مضمون کے اہم نکات
سوال
کیا ہر مسلمان کو نکاح پڑھانے کی شرعاً اجازت ہے؟ اس کے لئے کیا شرائط ہیں؟
جواب
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
◈ ہر عاقل، بالغ مسلمان کو شرعاً وقتِ ضرورت نکاح پڑھانے کی اجازت ہے۔
◈ شرط یہ ہے کہ وہ نکاح کے بنیادی احکام اور مسائل سے واقف ہو، جیسے کہ:
❀ ایجاب و قبول
❀ مہر کی تعیین
❀ ولی کی اجازت
❀ دو گواہوں کی موجودگی
قرآنی دلائل
سورہ النور، آیت 32
﴿وَأَنكِحُوا الْأَيَامَىٰ مِنكُمْ وَالصَّالِحِينَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَإِمَائِكُمْ ۚ إِن يَكُونُوا فُقَرَاءَ يُغْنِهِمُ اللہ مِن فَضْلِهِ ۗ وَاللہ وَاسِعٌ عَلِيمٌ﴿٣٢﴾…النور
ترجمہ:
”اور نکاح کر دو اپنے بیوگان کا اور اپنے نیک چلن غلاموں اور لونڈیوں کا۔“
سورہ البقرہ، آیت 221
﴿وَلَا تُنكِحُوا الْمُشْرِكِينَ حَتَّىٰ يُؤْمِنُوا…٢٢١﴾…البقر ة
ترجمہ:
”اور اپنی (لڑکیوں کا) مشرکین سے نکاح نہ کرو جب تک وہ مسلمان نہ ہوں۔“
وضاحت
ان دونوں آیات کریمہ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ:
◈ بغیر کسی خاص پابندی کے ہر عاقل مسلمان کو نکاح پڑھانے کی اجازت ہے۔
◈ مقصد یہ ہے کہ لوگ نکاح کی سنت کو ادا کرسکیں اور اس عمل کی برکت سے بہرہ ور ہوں۔
◈ نکاح کے وقت ضروری ہے کہ:
❀ دولہا کی مالی حیثیت کے مطابق مہر طے کیا جائے۔
❀ لڑکی کے شرعی ولی کی اجازت لی جائے۔
❀ کم از کم دو گواہ موجود ہوں۔
ایسی صورت میں کوئی بھی عاقل بالغ مسلمان شرعاً نکاح پڑھا سکتا ہے۔
ھذا ما عندي واللہ أعلم بالصواب