مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

گھر میں سستی کی وجہ سے اکیلے نماز پڑھنے کا حکم

فونٹ سائز:
ماخوذ: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام ومسائل، جلد 02

سوال

کیا سستی کی وجہ سے جان بوجھ کر گھر میں اکیلے نماز پڑھنے سے نماز قبول نہیں ہوتی؟

جواب

جب مسجد قریب ہو اور اذان کی آواز سنائی دیتی ہو، تو مسلمان پر لازم ہے کہ وہ مسجد میں جاکر باجماعت نماز ادا کرے۔ گھر میں اکیلے نماز ادا کرنا جائز نہیں ہے، خواہ ایک شخص ہو یا زیادہ افراد۔ اگر مسجد دور ہو اور اذان کی آواز نہ سنائی دے، تو ایسی صورت میں گھر میں باجماعت نماز ادا کرنے میں کوئی حرج نہیں۔

بعض لوگ اس مسئلے میں سستی کا مظاہرہ کرتے ہیں اور گھروں میں نماز ادا کرنے کو کافی سمجھتے ہیں۔ یہ نظریہ بعض علماء کے اس قول کی بنیاد پر ہے کہ باجماعت نماز کا مقصد یہ ہے کہ لوگ مل کر نماز پڑھیں، چاہے وہ مسجد میں نہ ہو بلکہ گھر میں یا کسی اور جگہ ہو۔ تاہم، درست اور صحیح قول یہ ہے کہ باجماعت نماز کا اہتمام مسجد میں کیا جانا ضروری ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے باجماعت نماز کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے فرمایا:

«وَلَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ بِالصَّلٰوةِ فَتُقَامَ ثُمَّ آمُرَ رَجُلًا فَيُصَلِّی بِالنَّاسِ ثُمَّ أَنْطَلِقَ بِرِجَالٍ مَعَهُمْ حُزَمٌ مِنْ حَطَبٍ اِلٰی قَوْمٍ لَّا يَشْهَدُونَ الصَّلٰوةَ فَاُحَرِّقُ عَلَيْهِمْ بُيُوتَهُمْ بِالنَّارِ» (صحیح البخاری: 644، صحیح مسلم: 651)

’’میرا ارادہ ہوتا ہے کہ نماز کا حکم دوں، اقامت کہی جائے اور پھر میں کسی شخص کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے، اور میں کچھ لوگوں کو لے کر ان کے پاس جاؤں جو جماعت میں شامل نہیں ہوتے اور ان کے گھروں کو آگ لگا دوں۔‘‘

یہ فرمان واضح کرتا ہے کہ اگرچہ لوگ اپنے گھروں میں نماز ادا کر لیتے ہیں، پھر بھی ان پر لازم ہے کہ مسجد میں جا کر باجماعت نماز ادا کریں، سوائے اس کے کہ مسجد دور ہو اور وہاں جانا مشکل ہو۔

واللہ اعلم

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔