سوال:
کیا کبھی کبھار حالت اقامت میں نماز قصر پڑھ سکتا ہے؟
جواب:
حالت اقامت میں نماز پوری پڑھی جائے گی۔ صرف سفر اور خوف کی صورت میں نماز قصر کی جا سکتی ہے۔ اگر حالت اقامت میں دشمن کا خوف طاری ہو، تو اس صورت میں نماز قصر کی جا سکتی ہے، بلا خوف حالت اقامت میں نماز قصر نہیں کی جا سکتی۔
❀ حافظ ابن عبدالبر رحمہ اللہ (463ھ) فرماتے ہیں:
إن الإجماع منعقد بأن صلاة الحضر تامة غير مقصورة
اس پر اجماع منعقد ہے کہ حالت اقامت کی نماز پوری پڑھی جائے گی، قصر نہیں کی جائے گی۔
(الاستذكار: 18/1)