کیا پیتل بتوں کا زیور ہے؟

ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال :

کیا پیتل بتوں کا زیور ہے؟

جواب :

پیتل کی انگوٹھی یا زیور پہننا جائز ہے۔ ممانعت پر کوئی صحیح حدیث نہیں۔
❀ سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے منسوب ہے:
”نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی خدمت میں ایک آدمی آیا، اس نے پیتل کی انگوٹھی پہنی ہوئی تھی ، آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: مجھے آپ سے بتوں کی بدبو کیوں آرہی ہے؟ اس نے انگوٹھی پھینک دی۔ پھر آیا اور لوہے کی انگوٹھی پہن رکھی تھی ، فرمایا : میں آپ کو جہنمیوں کا زیور پہنے دیکھ رہا ہوں ، اس نے وہ بھی پھینکی اور عرض گزار ہوا: اللہ کے رسول ! کون سی انگوٹھی پہنوں؟ فرمایا: چاندی کی ، یادر ہے کہ انگوٹھی میں ایک مثقال ( وزن ) سے زائد چاندی استعمال نہیں کرنی ۔“
(سنن أبي داود : 4223 ، السنن الكبرى للنسائي : 9442، سنن الترمذي : 1888 )
اس کی سند ”ضعیف“ ہے۔ عبد اللہ بن مسلم مروزی ابوطیب کی عدالت ثابت نہیں ہے۔
❀ امام ابو حاتم رازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”اس کی حدیث لکھی جائے گی، قابل حجت نہیں ہے۔“
(الجرح والتعديل لابن أبي حاتم : 165/5)
❀ امام ابن حبان ”الثقات “(49/7) میں ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں:
❀ امام نسائی رحمہ اللہ نے اس روایت کو ”منکر“ کہا ہے۔

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سوشل میڈیا پر یہ مضمون فیچرڈ امیج کے ساتھ شئیر کرنے کے لیے یہ تصویر محفوظ کریں ⬇️