مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

کیا ہندہ کے رضاعی بیٹے کا نکاح اس کی نواسی سے ہو سکتا ہے؟

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

ہندہ کے چھ بچے ہیں، تین لڑکے اور تین لڑکیاں۔ ہندہ نے اپنی خالہ زاد بہن کے لڑکے کو بھی دودھ پلایا، کیا اس رضاعی لڑکے کا نکاح ہندہ کی نواسی سے ہو سکتا ہے؟

جواب:

ہندہ کے رضاعی بیٹے کا نکاح ہندہ کی نواسی سے جائز نہیں، کیونکہ وہ لڑکی کا رضاعی ماموں ہے اور جیسے نسبی ماموں بھانجی کا نکاح جائز نہیں، ایسے ہی رضاعی ماموں بھانجی کا نکاح جائز نہیں۔
وَبَنَاتُ الْأُخْتِ
(النساء: 23)
اور بہنوں کی بیٹیوں کو بھی تم پر حرام کر دیا گیا ہے۔
یہاں رضاعی بھانجیاں بھی مراد ہیں، کیونکہ جو رشتے ولادت سے حرام ہوتے ہیں، وہ رضاعت سے بھی حرام ہوتے ہیں۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔