مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

کیا چاروں اماموں کی تقلید فرض یا واجب ہے؟ قرآن و سنت کی روشنی میں حکم

فونٹ سائز:
ماخوذ : فتاویٰ راشدیہ، صفحہ نمبر 530
مضمون کے اہم نکات

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ چار اماموں کی تقلید کرنا فرض یا واجب ہے یا نہیں؟

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

تقلید کی حقیقت

اہلِ اصول نے تقلید کا جو مفہوم بیان کیا ہے وہ یہ ہے کہ:

کسی کی بات کو بغیر دلیل کے قبول کر لینا اور اس کی پیروی کرنا تقلید کہلاتا ہے۔
✿ یہ واجب و فرض تو کجا، جائز بھی نہیں ہے۔

اللہ تعالیٰ سورۃ الاعراف میں ارشاد فرماتے ہیں:

﴿اتَّبِعُوا مَا أُنزِلَ إِلَيْكُم مِّن رَّ‌بِّكُمْ وَلَا تَتَّبِعُوا مِن دُونِهِ أَوْلِيَاءَ ۗ قَلِيلًا مَّا تَذَكَّرُ‌ونَ﴾
(الاعراف:٣)
’’اس کی تابعداری کرو جو تمہارے رب کی طرف سے تمہاری طرف نازل ہوا ہے۔ اس کے علاوہ دوسروں کی تابعداری مت کرو۔‘‘

یہ بات ظاہر ہے کہ رب العزت کی طرف سے نازل ہونے والی چیز کتاب اللہ یعنی قرآن یا نبی ﷺ کی حدیث ہے، جسے وحی خفی کہا جاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ سورۃ القیامہ میں فرماتے ہیں:

﴿ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهُۥ﴾
(القيامة:١٩)
’’اور قرآن کا بیان کرنا بھی ہماری ذمہ داری ہے۔‘‘

اور سورۃ النحل میں ارشاد ہے:

﴿وَأَنزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ‌ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ﴾
(النحل:٤٤)
’’اور ہم نے یہ قرآن (یاد دہانی) تمہاری طرف اس لیے نازل کیا تاکہ آپ لوگوں کے لیے بیان کریں جو ان کی طرف نازل کیا گیا ہے۔‘‘

ان آیاتِ کریمہ سے معلوم ہوا کہ قرآن مجید کی تشریح و وضاحت نبی اکرم ﷺ کے سپرد کی گئی ہے۔ اس لیے
﴿اتَّبِعُوا مَا أُنزِلَ إِلَيْكُم مِّن رَّ‌بِّكُمْ﴾
میں قرآن کے ساتھ حدیث بھی شامل ہے۔

اتباع کا معیار

✿ اللہ اور رسول ﷺ کے ارشادات کے علاوہ کسی اور کی اتباع جائز نہیں۔
✿ ’’اولوالامر‘‘ یعنی حکمران یا اہل علم کی اطاعت صرف اسی وقت تک ہے جب تک ان کا قول و فعل کتاب و سنت کے مطابق ہو۔
✿ اگر کوئی قول یا فعل کتاب و سنت کے خلاف ہو تو اس کی اتباع جائز نہیں، جیسا کہ حدیث ہے:

((لا طاعة لمخلوق فى معصية الخالق))
(مسند احمد، جلد ٥، صفحہ ٦٦، رقم الحديث: ٢٠٦٨٠)
’’اللہ کی نافرمانی میں کسی مخلوق کی اطاعت نہیں۔‘‘

اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

﴿وَمَن يَعْصِ ٱللَّهَ وَرَ‌سُولَهُۥ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَـٰلًا مُّبِينًا﴾
(الأحزاب:٣٦)
’’جس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی وہ کھلی گمراہی میں ہے۔‘‘

ائمہ کے اقوال کا اصول

✿ کسی بھی امام یا عالم کی اطاعت صرف اسی وقت تک معتبر ہے جب تک وہ کتاب و سنت کے مطابق ہو۔
✿ تمام ائمہ نے اپنی کتب میں یہ واضح کیا ہے کہ اگر ان کی کوئی بات قرآن و حدیث کے خلاف ہو تو اسے چھوڑ دیا جائے۔
✿ رسول اللہ ﷺ کے علاوہ ہر ایک کی بات قبول بھی کی جا سکتی ہے اور رد بھی کی جا سکتی ہے۔

اللہ تعالیٰ نے حکم دیا:

﴿فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُ‌دُّوهُ إِلَى اللَّـهِ وَالرَّ‌سُولِ﴾
(النساء:٥٩)
’’اگر کسی بات پر اختلاف ہو جائے تو اسے اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹاؤ۔‘‘

تقلید کے مفاسد

(1) علمی صلاحیتوں کا ضائع ہونا

✿ مقلد اپنی خداداد صلاحیتوں کو بیکار کر دیتا ہے۔
✿ وہ یہ سمجھتا ہے کہ اس پر صرف یہ فرض ہے کہ اپنے امام کا قول جانے اور اس پر عمل کرے۔
✿ یوں وہ کتاب و سنت پر غور و فکر ترک کر دیتا ہے۔
✿ اللہ تعالیٰ نے انسان کو دل، آنکھیں اور کان اس لیے دیے ہیں کہ وہ حق کو سمجھے، لیکن مقلد ان کو بیکار بنا دیتا ہے۔

(2) نبی کے منصب میں شریک کرنا

✿ نبی ﷺ کی ہر بات بذاتِ خود دلیل ہے۔
✿ اگر کسی امتی کے قول کو بغیر دلیل واجب مانا جائے تو گویا اسے منصبِ نبوت پر فائز کر دیا گیا۔

(3) تضاد و تناقض

✿ مقلد اپنے آپ کو بغیر دلیل کے پیروکار کہتا ہے۔
✿ مگر ساتھ ہی اپنے مسائل میں کتاب و سنت سے دلائل بھی پیش کرتا ہے۔
✿ اگر دلیل پیش کرتا ہے تو وہ مقلد نہیں بلکہ محقق ہوا۔
✿ اس طرح وہ ایک وقت میں مقلد بھی ہے اور غیرمقلد بھی، جو کہ محال ہے۔

(4) اللہ کی نعمت کا انکار

✿ ایک عالم جب قرآن، حدیث اور فقہ پڑھانے کے باوجود اپنے آپ کو مقلد کہتا ہے تو یہ گویا اللہ کی نعمت کا انکار ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

﴿وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَ‌بِّكَ فَحَدِّث﴾
(الضحى:١١)
’’اور اپنے رب کی نعمت کا اظہار کرو۔‘‘

✿ بعض اوقات وہ جانتے ہیں کہ مخالف کا موقف قوی ہے، پھر بھی کہتے ہیں کہ چونکہ ہم مقلد ہیں، اس لیے اپنے امام کے قول پر عمل کریں گے۔

مثال کے طور پر:

((فالحاصل ان المسئلة الخيارمن مهمات المسائل … ونحن مقلدون يحبرعليناتقليدامامناابي حنيفة رحمه الله))
(التقرير الترمذی: ص ٦٥٠، البحر الرائق: ج ٥، ص ١٢٥)

عوام کے لیے ’’سوال اہل ذکر‘‘ کی آیت کا مطلب

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

﴿فَسْـَٔلُوٓا۟ أَهْلَ ٱلذِّكْرِ‌ إِن كُنتُمْ لَا تَعْلَمُون﴾
(النحل:٤٣)
’’اگر تمہیں علم نہیں تو اہل ذکر سے پوچھ لو۔‘‘

✿ اس آیت میں یہ حکم ہے کہ علم والوں سے پوچھو کہ اللہ اور رسول ﷺ کا کیا فرمان ہے۔
✿ یہ نہیں کہا گیا کہ کسی کی تقلید کرو۔
✿ اگر عالم کتاب و سنت کی دلیل پیش کرے تو اتباع دراصل اس دلیل کی ہوگی، نہ کہ عالم کی ذاتی رائے کی۔
✿ امام ابو حنیفہ نے فرمایا کہ جسے ہمارے قول کی دلیل معلوم نہ ہو، اس کے لیے ہمارے قول پر فتویٰ دینا حرام ہے۔

نتیجہ

✿ تقلید (یعنی کسی امام کے قول کو بغیر دلیل کے ماننا) نہ فرض ہے نہ واجب، بلکہ جائز بھی نہیں۔
✿ اصل اتباع صرف اللہ اور رسول ﷺ کے احکامات کی ہے۔
✿ علماء کی بات اسی وقت مانی جائے گی جب وہ کتاب و سنت کے مطابق ہو۔

ھذا ما عندی واللہ أعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔