پیدائش کے بعد بچے کو گھٹی دینے کے احکام صحیح احادیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس مکتبہ دارالسلام کے شعبہ تصنیف و تالیف کی شائع کردہ کتاب ناموں کی ڈکشنری اور نومولود کے احکام و مسائل سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

گھٹی دینے کے احکام و مسائل

ولادت کے تھوڑی دیر بعد گھٹی دینا ان احکام شرعیہ میں سے ہے جو ہماری شریعت نے نومولود بچے کے لیے بتلائے ہیں۔

✿ گھٹی کی تعریف :

گھٹی کا مطلب یہ ہے کہ کسی چیز کو چبا کر نرم کرنا اور پھر بچے کے تالو کے ساتھ مل دینا۔ اس کا معروف طریقہ یہ ہے کہ چبائی ہوئی چیز کو بچے کے منہ میں داخل کر کے اسے دائیں بائیں ہر جانب نرمی کے ساتھ حرکت دینا حتی کہ یہ چبایا ہوا مادہ اس کے منہ میں منتقل ہو جائے۔
گھٹی دینے کے لیے کھجور کا استعمال سب سے بہتر ہے۔ اگر وہ میسر نہ ہو سکے تو پھر کوئی میٹھی چیز استعمال کرنی چاہیے جو آسانی سے مہیا ہو سکے۔ مثلاً انگور، میٹھا دہی جس میں عرق گلاب کی آمیزش ہو۔ میٹھی چیز کا استعمال اس لیے بہتر ہے کہ اس طرح سنت رسول کے ساتھ مطابقت و موافقت پیدا ہو جائے گی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کی پیروی کرنے کی سعادت اور شرف بھی حاصل ہو جائے گا۔

✿ حکمت و فائدہ:

گھٹی دینے کی حکمت یہ معلوم ہوتی ہے کہ جب زبان تالو کے ساتھ حرکت کرے گی اور بچہ بار بار زبان کو حرکت دے گا تو اس کے منہ کے عضلات قوی ہوں گے اور ماں کا دودھ چوسنے کے لیے آسان ہو جائے گا اور وہ یہ کام طبعی طور پر اچھے طریقے سے انجام دے سکے گا۔

✿ گھٹی کون دے؟

افضل تو یہی ہے کہ گھٹی دینے کے لیے کسی ایسی معزز ومحترم شخصیت اور نیک آدمی کا انتخاب کیا جائے جو تقویٰ پرہیز گاری اور نیکی میں بلند مقام رکھتا ہو۔ اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ اللہ رب العزت اس نیک آدمی کی دعا سے اس بچے کو بھی نیک اور متقی بنا دے گا۔

✿ احادیث نبویہ سے گھٹی کا ثبوت:

گھٹی دینا مستحب اور محبوب عمل ہے۔ جن احادیث مبارکہ سے فقہائے کرام نے گھٹی دینے کا استدلال کیا ہے وہ درج ذیل ہیں:
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:
ولد لي غلام، فأتيت به النبى صلى الله عليه وسلم فسماه إبراهيم فحنكه بتمرة ودعا له بالبركة ودفعه إلي
اللہ نے مجھے ایک لڑکا عطا کیا تو میں اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آیا۔ آپ نے اس کا نام ابراہیم تجویز کیا اور کھجور کے ساتھ اسے گھٹی دی اور اس کے لیے برکت کی دعا کی اور پھر اسے میری طرف واپس لوٹا دیا۔
صحيح البخاري، العقيقة، باب تسمية المولود حديث : 5467 و صحیح مسلم، الآداب، باب استحباب تحنيك المولود حديث : 2145
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
كان ابن لأبي طلحة يشتكي فخرج أبو طلحة فقبض الصبي ، فلما رجع أبو طلحة ، قال : ما فعل ابني؟ قالت أم سليم: هو أسكن ما كان، فقربت إليه العشاء فتعشى ثم أصاب منها ، فلما فرغ قالت : واروا الصبي ، فلما أصبح أبو طلحة أتى رسول الله صلى الله عليه وسلم فأخبره فقال : أعرستم الليلة؟ قال : نعم قال: اللهم بارك لهما فولدت غلاما ، فقال لي أبو طلحة إحمله حتى تأتي به النبى صلى الله عليه وسلم فأتى به النبى صلى الله عليه وسلم : وبعثت معه بتمرات، فأخذه النبى صلى الله عليه وسلم فقال : أمعه شيء؟ قالوا : نعم، تمرات، فأخذها النبى صلى الله عليه وسلم فمضغها، ثم أخذها من فيه، فجعلها فى في الصبي، ثم حنكه ، وسماه عبد الله
حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا ایک چھوٹا بچہ بیمار تھا۔ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کسی کام کے سلسلے میں باہر گئے ہوئے تھے کہ بچہ اس دنیا سے رخصت ہو گیا جب وہ واپس آئے تو پوچھا: میرے بیٹے کا کیا حال ہے؟ ان کی بیوی سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے جواب دیا کہ وہ پہلے سے بہت سکون اور راحت و آرام کی حالت میں ہے۔ (ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کو اصل معاملے کا علم نہ ہو سکا) سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے انہیں شام کا کھانا پیش کیا، انہوں نے کھانا کھایا اور رات کو اپنی بیوی کے ساتھ وظیفہ زوجیت ادا کیا، جب وہ فارغ ہوئے تو بیوی کہنے لگی کہ بچے کو دفن کر دیجیے۔ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے صبح ہوتے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اس واقعہ کی اطلاع دی تو آپ نے دریافت کیا کہ کیا رات کے وقت تم نے ہمبستری کی تھی؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی: ”اے اللہ! ان دونوں کے لیے برکت کے دروازے کھول دے۔“ تو (کچھ عرصہ بعد) ام سلیم رضی اللہ عنہا نے ایک لڑکے کو جنم دیا۔ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے (انس رضی اللہ عنہ سے) کہا کہ اس بچے کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے جاؤ اور کچھ کھجوریں بھی ساتھ بھیج دیں۔ جب وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے تو آپ نے اس بچے کو پکڑ کر فرمایا: ”کیا کوئی چیز بھی لائے ہو؟“ عرض کی: جی ہاں! کچھ کھجوریں موجود ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجوریں لیں اور ان کو چبانے لگے پھر اپنے منہ مبارک سے نکال کر بچے کے منہ میں ڈال کر اسے گھٹی دی اور اس کا نام عبد اللہ رکھا۔
صحيح البخاري، العقيقة، باب تسمية المولود حديث : 5470 و صحیح مسلم، الآداب، باب استحباب تحنيك المولود حديث : 2144

✿ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا واقعہ:

خلال رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ محمد بن علی رحمہ اللہ نے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کی ایک لونڈی سے سنا جو کہ امام احمد کے بچے کی والدہ بھی تھی وہ کہتی ہے کہ جب مجھے درد زہ شروع ہوا تو میرے آقا یعنی امام احمد رحمہ اللہ سو رہے تھے، میں نے آواز لگائی کہ میں تو سخت تکلیف سے دوچار ہوں۔ وہ فرمانے لگے کہ اللہ آسانی فرمائے گا ان کے منہ سے یہ الفاظ نکلنے تھے کہ میں نے سعید کو جنم دیا وہ فرمانے لگے کہ وہ کھجور لاؤ جو مکہ سے آئی ہے تو انہوں نے ام علی سے کہا کہ اس کو چبا کر گھٹی دے دو تو انھوں نے ایسا ہی کیا۔
تحفة المودود ص: 56