مضمون کے اہم نکات
ہبہ اور عطیے کا حکم
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
کسی بھی عاقل، بالغ اور جائز التصرف شخص کا اپنی زندگی میں اپنا معلوم مال یا متاع کسی دوسرے کو خوش دلی سے دے دینا **ہبہ** کہلاتا ہے۔ مثلاً کوئی مسلمان کسی کو مکان دے دے یا کچھ رقم دے دے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی ہدیہ دیتے تھے اور ہدیہ قبول بھی فرماتے تھے۔ سنتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں ہدیہ اور ہبہ دینے کی بہت زیادہ ترغیب دی گئی ہے، کیونکہ اسلامی معاشرے میں اس کے نہایت اچھے اثرات ظاہر ہوتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"تهادَوْا تحابُّوا”
“ایک دوسرے کو تحفے دیا کرو، اس سے آپس میں محبت بڑھے گی۔” [صحیح البخاری الھیۃ باب من رای الھیۃ الغالبۃ جائزۃ حدیث2585۔]
سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے:
"كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيهِ وَسَلَّمَ يَقبَلُ الهَدِيَّةَ وَيُثِيبُ عَلَيهَا”
“رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہدیہ قبول فرماتے تھے اور اس کے بدلے میں جوابی تحفہ بھی دیا کرتے تھے۔” [صحیح البخاری الھیۃ باب المکافاۃ فی الھیۃ حدیث 2585۔]
مزید آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"تهادوا فإن الهدية تسل السخيمة”
“تحفہ دیا کرو، کیونکہ تحفہ دینے سے کینہ اور بغض ختم ہو جاتا ہے۔” [(ضعیف) جامع الولاء والھیۃ باب فی النبی صلی اللہ علیہ وسلم علی الھیۃ حدیث 2130وارواء الغلیل 6/المعجم الاوسط 1/416۔حدیث 1526واللفظ لہ۔]
ہبہ میں قبضے کا حکم
جب کسی شخص کو ہبہ دیا جائے اور وہ اسے قبول کر کے اپنے قبضے میں لے لے، تو پھر ہبہ کرنے والے کے لیے جائز نہیں رہتا کہ وہ اسے واپس لے۔ البتہ قبضے سے پہلے رجوع کیا جا سکتا ہے۔ اس کی دلیل سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی وہ روایت ہے جس میں مذکور ہے کہ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے “غابہ” کے مقام پر موجود اپنے مال میں سے بیس وسق کھجوریں انہیں ہبہ کیں۔ پھر جب آپ بیمار ہوئے اور وفات کا وقت قریب آیا تو فرمایا:
میری پیاری بیٹی! میں نے تمہیں بیس وسق کھجوریں ہبہ کی تھیں، اگر تم ان پر قبضہ کر لیتیں تو وہ تمہاری ہو جاتیں، لیکن چونکہ تم نے قبضہ نہیں کیا، اس لیے آج وہ تمام ورثاء کا مشترکہ مال ہیں، لہٰذا تم انہیں کتاب اللہ کی تعلیم کے مطابق تقسیم کر دینا۔ [الموطا للامام مالک 1444 والد اپنی اولاد کو کوئی شے ہبہ کر کے واپس لے سکتا ہے اگرچہ اولاد نے اس پر قبضہ کر لیا ہو۔ اس لیے کہ اولاد اور اس کا مال والد ہی کا تو ہے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: "لَا يَحِلُّ لِلرَّجُلِ أَنْ يُعْطِيَ عَطِيَّةً ثُمَّ يَرْجِعُ فِيهَا إِلَّا الوَالِدَ فِيمَا يُعْطِي وَلَدَهُ” کسی آدمی کے لیے حلال نہیں کہ وہ کوئی شے ہبہ کر کے واپس لے سوائے والد کے جو وہ اپنی اولاد کو دیتا ہے۔(جامع الترمذی الولاء اولھیۃ باب ماجاء فی کراھیۃ الرجوع فی الھیۃ حدیث : 2132)لہٰذا مذکورہ اثر سے استدلال جامع نہیں ہے۔]
اگر کوئی چیز پہلے ہی کسی شخص کے پاس بطور امانت موجود ہو، یا اس نے عاریتاً لی ہوئی ہو، پھر مالک وہی چیز اسے ہبہ کر دے، تو اس چیز کا اسی کے پاس موجود رہنا قبضہ ہی شمار ہوگا۔
اگر کسی کے ذمہ قرض ہو اور قرض خواہ وہ قرض معاف کرتے ہوئے اسے ہبہ کر دے، تو مقروض بری الذمہ ہو جائے گا۔
اسی طرح ہر وہ چیز ہبہ کی جا سکتی ہے جسے فروخت کرنا جائز ہو۔
ہبہ کو شرطِ مستقبل کے ساتھ معلق کرنا
ہبہ کو کسی آئندہ شرط کے ساتھ مشروط کرنا جائز نہیں۔ مثلاً کوئی شخص کہے:
“میں نے تجھے یہ چیز ہبہ کی بشرطیکہ مجھے اتنا مال حاصل ہو جائے۔”
ہبہ میں مدت مقرر کرنے کا حکم
ہبہ میں مدت مقرر کرنا بھی درست نہیں۔ مثلاً کوئی شخص یہ کہے:
“میں نے تمہیں فلاں چیز ایک مہینے یا ایک سال کے لیے ہبہ کی۔”
اس کی وجہ یہ ہے کہ ہبہ کا مطلب کسی چیز کا مالک بنا دینا ہے، لہٰذا اس میں وقت کی تحدید قبول نہیں کی جائے گی، جیسے بیع میں وقت کی تعیین نہیں ہوتی۔
موت کے ساتھ معلق ہبہ کا حکم
اگر ہبہ میں موت کی شرط لگا دی جائے تو یہ درست ہے۔ مثلاً کوئی شخص کہے:
“جب میں فوت ہو جاؤں گا تو فلاں فلاں چیز تمہیں ہبہ کرتا ہوں۔”
یہ دراصل وصیت کے حکم میں ہوگا، لہٰذا اس پر وصیت ہی کے احکام لاگو ہوں گے۔
اولاد میں عطیہ دیتے وقت عدل و مساوات
کسی شخص کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنی اولاد میں سے کسی ایک کو عطیہ دے اور دوسرے کو نہ دے، یا ایک کو دوسرے کی نسبت زیادہ دے۔ بلکہ اس پر لازم ہے کہ سب کے ساتھ برابری کا معاملہ کرے اور عدل و مساوات قائم رکھے۔
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میرے والد نے مجھے ایک غلام بطور عطیہ دیا، پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور چاہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس عطیے پر گواہ بنائیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"أَكُلَّ وَلَدِكَ نَحَلْتَ مِثْلَهُ ؟ قَالَ: لَا، قَالَ رسولُ اللهِ – صلى الله عليه وسلم: فَارْجِعْهُ "
“کیا تم نے اپنی تمام اولاد کو بھی ایسا ہی عطیہ دیا ہے؟” انہوں نے عرض کیا: نہیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “اپنا عطیہ واپس لے لو۔” [صحیح البخاری الھیۃ باب الھیۃ للولد حدیث 2586۔وصحیح مسلم الھیات باب کراھیہ تفضیل بعض الاولاد فی الھیہ حدیث 1623۔1623واللفظ لہ]
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"اتَّقُوا اللَّهَ، وَاعْدِلُوا فِي أَوْلَادِكُمْ "
“اللہ سے ڈرو اور اپنی اولاد کے درمیان عدل و انصاف کرو۔” [صحیح البخاری الھیہ باب الاشہاد فی الھیہ حدیث 2587وصحیح مسلم الھیات باب کراھۃ تفضیل بعض الاولاد فی الھیۃ حدیث 1623۔]
اس روایت سے معلوم ہوا کہ عطیے کے معاملے میں اولاد کے درمیان عدل و مساوات ضروری ہے، ورنہ یہ ظلم ہوگا۔
اگر کوئی شخص اپنی اولاد میں سے بعض کو ہبہ دے اور بعض کو نہ دے، یا بعض کو زیادہ دے اور بعض کو کم دے، تو جس شخص کو اس صورتِ حال کا علم ہو، اس کے لیے اس معاملے پر گواہ بننا حرام ہے۔
ہبہ واپس لینے کا حکم
جب کوئی شخص کسی چیز کو ہبہ کر دے اور موہوب لہ اسے قبضے میں بھی لے لے، تو اس کے بعد اس چیز کو واپس لینا حرام ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْكَلْبِ يَقِيءُ ثُمَّ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ "
“اپنے ہبہ میں واپس آنے والا اس کتے کی طرح ہے جو قے کرتا ہے، پھر اپنی ہی قے کی طرف لوٹ آتا ہے۔” [صحیح البخاری الھیۃ باب حۃ الرجل لامراتہ لزوجہا حدیث 2589۔ وصحیح مسلم الھیات باب تحریم الرجوع فی الصدقۃ حدیث 1622۔]
یہ حدیث ہبہ دے کر واپس لینے کی حرمت پر دلیل ہے، سوائے اس ہبہ کے جسے شارع نے مستثنیٰ قرار دیا ہو۔ چنانچہ والد اپنی اولاد کو دیا ہوا ہبہ واپس لے سکتا ہے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"لَا يَحِلُّ لِلرَّجُلِ أَنْ يُعْطِيَ عَطِيَّةً ثُمَّ يَرْجِعُ فِيهَا إِلَّا الوَالِدَ فِيمَا يُعْطِي وَلَدَهُ”
“کسی آدمی کے لیے حلال نہیں کہ وہ کسی کو عطیہ یا تحفہ دے کر پھر اسے واپس لے، سوائے والد کے، جو وہ اپنی اولاد کو دیتا ہے۔” [سنن ابی داؤد البیوع باب الرجوع فی الھیۃ حدیث 3539 ومسند احمد1/237۔وجامع الترمذی الولاء والھیۃ باب ماجاء فی کراھیۃ الرجوع فی الھیۃ حدیث 2132۔]
والد کا اولاد کے مال میں سے لینا
والد کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنی اولاد کے مال میں سے لے، بشرطیکہ اولاد کو اس کی ضرورت نہ ہو اور اس سے اولاد کو نقصان بھی نہ پہنچے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"إنّ أطْيَبَ مَا أكْلْتُمْ مِنْ كَسْبِكُمْ. وإنّ أوْلاَدَكُمْ مِنْ كَسْبِكُمْ”
“تمہارا بہترین کھایا ہوا مال وہ ہے جو تمہاری اپنی کمائی سے ہو، اور بے شک تمہاری اولاد بھی تمہاری کمائی میں سے ہے۔” [۔۔جامع الترمذی الاحکام باب ماجاء ان الوالد یاخذ من مال ولدہ حدیث 1358۔]
اس حدیث کے کئی شواہد بھی موجود ہیں، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ باپ کے لیے اپنے بیٹے کے مال میں سے لینا، اسے اپنی ملکیت میں لانا، یا اس میں سے کھانا جائز ہے، بشرطیکہ اس سے بیٹے کو نقصان نہ پہنچتا ہو اور نہ ہی وہ چیز اس کی ضرورت میں شامل ہو۔
بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان:
"أنت ومالُك لأبيك”
“تو اور تیرا مال تیرے باپ کا ہے۔” [سنن ابی داؤد البیوع باب الرجل یا کل من مال ولدہ حدیث 3530 وسنن ابن ماجہ التجارات باب ماللرجل من مال ولدہ حدیث 2291 واللفظ لہ۔]
اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ جس طرح اس کا مال باپ کے لیے مباح ہے، اسی طرح اس کی جان بھی باپ کی خدمت کے لیے حاضر ہونی چاہیے۔ لہٰذا اولاد پر واجب ہے کہ وہ اپنے والد کی خدمت اپنی جان اور مال دونوں کے ساتھ کرے۔
البتہ والد کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اولاد کے مال میں سے اتنا لے لے کہ اولاد کو نقصان ہو، یا وہ چیز اولاد کی ضرورت سے متعلق ہو، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"لا ضرر ولا ضرار”
“نہ خود نقصان اٹھاؤ اور نہ دوسرے کو نقصان پہنچاؤ۔” [سنن ابن ماجہ الاحکام باب من بنی فی حقہ ما یضر بجارہ حدیث 2340۔]
اولاد کا باپ سے قرض کا مطالبہ کرنا
اولاد کے لیے ہرگز جائز نہیں کہ وہ باپ کو قرض دے کر پھر اس سے واپسی کا مطالبہ کرے۔ حدیث میں آتا ہے کہ ایک شخص اپنے والد کو ساتھ لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنے والد سے قرض کی واپسی کا مطالبہ کرنے لگا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"أنت ومالُك لأبيك”
“تو اور تیرا مال تیرے باپ کا ہے۔” [سنن ابی داؤد البیوع باب الرجل یا کل من مال ولدہ حدیث 3530 وسنن ابن ماجہ التجارات باب ماللرجل من مال ولدہ حدیث 2291 واللفظ لہ۔]
اس روایت سے ثابت ہوا کہ باپ سے قرض کا مطالبہ کرنا اولاد کا حق نہیں ہے۔
نیز اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا﴾
“اور ماں باپ کے ساتھ احسان کرو۔” [۔۔الانعام:15۔16۔]
اللہ تعالیٰ نے والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم دیا ہے، اور اس حسنِ سلوک میں یہ بات بھی شامل ہے کہ اگر والدین کے ذمے اولاد کا کوئی حق، جیسے قرض وغیرہ، ہو تو اولاد ان سے اس کا مطالبہ نہ کرے۔
البتہ والدین کے ذمے اولاد کے جو لازمی اخراجات ہیں، مثلاً نان و نفقہ وغیرہ، ان کا مطالبہ کیا جا سکتا ہے، بشرطیکہ بچہ کمانے کی قدرت نہ رکھتا ہو، کیونکہ زندگی کی حفاظت ضروری ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ ہندہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے فرمایا:
"خُذِي مَا يَكْفِيكِ وَوَلَدَكِ بِالْمَعْرُوفِ "
“تم اتنا مال لے سکتی ہو جو دستور کے مطابق تمہیں اور تمہاری اولاد کو کافی ہو۔” [صحیح البخاری الفقات باب اذا لم ینفق الرجل فللمراہ ان تاخذ بغیر علمہ۔حدیث 5364۔]
ہدیہ کے معاشرتی اور اخلاقی فوائد
ہدیہ بغض اور کینہ کو ختم کرتا ہے، اور الفت و محبت پیدا کرتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"تَهَادَوْا فَإِنَّ الْهَدِيَّةَ تُذْهِبُ وَحرَ الصَّدْرِ”
“ایک دوسرے کو ہدیہ دیا کرو، کیونکہ ہدیہ سینوں کی کدورت دور کر دیتا ہے۔” [جامع الترمذی الولاء والھیۃ باب فی حث النبی صلی اللہ علیہ وسلم علی الھدیۃ حدیث 2130۔]
ہدیہ کو رد نہیں کرنا چاہیے، چاہے وہ معمولی ہی کیوں نہ ہو۔ نیز اس کا مناسب بدلہ دینا بھی مسنون ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں مروی ہے:
"كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيهِ وَسَلَّمَ يَقبَلُ الهَدِيَّةَ وَيُثِيبُ عَلَيهَا”
“آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہدیہ قبول فرماتے اور اس کے بدلے میں عطا بھی کرتے تھے۔” [صحیح البخاری الھیۃ المکافاۃ باب المکافاۃ فی الھیۃ حدیث 2585۔]
اور یہ دینِ اسلام کی خوبیوں میں سے ایک عظیم خوبی ہے، نیز بلند اخلاق کا روشن مظہر ہے۔
ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب