مضمون کے اہم نکات
سوال
علما کرام کی خدمت میں عرض ہے کہ مرحوم خدابخش کی اہلیہ مسمات رحمت (عاقلہ و بالغہ) نے گواہوں کی موجودگی میں کچھ نقد رقم لے کر باقی زمین اپنے سسر حاجی موسیٰ کو بطور ہبہ دے دی تھی۔ اس واقعہ کو تقریباً 35 سال گزر چکے ہیں، اور یہ زمین آگے چل کر حاجی موسیٰ کے ورثاء میں بھی تقسیم ہو چکی ہے۔ اب مسمات رحمت اس زمین کو واپس لینا چاہتی ہیں۔ براہِ کرم وضاحت فرمائیں کہ کیا وہ اپنی ہبہ کی ہوئی زمین کو واپس لے سکتی ہیں یا نہیں؟
جواب
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
یہ بات واضح طور پر سمجھ لینی چاہیے کہ مسمات رحمت اپنی دی ہوئی زمین (جو ہبہ کے طور پر دی گئی تھی) کو واپس نہیں لے سکتیں، اور نہ ہی یہ عمل جائز ہے۔
دلائل
حدیث مبارکہ:
((عن ابن عباس قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم العائد فى هبته كالكلب يقيئى ثم يعود فى قيئه.))
(متفق عليه)
ترجمہ:
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: *”جو شخص اپنے ہبہ (تحفہ) کو واپس لیتا ہے وہ اس کتے کی مانند ہے جو قے کر کے پھر اپنی قے کی طرف لوٹتا ہے۔”*
حدیث مبارکہ:
((عن ابن عمرو بن عباس رضى الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لا يحل للرجل أن يعطى العطية ثم يرجع فيها إلا الوالد فيما يعطى ولده.))
(رواه احمد)
ترجمہ:
حضرت ابن عمرو بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
*”کسی مسلمان کے لیے یہ حلال (جائز) نہیں کہ وہ کوئی عطیہ (تحفہ یا بخشش) دے کر دوبارہ اسے واپس لے، سوائے والد کے کہ وہ اپنی اولاد کو دی ہوئی چیز واپس لے سکتا ہے۔”*
نتیجہ
مذکورہ احادیث کی روشنی میں مسمات رحمت کے لیے اپنی ہبہ کی ہوئی زمین کو واپس لینا جائز نہیں ہے۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب