مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

گھر میں شیطان کی موجودگی اور اس سے نجات کے اذکار

فونٹ سائز:
تالیف: ڈاکٹر رضا عبداللہ پاشا حفظ اللہ

سوال:

کیا میرے گھر میں میرے ساتھ شیطان بھی کھاتا اور سوتا ہے ؟

جواب :

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا (جو یہ کہے) :
« بسم الله توكلت على الله ولا حول ولا قوة إلا بالله يقال له: كفيت، ووقيت، وهديت وتنحى عنه الشيطان »
’’اللہ کے نام کے ساتھ (میں نکلتا ہوں) میں نے اللہ پر بھروسا کیا۔ اللہ کے سوا نیکی کرنے اور گناہ سے بچنے کی طاقت نہیں ہے۔ اسے کہا جاتا ہے، تجھے کفایت کی گئی اور تجھے بچایا گیا اور تجھے ہدایت دی گئی اور شیطان اس سے دور ہو گیا۔“ [سنن أبى داود، رقم الحديث 5095 سنن الترمذي، رقم الحديث 3426]
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا:
« إذا دخل الرجل بيته فذكر الله تعالي عند دخوله و عند طعامه قال الشيطان لأصحابه : لا مبيت لكم ولا عشاء، وإذا دخل فلم يذكر الله تعالي عند دخوله، قال الشيطان أدركتم المبيت، وإذا لم يذكر الله تعالي عند طعامه قال: أدركتم المبيت والعشاء»
”جب آدمی اپنے گھر میں داخل ہوتا ہے، پھر اپنے داخل ہونے اور کھانے کے وقت اللہ کا ذکر کرتا ہے، شیطان اپنے ساتھیوں کو کہتا ہے۔ تمھارے لیے اس گھر میں ٹھہرنا ہے اور نہ رات کا کھانا اور جب وہ داخل ہوتے وقت اللہ کا ذکر نہیں کرتا شیطان کہتا ہے، تم نے اس گھر میں ٹھہرنا پا لیا ہے اور جب وہ کھانے کے وقت اللہ کا ذکر نہیں کرتا، تو وہ کہتا ہے تم نے (اس گھر میں) ٹھہرنا اور کھانا کھانا پا لیا ہے۔“ [صحيح مسلم، رقم الحديث 2018]

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔