سوال:
دو گواہ موجود ہیں، حق مہر بھی ہے، ایجاب وقبول بھی ہوا، مگر ولی کی اجازت نہیں، کیا نکاح منعقد ہو جائے گا؟
جواب:
لڑکی کے ولی کی اجازت یا رضامندی کے بغیر نکاح منعقد نہیں ہوتا۔ یہ نکاح کی شرائط میں سے ہے۔
وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلَا تَعْضُلُوهُنَّ أَنْ يَنْكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ
(البقرة: 232)
اور جب تم عورتوں کو طلاق دے دو، پھر وہ اپنی مقررہ عدت کو پہنچ جائیں تو ان کو اپنے خاوندوں سے نکاح کرنے سے نہ روکو۔
❀ امام ابن جریر طبری رحمہ اللہ (310ھ) اس آیت کے تحت فرماتے ہیں:
اس آیت کریمہ میں واضح دلالت ہے کہ ان لوگوں کی بات صحیح ہے جو کہتے ہیں کہ عصبہ ولی کی اجازت کے بغیر نکاح نہیں ہوتا، کیونکہ اگر عورت نکاح کرنا چاہے تو اس کو روکنے سے اللہ تعالیٰ نے ولی کو منع فرما دیا ہے، اگر عورت بغیر ولی کے خود اپنا نکاح کر سکتی ہوتی یا جسے چاہے اپنا ولی بنا سکتی ہوتی تو اس کے ولی کو نکاح کے سلسلے میں اسے روکنے کی ممانعت کا کوئی معنی مفہوم نہیں، کیونکہ اس صورت میں ولی کے پاس عورت کو روکنے کا کوئی راستہ ہی نہیں، اس لیے کہ وہ جب چاہتی خود اپنا نکاح کر لیتی یا جسے وہ خود اپنا ولی بناتی وہ اس کا نکاح کر دیتا (اصلی ولی کو منع کرنے کا کوئی مطلب ہی نہ ہوتا)۔
(تفسیر الطبری: 488/2)
❀ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ (774ھ) لکھتے ہیں:
اس آیت میں دلیل ہے کہ عورت خود اپنا نکاح نہیں کر سکتی، بلکہ نکاح کے لیے ولی کا ہونا ضروری ہے، یہی بات امام ترمذی رحمہ اللہ اور امام ابن جریر رحمہ اللہ نے اس آیت کی تفسیر میں کہی ہے۔
(تفسیر ابن کثیر: 564/1)
❀ سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
میری طرف میری ایک بہن سے نکاح کے لیے پیغام آئے، میرا ایک چچازاد بھی آیا، میں نے اس سے اپنی بہن کا نکاح کر دیا، پھر اس نے اسے رجعی طلاق دے دی، پھر اس کو چھوڑ دیا حتی کہ اس کی عدت پوری ہو گئی، جب میری طرف (دوسرے لوگوں کی طرف سے) نکاح کے پیغام آنے لگے، تو وہ بھی نکاح کا پیغام لے کر آ گیا، میں نے کہا نہیں، اللہ کی قسم! میں کبھی اپنی بہن کا نکاح تجھ سے نہیں کروں گا۔ میرے بارے میں ہی یہ آیت نازل ہوئی:
وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلَا تَعْضُلُوهُنَّ أَنْ يَنْكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ
(البقرة: 232)
پھر میں نے اپنی قسم کا کفارہ ادا کیا اور اسی سے اپنی بہن کا نکاح کر دیا۔
(صحیح البخاری: 5130، سنن أبی داود: 2087، واللفظ له)
❀ امام ترمذی رحمہ اللہ (279ھ) فرماتے ہیں:
اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ بغیر ولی کے نکاح جائز نہیں، کیونکہ سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کی بہن طلاق یافتہ تھی، اگر معاملہ نکاح اسی کے ہاتھ میں ہوتا، تو وہ خود اپنا نکاح کر لیتی اور اپنے ولی معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کی محتاج نہ ہوتی، اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ولیوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا ہے:
فَلَا تَعْضُلُوهُنَّ أَنْ يَنْكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ
(البقرة: 232)
ان کو اپنے سابقہ خاوندوں سے نکاح کرنے سے نہ روکو، لہذا اس آیت سے معلوم ہوا کہ معاملہ نکاح ولیوں کے ہاتھ میں ہے، ہاں عورتوں کی رضامندی بھی ضروری ہے۔
(سنن الترمذی، تحت الحدیث: 2981)
❀ امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (311ھ) فرماتے ہیں:
اس حدیث میں واضح دلیل موجود ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عقد نکاح کا اختیار اولیاء کو سونپا ہے، نہ کہ خود عورتوں کو، نیز دلیل ہے کہ نکاح کا کچھ بھی اختیار خواتین، خواہ وہ شوہر دیدہ ہی ہوں، کو حاصل نہیں ہے۔
(المستدرک للحاکم، تحت الحدیث: 2719)
فَانْكِحُوهُنَّ بِإِذْنِ أَهْلِهِنَّ وَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ
(النساء: 25)
تم ان کے گھر والوں کی اجازت کے ساتھ ان سے نکاح کرو اور انہیں معروف طریقے سے حق مہر ادا کرو۔
❀ امام ابن جریر طبری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
بإذن أهلهن بإذن أربابهن وأمرهم إياكم بالنكاح ورضاهم
ان عورتوں کے سرپرستوں کی اجازت، نکاح کے بارے میں ان کے حکم اور رضامندی سے نکاح کرو۔
(تفسیر الطبری: 19/4)
ولا تنكحوا المشركين حتى يؤمنوا
(البقرة: 221)
تم (اپنی عورتوں کا) مشرکین سے نکاح نہ کرو، تا آنکہ وہ ایمان لے آئیں۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے اس آیت کریمہ سے استدلال کیا ہے کہ ولی کی اجازت کے بغیر نکاح صحیح نہیں۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (852ھ) لکھتے ہیں:
اس آیت اور بعد والی آیت سے استدلال کچھ یوں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نکاح کے بارے میں مردوں کو مخاطب کیا ہے، عورتوں کو نہیں، گویا یوں فرمایا ہے کہ اے ولیو! تم اپنی زیر ولایت عورتوں کا مشرکین سے نکاح نہ کرو۔
(فتح الباری: 184/9)
وأنكحوا الأيامى منكم
(النور: 32)
اپنے بے نکاح مردوں وعورتوں کا نکاح کرو۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے اس آیت سے بھی ثابت کیا ہے کہ ولی کی اجازت کے بغیر نکاح نہیں۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا جاہلیت میں نکاح کی صورتیں بیان کرتی ہوئی فرماتی ہیں:
دور جاہلیت میں نکاح کے چار طریقے تھے، ان میں سے ایک تو وہی ہے جو آج لوگ اختیار کرتے ہیں، یعنی ایک آدمی دوسرے آدمی کی طرف اس کی زیر ولایت عورت یا بیٹی کے بارے میں پیغام نکاح بھیجتا، پھر اس عورت کو حق مہر دے کر اس سے نکاح کر لیتا۔ جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم حق دے کر مبعوث فرمائے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جاہلیت کے سارے نکاح ختم کر دیے سوائے اس نکاح کے جو لوگ آج کرتے ہیں۔
(صحیح البخاری: 5127)
امام بخاری رحمہ اللہ نے اس حدیث میں موجود إلا نكاح الناس اليوم کے الفاظ سے ثابت کیا ہے کہ ولی کی اجازت نکاح میں ضروری ہے، کیونکہ جس نکاح کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے برقرار رکھا ہے، اس کا انداز سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہی بیان کیا ہے کہ ولی خود عورت کا نکاح کرے۔
❀ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ یہ فرمان باری تعالیٰ:
وَمَا يُتْلَى عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ فِي يَتَامَى النِّسَاءِ الَّتِي لَا تُؤْتُونَهُنَّ مَا كُتِبَ لَهُنَّ وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْكِحُوهُنَّ
(النساء: 127)
وہ (بھی فتویٰ دیتا ہے) تم کو ان کی بابت جو پڑھا جاتا ہے تم پر کتاب میں یتیم لڑکیوں کے بارے میں جنہیں تم ان کے مقرر کردہ حق مہر ادا نہیں کرتے اور تم ان سے نکاح کرنے کی رغبت نہیں رکھتے۔
ایسی یتیم لڑکی کے بارے میں نازل ہوا جو کسی ایسے آدمی کے پاس ہو، جس کے مال میں وہ شریک ہو، وہ آدمی اس لڑکی سے نکاح کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتا اور اسے دوسروں سے نکاح کرنے سے بھی روکتا ہے، اس ڈر سے کہ کہیں کوئی اس کے مال میں شریک نہ ہو جائے۔
(صحیح البخاری: 5128)
❀ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی بیٹی سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے خاوند سیدنا ابن حذافہ سہمی رضی اللہ عنہ جو کہ بدری صحابی تھے، مدینہ میں فوت ہو گئے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے ملا اور ان کو پیشکش کی، میں نے کہا: اگر آپ چاہیں، تو میں حفصہ رضی اللہ عنہا کا نکاح آپ سے کر دوں، انہوں نے فرمایا: میں غور وفکر کروں گا، (پھر بتاؤں گا)، میں کچھ راتیں ٹھہر گیا، پھر عثمان رضی اللہ عنہ مجھے ملے اور فرمایا: میری سمجھ میں یہ بات آئی ہے کہ میں اس وقت شادی نہ کروں۔ عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ پھر میں سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ سے ملا اور کہا: اگر آپ چاہیں تو میں حفصہ رضی اللہ عنہا کا نکاح آپ سے کر دوں (آخر ان کا نکاح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوا)۔
(صحیح البخاری: 5129)
ان دونوں حدیثوں سے امام بخاری رحمہ اللہ نے یہ مسئلہ اخذ کیا ہے کہ ولی کی اجازت کے بغیر نکاح جائز نہیں ہے، کیونکہ پہلی حدیث میں نکاح سے روکنے کی نسبت ولی کی طرف کی گئی ہے اور اس بات کو ناجائز قرار دیا گیا ہے، اگر اسلام میں ولی کے پاس عورت کو نکاح سے روکنے کی اتھارٹی ہے ہی نہیں، تو اس آیت کے نزول کا کوئی مقصد نہ ہوا، حالانکہ ایسا قطعاً نہیں۔ دوسری حدیث میں بھی واضح ہے کہ باوجود بیوہ ہونے کے سیدہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا کے نکاح کا انتظام ان کے ولی یعنی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس رہا، نیز إن شئت أنكحتك حفصة (اگر آپ چاہیں تو میں آپ سے حفصہ کا نکاح کر دوں) کے الفاظ عورت کے نکاح میں ولی کی اجازت کے ضروری ہونے پر صریح ہیں، کیونکہ اگر ولی کو کوئی اختیار نہ ہو، تو اس کی طرف نکاح کی نسبت کرنا لغویت و عقل دونوں کے خلاف ہے۔
سیدنا ابو موسیٰ الاشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا نكاح إلا بولي
ولی کے بغیر کوئی نکاح نہیں۔
(المستدرک للحاکم: 173/2، ح: 2717، وسنده حسن والحدیث صحیح)
اس حدیث کو امام ابن الجارود رحمہ اللہ (702)، امام ابن حبان رحمہ اللہ (4083)، امام علی بن المدینی رحمہ اللہ (المستدرک للحاکم: 170/2)، امام محمد بن یزید ذہلی رحمہ اللہ (المستدرک للحاکم: 170/2)، امام عبدالرحمن بن مہدی رحمہ اللہ (المستدرک للحاکم: 170/2)، امام بخاری رحمہ اللہ (السنن الکبری للبیہقی: 7/108)، امام بزار رحمہ اللہ (تحت: 3116)، امام ابن منذر رحمہ اللہ (الأوسط: 260/8) اور امام حاکم رحمہ اللہ نے صحیح قرار دیا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے موافقت کی ہے۔
علامہ مناوی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو متواتر کہا ہے۔
(التیسیر: 502/2، فیض القدیر: 437/6، نظم المتناثر للکتانی، ص 147)
یہ حدیث اس بات پر نص ہے کہ ولی کی اجازت کے بغیر نکاح نہیں ہوتا۔
امیر صنعانی رحمہ اللہ (1182ھ) فرماتے ہیں:
یہ حدیث اس بات پر دلیل ہے کہ ولی کی اجازت کے بغیر نکاح صحیح نہیں، کیونکہ نفی میں اصل صحت کی نفی ہوتی ہے نہ کہ کمال کی نفی۔
(سُبل السلام: 117/3)
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جو عورت اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرتی ہے، اس کا نکاح باطل ہے، اس کا نکاح باطل ہے، اس کا نکاح باطل ہے، اگر مرد اس کے ساتھ دخول کر لیتا ہے، تو اس عورت کو مرد کی طرف سے شرمگاہ کو حلال کرنے کے عوض حق مہر ملے گا اور اگر ان (باپ کے علاوہ ولیوں) میں اختلاف ہو جائے تو حاکم وقت اس کا ولی ہے، جس کا کوئی ولی نہیں ہے۔
(مسند إسحاق: 499، مسند الإمام أحمد: 165/6، مسند الحمیدی: 228، الطیالسی (منحة: 305/1)، سنن أبی داود: 2083، سنن ابن ماجہ: 1879، سنن الترمذی: 1102، السنن الکبری للنسائی: 5394، مسند أبی یعلی: 2083، سنن الدارقطنی: 221/3، السنن الکبری للبیہقی: 105/7، وسنده حسن)
اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ اور حافظ ابن عساکر رحمہ اللہ (معجم الشیوخ: 234) نے حسن جبکہ امام ابن الجارود رحمہ اللہ (700)، امام ابو عوانہ رحمہ اللہ (4259)، امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (فتح الباری: 191/9)، امام ابن حبان رحمہ اللہ (4075، 4074)، حافظ بیہقی رحمہ اللہ (السنن الکبری: 107/7)، حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ (تحقیق: 255/2) اور امام حاکم رحمہ اللہ نے صحیح کہا ہے۔
❀ حافظ بیہقی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
كلهم ثقة حافظ
تمام راوی ثقہ اور حافظ ہیں۔
(معرفة السنن والآثار: 29/10)
امام ابن عدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
هذا حديث جليل في هذا الباب لا نكاح إلا بولي وعلى هذا الاعتماد في إبطال نكاح بغير ولي
ولی کی اجازت کے بغیر نکاح نہیں ہوتا، اس بارے میں یہ حدیث عظیم الشان ہے اور بغیر ولی کے نکاح کو باطل قرار دینے پر اسی پر اعتماد کیا جاتا ہے۔
(الکامل لابن عدی: 1115/3، وفی نسخة: 266/3)
امام ابن حبان رحمہ اللہ نے اس حدیث پر باب قائم کیا ہے:
ذكر بطلان النكاح الذي نكح بغير ولي
ولی کے بغیر کیے گئے نکاح کے باطل ہونے کا بیان۔
(صحیح ابن حبان: 384/9)
علامہ مناوی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو متواتر کہا ہے۔
(التیسیر فی شرح الجامع الصغیر: 502/2)
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أيما امرأة نكحت بغير إذن وليها فنكاحها باطل لا نكاح إلا بإذن ولي
جو عورت اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کر لے، اس کا نکاح باطل ہے، ولی کی اجازت کے بغیر کوئی نکاح نہیں۔
(السنن الکبری للبیہقی: 111/7، وسنده صحیح)
❀ امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
هذا إسناد صحيح
یہ سند صحیح ہے۔
امام ابن منذر رحمہ اللہ (319ھ) فرماتے ہیں:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اصحاب رسول سے (ولی کی اجازت کے متعلق متواتر) روایات ثابت ہیں، ہمارے علم کے مطابق کسی صحابی سے ہمارے موقف کے خلاف ثابت نہیں۔ جب ایک مسئلہ قرآن اور احادیث رسول سے ثابت ہو جائے تو اسے کسی بھی وجہ سے ترک کرنا جائز نہیں۔
(الأوسط فی السنن: 268/8)