مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

گھروں میں زینت کے لیے مجسمے اور تصویریں رکھنا: قرآن و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ مبشر احمد ربانی کی کتاب احکام و مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

سوال :

ان مجسموں کے بارے میں اسلام کا کیا حکم ہے، جو گھروں میں صرف زینت کے لیے رکھے جاتے ہیں، ان کی عبادت نہیں کی جاتی؟

جواب :

گھروں، دفتروں اور عام مجلسوں میں تصویریں اور حیوانات کے مجسمے آویزاں کرنا جائز نہیں، اس کی دلیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ صحیح احادیث ہیں جو گھروں اور دوسری جگہوں میں تصویریں اور مجسمے لٹکانے کو حرام بتاتی ہیں۔ اس لیے کہ یہ عمل شرک کا ذریعہ ہے، اللہ کے خالق ہونے کا مقابلہ کرتا ہے اور اللہ کے دشمنوں کے ساتھ مشابہت اور ہاتھ سے بنائے گئے مجسمے اور بت آویزاں کرنے کے لیے دروازہ کھولنا ہے۔
اسلامی شریعت نے شرک یا گناہ تک پہنچانے والے تمام راستوں کو بند کر دیا ہے۔ حضرت نوح علیہ السلام کی قوم شرک میں اسی طرح مبتلا ہوئی کہ انھوں نے اپنے زمانہ کے پانچ نیک لوگوں کی تصویریں اپنی مجلسوں میں آویزاں کر لیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بیان کیا ہے، فرمایا:
﴿وَقَالُوا لَا تَذَرُنَّ آلِهَتَكُمْ وَلَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَلَا سُوَاعًا وَلَا يَغُوثَ وَيَعُوقَ وَنَسْرًا وَقَدْ أَضَلُّوا كَثِيرًا﴾
(نوح: 23-24)
”اور انھوں نے کہا تم اپنے معبودوں کو مت چھوڑو، نہ ود کو چھوڑو نہ سواع کو نہ یغوث کو اور نہ یعوق و نسر کو، بلاشبہ انھوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کر دیا۔“
اس لیے اس فعل بد میں قوم نوح کی مشابہت سے پرہیز ضروری ہے، جس کی وجہ سے ان کے زمانے میں شرک واقع ہوا۔ صحیح حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہا: ”جو کوئی بھی تصویر ملے اسے مٹا دو اور جو کوئی اونچی قبر دیکھو اسے برابر کر دو۔“ اس حدیث کو امام مسلم (969) نے روایت کیا ہے، نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن سب سے سخت عذاب تصویر بنانے والے کو دیا جائے گا۔“
(بخاری، کتاب اللباس، باب عذاب المصورين يوم القيامة ح 5950)
اس حدیث کی صحت پر اتفاق ہے اور اس مضمون کی حدیثیں بہت ہیں۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔