سوال:
کیا کسی صحابی سے عدم رفع الیدین ثابت ہے؟
جواب:
کسی صحابی سے رفع الیدین کا ترک ثابت نہیں ، اس بارے میں مروی تمام روایات ضعیف و غیر ثابت ہیں ۔
❀ امام بخاری رحمہ اللہ (256ھ) فرماتے ہیں :
لم يثبت من أحد من أصحاب النبى صلى الله عليه وسلم أنه لا يرفع يديه .
کسی ایک بھی صحابی سے رفع الیدین نہ کرنا ثابت نہیں۔“
(جزء رفع اليدين، ص 86)
❀ نیز فرماتے ہیں:
لم يثبت عند أهل النظر ممن أدركنا من أهل الحجاز، وأهل العراق، منهم عبد الله بن الزبير، وعلي بن عبد الله بن جعفر، ويحيى بن معين ، وأحمد بن حنبل، وإسحاق بن راهويه، هؤلاء أهل العلم من أهل زمانهم، فلم يثبت عند أحد منهم علمنا فى ترك رفع الأيدي عن النبى صلى الله عليه وسلم أنه لم يرفع يديه .
” ہم نے جو فقہائے کرام حجاز اور عراق میں دیکھے ہیں، ان میں سے امام عبداللہ بن زبیر (حمیدی)، امام علی بن عبد اللہ بن جعفر ( ابن مدینی ) ، امام یحیی بن معین ، امام احمد ابن حنبل اور امام اسحاق بن راھو یہ رحمہ اللہ ہیں ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے زمانے کے اہل علم تھے۔ ان میں سے کسی ایک سے بھی یہ بات ثابت نہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رفع الیدین چھوڑ دیا ہو ۔“
(جزء رفع اليدين، ص 38)
❀ حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ (597ھ) فرماتے ہیں:
لم يثبت عن أحد الصحابة أنه لم يرفع يديه .
”کسی ایک بھی صحابی سے ثابت نہیں کہ انہوں نے رفع الیدین چھوڑا ہو۔“
(التحقيق في مسائل الخلاف : 332/1)
یہ ہمارا دعویٰ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ رکوع کو جاتے ، رکوع سے سر اٹھاتے اور دورکعتوں سے اٹھتے وقت رفع الیدین کرتے تھے۔ کسی صحابی سے اس کا ترک باسند صحیح ثابت نہیں۔
صحیح احادیث کی روشنی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے رفع الیدین کرنا ثابت ہے۔
❀ علامہ جورقانی رحمہ اللہ (543ھ) فرماتے ہیں:
رفع اليدين فى الصلاة سنة صحيحة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم.
”نماز میں رفع الیدین رسول الل صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح ثابت سنت ہے ۔“
(الأباطيل والمناكير والصحاح : 20/2)