گھر میں میت کی تصویر لٹکانا جائز ہے؟ حدیث کی روشنی میں

یہ اقتباس شیخ مبشر احمد ربانی کی کتاب احکام و مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

سوال :

کیا گھر میں میت کی تصویر لٹکانا جائز ہے؟

جواب :

گھروں میں ذی روح اشیاء کی تصاویر لٹکانا جائز نہیں ہے، خواہ وہ ذی روح ابھی زندہ ہو یا اسے موت آجائے، خواہ یادگاری کے لیے ہو یا کسی اور مقصد کے لیے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا:
أن لا تدع تمثالا إلا طمسته ولا قبرا مشرفا إلا سويته وفي رواية ولا صورة إلا طمستها
(مسلم، کتاب الجنائز، باب الأمر بتسوية القبر ح 969)
کوئی مجسمہ نہ چھوڑ مگر اسے مٹا دے اور جو قبر اونچی ہو اسے برابر کر دے۔ اور ایک روایت میں ہے: ”کوئی تصویر نہ چھوڑ مگر اسے مٹا دے۔“
یعنی اونچی قبر کو عام قبروں کے برابر کر دے۔ اس صحیح حدیث سے معلوم ہوا کہ تصویر میں ختم کرنے کا حکم ہے، لٹکانے کا نہیں۔

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سوشل میڈیا پر یہ مضمون فیچرڈ امیج کے ساتھ شئیر کرنے کے لیے یہ تصویر محفوظ کریں ⬇️ 💾