مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

کیا گناہگار امام کے پیچھے نماز ہو جاتی ہے؟

فونٹ سائز:
ماخوذ: احکام و مسائل، نماز کا بیان، جلد 1، صفحہ 159

سوال

کیا ایسے امام کے پیچھے نماز ہو جاتی ہے جو جھوٹ بولتا ہو، غیبت کرتا ہو، چغل خوری میں مبتلا ہو، وعدے کی خلاف ورزی کرتا ہو، بھائیوں کے درمیان اختلاف و نفاق پیدا کرتا ہو، اپنی جماعت کو چھوڑ کر دوسری جماعتوں کو ترجیح دیتا ہو اور سگریٹ نوشی کرتا ہو؟

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ایسے امام کے پیچھے نماز ادا ہو جاتی ہے۔ یعنی شریعت میں اس کی اقتداء کو کالعدم قرار نہیں دیا گیا، اگرچہ اس کی یہ عادات و افعال ناپسندیدہ اور گناہ کے کام ہیں۔

تاہم، ایسے امام کو خلوص نیت اور خیر خواہی کے جذبے کے تحت ان برے افعال سے روکنے کی نرمی اور اخلاص کے ساتھ تلقین کرتے رہنا چاہیے تاکہ وہ اپنی اصلاح کر سکے۔

رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے:

«اَلدِّیْنُ النَّصِیْحَةُ»
(مسلم، کتاب الایمان، باب بیان ان الدین النصیحة)

’’دین خلوص اور خیر خواہی کا نام ہے‘‘۔

یعنی دین کی اصل روح خیر خواہی اور اصلاحِ حال میں ہے، لہٰذا ایک مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنے امام یا دینی رہنما کو بھی مخلصانہ انداز میں سمجھائے اور اس کی اصلاح کی کوشش کرے، نہ کہ محض تنقید یا بیزاری کا رویہ اختیار کرے۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔