سوال :
کیا گھریلو اخراجات اور اولاد کے نان و نفقہ کی ذمہ داری عورت پر ہے یا مرد پر؟
جواب :
عورت کے نان و نفقہ کی ذمہ داری اللہ نے مرد پر ڈالی ہے، عورت اگر چہ مال دار ہی کیوں نہ ہو، وہ گھر کے اخراجات کی ذمہ دار نہیں ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے:
﴿الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللَّهُ بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ وَبِمَا أَنفَقُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ﴾
(النساء 34)
”مرد عورتوں پر حاکم ہیں، اس وجہ سے کہ اللہ نے ان میں سے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے اور اس بنا پر بھی کہ مرد اپنا مال خرچ کرتے ہیں۔“
اس آیت کریمہ میں مرد کو دو وجہ سے حاکم قرار دیا گیا ہے، ایک وہی فضیلت کہ اللہ تعالی نے مرد کو قدرتی طور پر بنایا ہی ایسا ہے کہ اسے عورت پر درجہ و مقام حاصل ہے، دوسری وجہ یہ کہ مرد اپنا مال و متاع خرچ کرتا ہے، اس مال کے خرچ کرنے کی وجہ سے بھی مرد کو عورت پر برتری حاصل ہے۔
دوسری جگہ ارشاد باری تعالی ہے:
﴿وَعَلَى الْمَوْلُودِ لَهُ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ﴾
(البقرة 233)
”عورت کا کھانا اور کپڑا عرف کے مطابق دینا بچے کے باپ پر فرض ہے۔“
ان دو آیات کریمہ سے واضح ہوا کہ مال خرچ کرنا، کھانا اور لباس فراہم کرنا مرد کی ذمہ داری ہے، اولاد کے باپ کا حق ہے کہ وہ بچوں کی ماں کو کھانا اور کپڑا لا کر دے۔ ہر مرد کی آمدنی کے لحاظ سے خرچ کا تعین کیا جائے گا، اگر مرد کے پاس اسباب و ذرائع زیادہ ہیں تو اس کا حق ہے کہ وہ اپنی دولت کے لحاظ سے عورت کو بھی سہولت پہنچائے اور جس طرح کا کھانا پینا اور لباس خود رکھتا ہے، بیوی کو بھی اسی حساب سے دے اور اگر کوئی مرد تنگ دست ہے تو وہ اپنی آمدن کے لحاظ سے خرچ کرے گا۔ بہر صورت نان و نفقہ کی ذمہ داری اللہ نے مرد کے کندھوں پر ڈالی ہے، عورت کا یہ حق نہیں کہ وہ گھر کے اخراجات برداشت کرنے کے لیے کوئی نوکری تلاش کرے، اس کا حق ہے کہ گھر کی چار دیواری میں خاوند کی خدمت، گھر کی نگرانی اور بچوں کی نگہداشت کرے، دفاتر، بازار، کارخانہ، فیکٹری، ہوٹل اور ریسٹورنٹ وغیرہ کی زینت نہ بنے۔