گوتم بدھ کو نبی ماننا درست ہے یا نہیں؟ قرآن کی روشنی میں
یہ اقتباس شیخ مبشر احمد ربانی کی کتاب احکام و مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

سوال :

بعض جدید ذہن کے لوگ گوتم بدھ کو انبیاء میں شمار کرتے ہیں، یہ کہاں تک درست ہے؟

جواب :

اللہ تبارک و تعالی نے قرآن حکیم میں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے فرامین و احادیث میں اس کا کہیں ذکر نہیں کیا، اس لیے ہم اس بارے میں خاموش ہیں۔ شریعت کے مطابق جن انبیاء ورسل کا نام لے کر اللہ تعالی نے ذکر فرمایا اور ان کے حالات بیان کیے ہیں، ان پر تفصیل ایمان لانا لازمی و ضروری ہے اور جن کا مجملاً ذکر کیا ہے ان پر اجمالاً ایمان رکھنا چاہیے، کیونکہ ایمان بالرسل عقائد دینیہ میں سے ہے۔ اللہ تعالی نے فرمایا:
﴿آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ ۚ كُلٌّ آمَنَ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْ رُسُلِهِ﴾
رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) اس چیز پر ایمان لایا جو اس کی طرف اس کے رب کی جانب سے نازل کی گئی اور جو ایمان والے ہیں انھوں نے بھی اس وحی کو قبول کیا، سب اللہ پر، فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لانے والے ہیں، ہم اس کے رسولوں میں سے کسی ایک کے درمیان بھی تفریق نہیں ڈالتے۔
(البقرة 285)
یعنی تمام رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں کہ وہ اللہ کی طرف سے بھیجے ہوئے سچے رسول تھے اور انھوں نے تبلیغ رسالت کا حق ادا کر دیا۔ اللہ تعالی نے فرمایا:
﴿وَرُسُلًا قَدْ قَصَصْنَاهُمْ عَلَيْكَ مِنْ قَبْلُ وَرُسُلًا لَمْ نَقْصُصْهُمْ عَلَيْكَ﴾
”ہم نے ان رسولوں پر بھی وحی نازل کی جن کا ذکر ہم اس سے پہلے آپ سے کر چکے اور ان رسولوں پر بھی جن کا ذکر ہم نے آپ سے نہیں کیا۔“
(النساء 164)
اسی طرح سورۃ المومن میں ارشاد فرمایا:
﴿وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلًا مِنْ قَبْلِكَ مِنْهُمْ مَنْ قَصَصْنَا عَلَيْكَ وَمِنْهُمْ مَنْ لَمْ نَقْصُصْ عَلَيْكَ﴾
”اور ہم نے آپ سے پہلے بھی رسول بھیجے جن میں سے بعض کے حالات ہم نے آپ کو بتائے اور بعض کے نہیں بتائے۔“
(المؤمن 78)
لہذا جس قدر بھی اللہ تعالی نے پیغمبر بھیجے ان پر ایمان لانا چاہیے، جن کے حالات بیان فرمائے اور کچھ تفصیل ذکر کر دی ان پر تفصیلاً ایمان لانا چاہیے اور جن کے حالات بیان نہیں کیے، ان پر اجمالی ایمان رکھنا چاہیے۔

یہ پوسٹ اپنے دوست احباب کیساتھ شئیر کریں

فیس بک
وٹس اپ
ٹویٹر ایکس
ای میل

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے