مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

کیا کفار کو ان کی نیکیاں کام آئیں گی؟

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

کیا کفار کو ان کی نیکیاں کام آئیں گی؟

جواب:

روز قیامت قبولیت اعمال کے لیے صحیح العقیدہ ہونا شرط ہے۔ کفار کا کوئی عمل قبول نہیں، اگر وہ دنیا میں ویلفیئر کا کوئی کام کریں، کسی دکھی کی مدد کریں، حتیٰ کہ مسلمانوں کی مساجد اور مدارس تعمیر کریں، انہیں کوئی نیکی آخرت میں کام نہ آئے گی، البتہ دنیا میں انہیں اللہ بدلہ دے دے، تو الگ بات ہے۔ دراصل شرک تمام نیکیوں کو ضائع کر دیتا ہے، مشرک کا کوئی عمل قبول نہیں ہوتا۔
❀ فرمان باری تعالیٰ ہے:
وَلَوْ أَشْرَكُوا لَحَبِطَ عَنْهُمْ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ
(سورة الأنعام: 88)
اگر بالفرض مذکورہ انبیاء بھی شرک کرتے، تو ان کے اعمال ضائع ہو جاتے۔
شرک کے ہوتے ہوئے کوئی عمل قبول نہیں ہوتا اور سابقہ اعمال بھی ضائع ہو جاتے ہیں، تو نجات کیسے ممکن ہے؟
❀ قاضی عیاض رحمہ اللہ (544ھ) فرماتے ہیں:
قد انعقد الإجماع على أن الكفار لا تنفعهم أعمالهم ولا يثابون عليها بنعيم ولا تخفيف عذاب لكن بعضهم أشد عذابا من بعض بحسب جرائمهم
اس پر اجماع ہے کہ کفار کو ان کے اعمال نفع نہیں دیں گے۔ انہیں نعمتوں کے ساتھ بدلہ نہیں ملے گا، نہ ان کے عذاب میں تخفیف ہوگی، البتہ بعض کفار اپنے جرائم کے مطابق دیگر کفار سے زیادہ سخت عذاب میں مبتلا ہوں گے۔
(إكمال المعلم: 1/597، شرح النووي: 3/87، فتح الباري: 9/145)

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔