مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

کیا ہر رکعت سے پہلے تعوذ پڑھنا ضروری ہے؟ مکمل وضاحت

فونٹ سائز:
ماخوذ : احکام و مسائل، نماز کا بیان، جلد 1، صفحہ 135

سوال

کیا نماز کی ہر رکعت شروع کرنے سے پہلے (یعنی سورۃ الفاتحہ پڑھنے سے پہلے) "تعوذ” پڑھنا ضروری ہے؟
یعنی کیا ہر رکعت سے قبل "أعوذ بالله من الشيطان الرجيم” کہنا واجب ہے؟
علامہ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ کا مؤقف ہے کہ ہر رکعت سے قبل تعوذ پڑھنا چاہیے۔

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

آیتِ کریمہ:

﴿فَإِذَا قَرَأۡتَ ٱلۡقُرۡءَانَ فَٱسۡتَعِذۡ بِٱللَّهِ مِنَ ٱلشَّيۡطَٰنِ ٱلرَّجِيمِ﴾
— سورۃ النحل: 98
"پس جب تو قرآن پڑھے تو پناہ مانگ اللہ کی، شیطان مردود سے۔”

یہ آیتِ کریمہ عموم کے طور پر اس بات کی تائید کرتی ہے جو شیخ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے، یعنی:
ہر مرتبہ قرآن کی تلاوت سے پہلے، حتیٰ کہ نماز کی ہر رکعت میں سورۃ الفاتحہ شروع کرنے سے قبل بھی تعوذ پڑھنا چاہیے۔

یہی مفہوم آیت کے عمومی الفاظ سے ثابت ہوتا ہے کہ قرآن پڑھنے سے پہلے اللہ کی پناہ مانگنا ضروری ہے، تاکہ شیطان کے وسوسوں سے محفوظ رہا جا سکے۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔