کیا 15 ماہ کا غیر مسنہ بکرا قربانی کے لیے کافی ہے؟

ماخوذ : احکام و مسائل، قربانی اور عقیقہ کے مسائل، جلد 1، صفحہ 435

سوال:

اگر ایک بکرا 14 یا 15 ماہ کا ہو گیا ہے لیکن مسنہ (دودھ کے دانت گر کر پکے دانت آ جانا) نہیں بنا تو کیا صرف عمر پوری ہونے کی بنیاد پر اس کی قربانی جائز ہے؟

جواب:

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

قربانی کے جانور کے لیے مسنہ ہونا شرط ہے۔ یعنی اس میں پکے دانت آ چکے ہوں۔ صرف عمر پوری ہو جانے سے قربانی کا جانور صحیح نہیں ہوتا جب تک کہ وہ مسنہ نہ ہو جائے۔

البتہ، اگر حالات میں تنگی یا مجبوری ہو (جیسے کہ جانور دستیاب نہ ہوں) تو بھیڑ کی جنس میں جَذَعہ کی قربانی جائز ہے۔

جَذَعہ بھیڑ کے بارے میں صحیح ترین قول یہ ہے کہ:

◈ وہ ایک سال یا اس سے کچھ زیادہ عمر کی ہو
◈ اور ابھی مسنہ نہ ہوئی ہو (یعنی دودھ کے دانت ہی ہوں، پکے دانت نہ آئے ہوں)

لہٰذا، جو بکرا 14 یا 15 ماہ کا ہو چکا ہو لیکن وہ مسنہ نہ بنا ہو، اس کی قربانی درست نہیں۔

هٰذَا مَا عِندِي وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِالصَّوَاب

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے