کرائے کی جگہ کو مسجد بنانا
کمپنیوں کی نقل مکانی کا سلسلہ چونکہ عام ہے اور فنڈ یا بجٹ اور ایسی موقت مساجد کے فاضل سامان کا مسئلہ پیدا ہوتا ہی رہتا ہے۔ لہذا فقہاء کی بیان کردہ ان تفصیلات سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔ یہ تو کسی کی جگہ پر زمین کے مالک کی رضا و مرضی سے موقت مسجد کی بات ہے جبکہ
امام ابو حنیفہ رحمة اللہ علیہ کے سوا تمام آئمہ رحمہم اللہ علیہم کے نزدیک تو یہ بھی جائز ہے کہ کوئی مکان کرائے پر لیا جائے اور اسے نماز پڑھنے کے لیے مسجد کے طور پر استعمال کیا جائے۔ علامہ زرکشی رحمة اللہ علیہ نے اس کے جواز کی تائید کرتے ہوئے لکھا ہے کہ:
کرائے پر لی گئی اس جگہ سے منفعت حاصل کرنا اور فائدہ اٹھانا ایک مقصود و مطلوب امر ہے۔ جب اپنے سونے اور سامان وغیرہ رکھنے کے لیے کرائے پر گھر لیا جا سکتا ہے تو (کسی ایسی جگہ جہاں مسجد نہ ہو اور بنانے کی بھی اجازت نہ ہو یا بنانے کی طاقت نہ ہو تو) وہاں نماز کے لیے کوئی گھر کرائے پر کیوں نہیں لیا جا سکتا؟
(اعلام المساجد ص 400)
اور قارئین کرام! محدثین و فقہاء، مصلحین علماء نے آداب و احکام مساجد کے سلسلے میں بہت تفصیلات بیان کی ہیں اور بعض اہل علم نے تو اس پر مستقل کتابیں بھی لکھی ہیں جیسے ”اعلام المساجد“ علامہ بدر الدین زرکشی رحمة اللہ علیہ اور اصلاح المساجد علامہ محمد جمال الدین قاسمی رحمة اللہ علیہ۔
ان میں سے مسجد حرام مکہ مکرمہ، مسجد نبوی مدینہ منورہ اور مسجد اقصیٰ بیت المقدس کے آداب و احکام سمیت عام مساجد کے سلسلے میں سینکڑوں احکام و مسائل اور آداب ذکر ہیں۔
لیکن ہم نے اپنے موضوع کی حدود کے اندر رہتے ہوئے ضروری احکام و مسائل اللہ تعالیٰ کی توفیق اور اس کی عنایت سے آپ کے سامنے رکھ دیے ہیں۔
اللہ تعالیٰ اخلاص کی نعمت سے سرفراز کرے، ہماری محنت کو شرف قبولیت سے نوازے، توفیق مزید ارزاں فرمائے اور ہم سب کے لیے انہیں اصلاح عمل اور نجات کا ذریعہ بنائے۔ (آمین ثم آمین)