہ ان کے دلوں میں قرآن کی عظمت جاگزیں ہوتی ہے۔ (یہ حدیث موضوع ہے)
حدیث28: تیزی طبع صرف میری امت کے صالحین اور نیک لوگوں میں ہوگی اور پھر تیزی ختم ہو جاتی ہے۔ (یہ حدیث من گھڑت ہے)
حدیث29: میری امت کے بہترین لوگ تیز طبیعت والے ہیں۔ (یہ حدیث بالکل باطل ہے)
حدیث30: مجھ میں اور میری امت میں قیامت کے دن کے لیے برکت ہے۔ (اس حدیث کی کچھ اصل نہیں)
حدیث31: دنیا مسلمانوں کا راستہ ہے۔ (اس حدیث کا کچھ اصل نہیں ہے)
حدیث32: دنیا آخرت والوں پر حرام ہے، اور آخرت دنیا والوں پر حرام ہے نیز دنیا اور آخرت دونوں اللہ والوں پر حرام ہیں۔ (یہ حدیث ثابت نہیں)
حدیث33: دنیا آخرت کی سوکن ہے۔ (یہ حدیث من گھڑت ہے)
حدیث34: دنیا سے کنارہ کش رہو اس لیے کہ دنیا ہاروت و ماروت سے بھی زیادہ جادوگر ہے۔ (یہ حدیث منکر ہے اس کا کوئی اصل نہیں ہے )
حدیث35: جو اذان کہے اسے چاہیے کہ وہ تکبیر کہے۔ (یہ حدیث ضعیف ہے)
حدیث36: وطن کی محبت ایمان سے ہے۔ (یہ حدیث من گھڑت ہے)
حدیث37: لوگوں پر ایک ایسا وقت آئے گا جب کہ وہ اس وقت بھیڑیے ہوں گے اور جو شخص بھیڑیا نہیں ہوگا اس کو بھیڑیے کھا جائیں گے ۔ (یہ حدیث بہت ضعیف ہے)
حدیث38: جس شخص نے اللہ کی رضا کے لیے چالیس روز اخلاص اختیار کیا اسکی زبان پر حکمت کے چشمے جاری ہو جاتے ہیں۔ (یہ حدیث ضعیف ہے)
حدیث39: جس شخص نے عصر کے بعد نیند کی اور اس کی عقل جاتی رہی تو وہ صرف اپنے آپ کو ملامت کرے۔ (یہ حدیث ضعیف ہے)
حدیث40: کدو استعمال کرو اس کے کھانے سے دماغ کو تقویت ملتی ہے۔ (یہ حدیث من گھڑت ہے)
حدیث41 : جس شخص نے حرام مال اکٹھا کیا اللہ تعالی اس کا مال حرام راستے لے جاتا ہے۔ (یہ حدیث صحیح نہیں ہے )
حدیث42: انبیاء کرام علیہم السلام قائدہیں اور فقہاء سردار ہیں ۔ (یہ حدیث من گھڑت ہے )
حدیث43: رمضان کا مہینہ آسمان و زمین کے درمیان معلق رہتا ہے۔ (یہ حدیث ضعیف ہے)
حدیث44: جو شخص بے وضو ہو اور اس نے وضو نہ بنایا اس نے مجھ پر ظلم کیا۔ (یہ حدیث موضوع ہے)
حدیث45: جس شخص نے بیت اللہ کا حج کیا اور میری قبر کی زیارت نہ کی اس نے مجھ پر ظلم کیا۔ (یہ حدیث موضوع ہے )
حدیث46: جس شخص نے میری اور میرے باپ ابراہیم کی ایک ہی سال میں زیارت کی وہ جنت میں داخل ہوگا۔ (یہ حدیث موضوع ہے)
حدیث47: جس شخص نے حج کیا اور میری وفات کے بعد میری قبر کی زیارت کی وہ اس شخص جیسا ہے جس نے میری زندگی میں میری زیارت کی۔ (یہ حدیث موضوع ہے)
حدیث48: لڑکا اپنے باپ کے نقشے قدم پر چلتا ہے۔ (یہ حدیث بے اصل ہے )
حدیث49: جس شخص نے ہر جمعہ کے روز اپنے ماں باپ (دونوں) یا ان میں سے کسی ایک کی قبر کی زیارت کی اس کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ (یہ حدیث موضوع ہے)
حدیث50: جس شخص نے اپنے والدین کی قبروں کی ہر جمعہ کے روز زیارت کی اور ان کی قبروں کے قریب سورۃ یسین کی تلاوت کی ۔ (یہ حدیث موضوع ہے)
حدیث51: بلاشبہ اللہ تعالی اس مومن بندے کو محبوب جانتا ہے۔ (یہ حدیث ضعیف ہے)
حدیث52: جب تم میں سے کسی کا چار پایہ حرام نہ ہو۔ (یہ حدیث ضعیف ہے)
حدیث53: بوڑھی عورتوں کے طور طریقوں اور دین کو اختیار کرو۔ (اس کا کچھ اصل نہیں)
حدیث54:جب قیامت قریب ہوگی اور خواہشات میں اختلاف رونما ہو گا تو ہمیں جنگل میں آباد لوگوں اور عورتوں کے طور طریقوں کو اپنانا ہو گا ۔ (یہ حدیث موضوع ہے)
حدیث55: تیز رفتاری مومن کے وقار کو ختم کر دیتی ہے۔ (یہ حدیث غایت درجہ منکر ہے )
حدیث56: اگر عورتیں نہ ہوتیں تو اللہ کی صحیح صحیح عبادت ہوتی۔ (یہ حدیث موضوع ہے)
حدیث57: میری امت کا اختلاف رحمت کا باعث ہے۔ (اس حدیث کا کچھ اصل نہیں)
حدیث58: میرے صحابہ کرام ستاروں کی مانند ہیں۔ (یہ حدیث من گھڑت اور بے بنیاد ہے)
حدیث59: تمھیں جو اللہ کی کتاب عطاء کی گئی اس پر عمل پیرا رہو۔ (یہ حدیث موضوع ہے)
حدیث60: میں نے اپنے پروردگار سے ان باتوں کے بارے میں استفسار کیا اور میرے صحابہ کا اختلاف تمھارے لیے باعث رحمت ہے۔ (یہ حدیث موضوع ہے)
حدیث61: بلا شبہ میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں۔ (یہ حدیث موضوع ہے)
حدیث62: میرے اہل بیت ستاروں کی مانند ہیں۔ (یہ حدیث موضوع ہے)
حدیث 63:بلا شبہ اولے نہ تو خوراک ہیں اور نہ ہی مشروب ہیں۔ (یہ حدیث منکر ہے)
حدیث64: بھیٹر کے ایک دانت والا جانور اچھی قربانی ہے۔
حدیث65: بھیڑ کا ایک سالہ بچہ قربانی کے لیے جائز ہے۔ (یہ حدیث ضعیف ہے)
حدیث66:جس نے اپنی ذات کو پہچان لیا اس نے اپنے پروردگار کو پہچان لیا۔ (اس حدیث کا کچھ اصل نہیں)
حدیث67: جس شخص نے فجر کی نماز میں ،،الم نشرح،، اور ،،الم ترکیف،، سورتیں تلاوت کیں تو اس کی آنکھوں میں درد نہیں ہوگا۔ (ایضا)
حدیث68: وضو بنانے کے بعد ،،انا انزلنا،، سورت کی قرآت کی جائے۔ (ایضا)
حدیث69: (وضو میں) گردن کا مسح کرنا (قیامت کے دن) طوق سے حفاظت کا ذریعہ ہے۔(یہ حدیث موضوع ہے)
حدیث70: جو شخص اپنے بھائی کو پیٹ بھر کر روٹی کھلاتا ہے۔ (یہ حدیث موضوع ہے)
حدیث71: اللہ اکبر کو لمبا کر کے نہ پڑھا جائے۔ (اس کی کوئی اصل نہیں)
حدیث72: میرے رب نے مجھے ادب سے نوازا اور مجھے اچھا نوازا۔ (یہ حدیث ضعیف ہے)
حدیث73: مؤذن جب ،،اشهد ان محمد الرسول الله،، کہے تو دونوں ہاتھوں کی انگشت شہادت کے پوروں کے ساتھ آنکھوں کا مسح کیا جائے ۔ (صحیح نہیں ہے)
حدیث74: قربانیوں کی تعظیم کرو اس لیے کہ تمھاری قربانیاں پل صراط پر تمھاری سواریاں ہوں گی۔ (کچھ اصل نہیں ہے)
حدیث75 : نماز فوت ہونے سے پہلے ادائیگی میں جلدی کرو اور وفات سے پہلے تو بہ میں جلدی کرو۔ (یہ حدیث موضوع ہے )
حدیث76: اہل علم کے سوا تمام لوگ مردہ ہیں۔ (یہ حدیث موضوع ہے)
حدیث77 : عیسی ہی مہدی ہیں۔ (یہ حدیث منکر ہے)
حدیث78: مومن کا بچا ہوا پانی شفاء ہے۔ (اس حدیث کا کچھ اصل نہیں ہے)
حدیث79: انسان کی تواضع کی علامت ہے کہ وہ اپنے مومن بھائی کا جھوٹا پانی پی لے۔ (یہحدیث موضوع ہے)
حدیث80: مہدی میرے چچا عباس کی اولاد سے ہے۔ (یہ حدیث موضوع ہے)
حدیث 81: اے عباس بے شک اللہ نے دین کا آغاز میرے ساتھ کیا اور اس کا اختتام ایسے جواں سال انسان سے فرمائے گا جو تیری اولاد سے ہوگا۔ (ایضا)
حدیث 82: خبردار! اے ابو الفضل میں تجھ کو خوشخبری دیتا ہوں۔ (ایضاً)
حدیث 83: تسبیح کے دانوں پر اللہ کا ذکر کرنا بہترین طریقہ ہے۔ (ایضاً)
حدیث 84:تم سب سے افضل ہو۔ ( یہ حدیث ضعیف ہے)
حدیث 85: تمھارے خزانے کے باعث تین انسان قتل ہوں گے وہ تینوں خلیفہ کے بیٹے ہوں گے۔ (یہ حدیث منکر ہے)
حدیث 86: طاعون کی وباء تمھارے ،،جن،، بھائیوں کی طرف سے ایک گرفت ہے۔ (ان الفاظ کے ساتھ کچھ اصل نہیں)
حدیث 87: جب خطیب ممبر پر چلا جائے تو پھر نہ نماز ہے نہ گفتگو ہے۔ (باطل ہے)
حدیث88: کھیتی کا شکار کی ہے اگر چہ اس نے زمین پر غاصبانہ قبضہ کیا ہو۔ (باطل ہے)
حدیث89: کسی چیز کا مالک ہی اس بات کا زیادہ حق دار ہے کہ وہ اس چیز کو اٹھائے۔ (یہ حدیث موضوع ہے)
حدیث90: اونی لباس زیب تن کرو تم (اس کی وجہ سے) اپنے دلوں میں ایمان کی حلاوت پاؤگے۔ (ایضاً)
حدیث91: میں اللہ کی جھوٹی قسم اٹھاؤں مجھے زیادہ محبوب ہے کہ میں غیر اللہ کا نام لے کر سچی قسم اٹھاؤں۔ (ایضاً)
حدیث92: جس شخص میں تین خصلتیں ہیں اللہ اس پر اپنے پہلو کو جھکاتا ہے۔ (ایضاً)
حدیث93: قیامت کے دن لوگ صفیں باندھے ہوں گے۔ (یہ حدیث ضعیف ہے)
حدیث94: اسلام اور دین اسلام کی بنیادی باتیں تین ہیں۔ (ایضا)
حدیث95: توبہ کرنے والا اللہ تعالیٰ کا محبوب ہے۔ (ان الفاظ کے ساتھ اصل نہیں ہے)
حدیث96: بے شک اللہ تعالیٰ ایسے بندوں کو محبوب جانتا ہے جو فتنے میں مبتلا ہو کر تائب ہو جاتے ہیں۔ (یہ حدیث موضوع ہے)
حدیث97: بلاشبہ اللہ اس نوجوان کو محبوب جانتا ہے جو توبہ کرنے والا ہے۔ (یہ حدیث ضعیف ہے)
حدیث98: یقینا اللہ عزوجل اس نوجوان کو محبوب جانتا ہے جس کی جوانی اللہ عزوجل کی اطاعت میں صرف ہوئی۔ (یہ حدیث موضوع ہے)
حدیث99: بلا شبہ اللہ عز وجل اس آدمی کو محبوب جانتا ہے جو عبادت گزار اور نظافت سے رہتا ہے۔ (ایضا)
حدیث100: صالحین کی نیکیاں مقربین کی (نسبت کے لحاظ) برائیں ہیں۔ (یہ حدیث باطل ہے)
چند مزید موضوع اور ضعیف احادیث پر تبصرہ و تحقیق (ابوطاہر حافظ زبیر علی زئی حضرو اٹک):
الحمد لله رب العلمين والصلوة والسلام على رسوله الأمين أما بعد! بعض لوگ اپنے باطل نظریات کے لیے قرآن و سنت میں لفظی و معنوی تحریفات کے ساتھ ساتھ بعض موضوع اور ضعیف روایات بھی پیش کرتے ہیں۔ لہذا اس مختصر مضمون میں چند ایسی ہی روایات پر تبصرہ و تحقیق پیش خدمت ہے جن سے عامۃ الناس کے شبہ میں پڑنے کا خطرہ ہے۔ وما توفیقی الا بالله!
① من صلى على عند قبري سمعته… الخ
جو شخص مجھ پر میری قبر کے پاس دور و پڑھے میں اسے سنتا ہوں۔
(شعب الایمان، بیھقی:318/3، ح:1583، فضائل حج:ص901 حنفی بہشتی زیور، از عالم فقری بریلوی ص490 و غیر هم)
اس روایت کا مرکزی راوی محمد بن مروان السدی ہے۔ (بیھقی۔ میزان الاعتدال وغیرہ)
عبد اللہ ابن نمیر رحمہ اللہ اور جریر بن عبد الحمید رحمہ اللہ نے کہا: ،،کذاب،، (یعنی یہ جھوٹا ہے) ۔ امام صالح جزرہ نے کہا :،،كان ضعيفا و كان يضع،، یہ ( محمد بن مروان) ضعیف تھا (بلکہ) یہ جھوٹی حدیثیں گھڑتا تھا۔ (تہذیب التہذیب:387/9) حافظ برہان الدین الحلبی نے اس کا تذكره ،،الكشف الحثيث عمن رمى بوضع الحدیث،، میں کیا ہے۔ (ص404)
بعض لوگوں نے اس روایت کی ایک اور سند ابو الشیخ الاصبہانی کی کسی کتاب سے تلاش کی ہے۔ (دیکھیے آئینہ تسکین الصدور : 327،326) حالانکہ یہ روایت بھی باطل ہے۔ اس میں ابو الشیخ کے استاد عبدالرحمن بن احمد الاعرج کی عدالت نا معلوم ہے۔ (دیکھیے آئینہ تسکین الصدور:113)
ان دونوں سندوں میں الاعمش ہیں جو بالاتفاق مدلس ہیں۔ (آئینہ تسکین الصدور:131) مدلس کی عن والی روایت ضعیف ہوتی ہے۔ (کتاب الرسالة للشافعي عام كتب اصول حدیث خزائن السنن:1)،(فتاوی رضویہ:5،،266/245و غیر هم)
② اختلاف أمتي رحمة:
میری امت کا اختلاف رحمت ہے ۔ (الجامع الصغیر وغیرہ)
ہمارے علم کے مطابق کسی کتاب میں بھی اس کی کوئی سند موجود نہیں۔ علامہ سبکی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مجھے اس کی نہ صحیح سند ملی اور نہ ضعیف اور نہ موضورع (فیض القدر للمناوی) علامہ ابن حزم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ،،باطل کذوب،، یعنی یہ روایت باطل اور جھوٹی ہے ۔ ( الاحکام)
③ لولاك لما خلقت الأفلاك:
اگر آپ نہ ہوتے تو میں کائنات پیدا نہ کرتا۔ (موضوعات صنعائی)
اس کی کوئی سند بھی ہمارے علم میں نہیں ہے۔ امام صنعائی رحمہ اللہ نے اسے موضوع قرار دیا ہے۔ امام دیلمی رحمہ اللہ کی گنجینه موضوعات کتاب الفردوس میں بھی یہ روایت (لفظاً ومعنا) نہیں ملی۔ ابن عساکر رحمہ اللہ والی روایت کو ابن جوزی رحمہ اللہ اور سیوطی رحمہ اللہ، دونوں نے موضوع قرار دیا ہے۔
④ يا سارية الجبل:
اے ساریہ پہاڑ کے پیچھے ہو جاؤ۔ (الاصابہ وغیرہ)
سید نا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک لشکر بھیجا، اور اس پر ایک شخص کو امیر بنایا جس کا نام ساریہ تھا۔ آپ خطبہ دے رہے تھے کہ آپ نے پکار کر کہا: ساریہ پہاڑ کو لازم پکڑ لشکر سے ایک قاصد آیا، کہنے لگا :اے امیر المومنین! جب ہم دشمن سے ملے تو ہماری شکست ہوئی تو ایک پکارنے والے نے پکارا: اے ساریہ پہاڑ کو لازم پکڑ ہم نے اپنی پیٹھیں پہاڑ کی طرف کر لیں تو اللہ نے ان کو شکست دی۔ اس کو بیہقی نے دلائل النبوة میں روایت کیا۔
اس روایت کی مرکزی سند کا راوی محمد بن عجلان مدلس ہے (طبقات المدلسین لابن حجر رحمہ اللہ وغیرہ) اور عن سے روایت کر رہا ہے۔ اس کے دیگر جتنے شواہد ہیں سب ضعیف ہیں۔ تفصیلی بحث کے لیے دیکھیے (قبر پرستی ایک حقیقت پسندانہ جائزہ طبع دوئم ص 155 از راقم الحروف) کے لیے
⑤ الأبدال يكونون بالشام:
ابدال شام میں ہوں گے۔ (مسند احمد:112/1)
شریح بن عبید سے روایت ہے کہ اہل شام کا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس ذکر کیا گیا اور کہا گیا: اے امیر المومنین! ان پر لعنت کریں۔ آپ رضي اللہ عنہ نے فرمایا: نہیں، میں نے رسول اللہﷺ سے سنا ہے، آپ فرماتے تھے ابدال اہل شام میں سے ہوں گے، وہ چالیس آدمی ہیں، جب بھی ان میں سے کوئی آدمی فوت ہو جاتا ہے، اس کی جگہ اور آدمی اللہ تعالی بدل دیتا ہے، ان کی برکت سے بارش برستی ہے، ان کی دعاؤں سے دشمنوں پر فتح ہوتی ہے، اور اہل شام سے ان کی وجہ سے عذاب پیلٹا دیا جاتا ہے۔
اس کی سند انقطاع کی وجہ سے ضعیف ہے۔ (مسند احمد تحقیق احمد محمد شاکر 171/20، ح896) اور شریح بن عبید کی سیدنا علی رضي اللہ عنہ سے ملاقات ثابت نہیں ہے۔
⑥ ایک روایت ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضي اللہ عنہما کا پاؤں سن ہو گیا تو آپ نے کہا (یا) محمد ۔۔۔۔۔ الخ (الأدب المفرد للبخاری:ح 250:964، فی نسخه:ح 324:967)
اس روایت میں دو راوی سفیان الثوری رحمہ اللہ اور ابو اسحاق (السبیعی) عن سے روایت کر رہے ہیں اور دونوں مدلس ہیں۔ (کتب المدلسین)
⑦ يا جابر أول ما خلق الله نور نبيك:
اے جابر! اللہ نے سب سے پہلے تیرے نبی کا نور پیدا کیا۔ (زرقانی۔ نشر الطیب وغیره)
یہ روایت نہ تو مصنف عبد الرزاق میں موجود ہے اور نہ تفسیر عبدالرزاق میں، بلکہ تلاش بسیار کے باوجود اس کی کوئی بھی سند نہیں ملی۔ یہ صحیح روایت کے بھی خلاف ہے۔ دیکھئے محترم ڈاکٹر ابو جابر عبد الله دامانوی کی کتاب،،عقیدہ نور من نور اللہ،، کی شرعی حیثیت (قرآن وحدیث کی روشنی میں) [ص40تا48]۔ اس مفہوم کی ایک مختصر روایت رافضیوں کی اصول کافی(442/1)نمبر10: میں ابو جعفر (محمد بن علی بن الحسین الباقر) سے منقول ہے۔ لیکن یہ سند اہل السنہ اور الروافض دونوں کے نزدیک موضوع ہے۔ محمد بن سنان اور جابر الجعفی کے علاوہ اس کی سند میں المفصل بن صالح ابو جمیلہ الاسدی ہے، جسے ابن الفصائری (رافضی) وغیرہ نے،،كذاب يضع الحديث،، قرار دیا ہے۔ (تنقيح المقال للمامقاني الرافضي:238/237/3) بلکہ ہاشم معروف (رافضی) نے لکھا ہے : ،،اتفق المؤلفون في أحوال الرجال أنه كان كذابا يضع الحديث،، (الموضوعات:230،بحواله رجال الشيعة في الميزان:ص119،الكويت) (یعنی) اسماء الرجال میں سے (رافضی) مصنفین کا اتفاق ہے کہ یہ شخص جھوٹا تھا اور احادیث گھڑتا تھا۔
⑧ سعید بن عبد العزیز سے روایت ہے کہ جب حرہ کا واقعہ پیش آیا تو نبی رحمتﷺ کی مسجد میں تین دن اذان اور اقامت نہ کہی گئی اور سعید بن مسیب کو نماز کا وقت معلوم نہیں ہوتا تھا، مگر خفی آواز سے کہ اس کو حجرہ کے اندر سے سنتے تھے کہ نبی اکرمﷺ کی قبر مبارک وہاں تھی۔ (سنن الدارمی:44/1،ح 94)
اس روایت کے ایک راوی سعید بن عبد العزیز ثقہ ہیں، مگر آخر عمر میں اختلاط کا شکار ہو گئے تھے۔ (تقريب التهذيب وعام كتب الرجال، كتب المختلطين-تلخيص الحبير:180/3) اس کا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ مروان بن محمد نے ان کے اختلاط سے پہلے روایت کی ہے۔ دوسرا یہ کہ سعید نے اس کی صراحت بھی بیان نہیں فرمائی کہ سعید بن المسیب کا یہ واقعہ انھیں کسی سند سے معلوم ہوا تھا؟
⑨ ابو الجوزاء سے روایت ہے کہ مدینہ میں سخت قحط پڑ گیا، تو انھوں نے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہما کے پاس شکایت کی۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہما نے فرمایا: تم قبر نبوی اور آسمان کے درمیان روشن دان بناؤ، یہاں تک کہ قبر اور آسمان کے درمیان رکاوٹ نہ ہو۔ لوگوں نے ایسا ہی کیا جیسا کہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہما نے فرمایا تھا۔ سو بہت زیادہ بارش برسائی گئی یہاں تک کہ گھاس اگ گئی، اونٹ موٹے ہو گئے اور چربی سے پھٹ گئے تو اس سال کا نام فتق رکھا گیا۔
عمرو بن مالک کی بعض محققین نے توثیق کی ہے مگر امام بخاری رحمہ اللہ نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ (تھذیب:336/1) ابو الجوزاء اوس بن عبد اللہ کی، ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہما سے ملاقات میں اختلاف ہے۔ اس روایت میں بشرط صحت اس نے نہیں بتایا کہ اسے یہ روایت کسی ذریعہ سے معلوم ہوئی ہے؟ ایسی مشکوک اور منقطع روایت پر قبر پرستی کی بنیاد رکھنا انتہائی مذموم حرکت ہے۔ اعاذنا الله منه!
⑩ ایک روایت کا خلاصہ یہ ہے کہ آدم علیہ السلام نے نبی کریمﷺ کے وسیلے سے دعا کی تھی۔ (المستدرك الحاكم:6180/2)
اسے حافظ ذہبی نے موضوع اور باطل قرار دیا۔ (المیزان وغیرہ) اس کے ایک راوی عبد الرحمن ابن زید بن اسلم کے بارے میں صاحب مستدرک امام حاکم فرماتے ہیں:،،روی عن أبيه أحاديث موضوعة،، الخ (المدخل الى الصحيح:154) یعنی اس نے اپنے باپ سے موضوع روایات بیان کی ہیں (جن میں ملامت اس پر ہے)۔ اس کا شاگرد عبد الله مجہول یا معجم الصغیر میں مجہول راویوں کے ساتھ اس کی دوسری سند موجود ہے، جس کا موضوع ہونا ظاہر ہے۔ (دیکھیے مجمع الزوائد:253/8وغیرہ)
اللہ تبارک و تعالی ہمیں کتاب و سنت پر ثابت قدم رکھے اور ہمارا خاتمہ (من أحب لله و أبغض لله و أعطى لله و منع لله فقد استكمل الإيمان) کے مطابق ہو۔آمین!
سب سے ضروری گزارش:
جو انسان کلمہ طیبہ پڑھ لیتا ہے اس پر واجب ہے:
① توحید کا عقیدہ رکھے اور شرک نہ کرے۔
② ایمان کا عقیدہ رکھے اور کفر سے بچے۔
③ خلوص والا عقیدہ رکھے اور نفاق سے بچے۔
④ سنت کا عقیدہ رکھے اور بدعت سے بچے۔
کیونکہ توحید، ایمان، خلوص اور سنت وہ چیزیں ہیں کہ ان پر عقیدہ رکھنے والا اور عمل کرنے والا کلمہ گو انسان اللہ تعالیٰ کے وعدہ کے مطابق جنت میں جائے گا اور شرک، کفر، نفاق اور بدعت ایسی خطرناک چیزیں ہیں، کہ ان پر عقیدہ رکھنے والا اور عمل کرنے والا انسان قیامت کے دن شدید خطرے میں ہوگا،اور اس کے ساتھ مجرموں والا سلوک ہوگا۔ یہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کیونکہ پہلے ایمان یعنی عقیدہ ہے اور پھر عمل:
[وَ مَنۡ یَّکۡفُرۡ بِالۡاِیۡمَانِ فَقَدۡ حَبِطَ عَمَلُہٗ ۫ وَ ہُوَ فِی الۡاٰخِرَۃِ مِنَ الۡخٰسِرِیۡنَ]
اور جو ایمان سے منکر ہوا تو اس کے اعمال ضائع ہوئے اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا۔[المائدة:5]
[ہَلۡ اَتٰىکَ حَدِیۡثُ الۡغَاشِیَۃِ]،[وُجُوۡہٌ یَّوۡمَئِذٍ خَاشِعَۃٌ]،[عَامِلَۃٌ نَّاصِبَۃٌ]،[تَصۡلٰی نَارًا حَامِیَۃً]
[کیا تیرے پاس ڈھانپ لینے والی کی خبر پہنچی؟]،[اس دن کئی چہرے ذلیل ہوں گے]،[محنت کرنے والے، تھک جانے والے]،[ گرم آگ میں داخل ہوں گے]،[سورة الغاشية:1تا4]
مزید حواله جات[التوبه:18/17]،[مقدمه هدایه:2/1] میں ہے کہ جب تک صحیح اعتقاد نہ ہو بدنی اعمال رائیگاں ہیں۔
مراد آبادی کی تفسیر میں بھی یہی بات لکھی ہے کہ نیک اعمال کی قبولیت کے لیے عقائد کا درست ہونا ضروری ہے۔ دیکھیے احمد رضا صاحب کا ترجمہ مع تفسیر
[البقرة:17،ف311]،[النحل:97،ف230]،[بني إسرائيل:19،ف52]،[طه:112،ف170]
اسے ضرور پڑھیں
اس کتاب میں کنز الایمان اور حافظ نذر احمد کے قرآنی ترجمہ کے بہت سے عکس دیے گئےہیں۔
کنز الایمان جو کہ احمد رضا خاں صاحب کا قرآنی ترجمہ ہے، اور نعیم الدین مراد آبادی کی قرآنی تفسیر ہے۔ اس کی پہچان یہ ہے کہ عربی کے نیچے ترجمہ کیا گیا ہے، اور نیچے علیحدہ تفسیر لکھی گئی ہے۔ یعنی عربی قرآن، نیچے اردو ترجمہ اور نیچے علیحدہ اردو تفسیر لکھی گئی ہے۔ دیکھئے: [یہ کتاب ص (143-144)(188تا191)(107تا109)(198تا211)(229تا231)(251تا259)(578،577) وغیره
حافظ نذر احمد کا صرف قرآنی ترجمہ ہے اس میں تفسیر نہیں ہے۔ یہ دو بریلوی علماء مفتی محمد حسین نعیمی اور محمد سرفراز صاحب نعیمی، دو دیو بندی علماء عبد الرؤف ملک صاحب اور سعید الرحمن علوی اور دو اہلحدیث علماء عزیز زبیدی صاحب اور پروفیسر مزمل احسن صاحب کا متفق علیہ ترجمہ ہے۔ اور یہ 1300 صفحات پر مشتمل ہے۔ دیکھئے: [یہ کتاب ص(242تا250)(590تا592)(599/598)




