مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

ہجری اور عیسوی سال کی تفریق کا شرعی جائزہ

فونٹ سائز:

سوال:

کیا ہجری سال کو مسلمانوں اور عیسوی سال کو مسیحیوں سے مخصوص کرنا شرعی طور پر درست ہے؟

جواب از فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

1. ہجری اور عیسوی سال کی بنیاد:

  • ہجری سال کا آغاز سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں ہوا۔
  • عیسوی سال کی بنیاد غالباً عیسائیوں نے اپنے مذہبی معاملات کی ترتیب کے لیے رکھی ہو۔

2. شرعی تفریق:

  • قرآن و سنت میں کئی احکام قمری سال کے مطابق دیے گئے ہیں، جیسے:
    • عورت کی عدت۔
    • رمضان کے روزے۔
    • عید الفطر اور عید الاضحیٰ۔
  • دوسری طرف، کچھ معاملات میں سورج کے اوقات کو مدنظر رکھا گیا ہے، جیسے:
    • نمازوں کے اوقات۔

3. تفریق کا شرعی اعتبار:

  • یہ کہنا کہ ہجری سال صرف مسلمانوں کا اور عیسوی سال صرف عیسائیوں کا ہے، ایسا کوئی حکم شرعی طور پر واضح طور پر کہیں موجود نہیں۔
  • البتہ قمری سال کے اعتبار سے مسلمانوں کے مذہبی معاملات کو ترتیب دیا گیا ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔