کیا نیک لوگوں کے ساتھ دفن ہونے کی خواہش کرنا جائز ہے؟

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال :

کیا نیک لوگوں کے ساتھ دفن ہونے کی خواہش کرنا جائز ہے؟

جواب :

نیک لوگوں کے ساتھ دفن ہونے کی خواہش کرنا جائز ہے، مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ محض نیک لوگوں کی قربت میں دفن ہونے سے نجات ممکن ہے، بلکہ نجات عقیدہ و عمل پر منحصر ہے۔ عقیدہ و عمل صحیح ہو، تو نیکوکاروں کی قربت باعث فضیلت ہے، ورنہ محض اتفاق ہے۔
❀ ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ نے سید نا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کو بیان کرتے سنا:
وضع عمر على سريره فتكنفه الناس ، يدعون ويصلون قبل أن يرفع وأنا فيهم، فلم يرعني إلا رجل آخذ منكبي، فإذا على بن أبى طالب فترحم على عمر، وقال : ما خلفت أحدا أحب إلى أن ألقى الله بمثل عمله منك، وأيم الله إن كنت لأظن أن يجعلك الله مع صاحبيك، وحسبت إني كنت كثيرا أسمع النبى صلى الله عليه وسلم يقول : ذهبت أنا وأبو بكر، وعمر، ودخلت أنا وأبو بكر، وعمر، وخرجت أنا وأبو بكر، وعمر .
سید نا عمر رضی اللہ عنہ کا لاشہ چار پائی پہ رکھ دیا گیا، لوگوں نے انہیں چاروں طرف سے گھیر رکھا تھا، وہ آپ کے لیے دعا واستغفار کر رہے تھے۔ میں بھی ان میں شامل تھا، سید نا علی رضی اللہ عنہ نے اچانک میرا کندھا پکڑ کر اپنی جانب متوجہ کیا، انہوں نے سید نا عمر رضی اللہ عنہ کے لیے دعائے رحمت کی اور فرمایا : آپ کے بعد اتنا محبوب کون ہے کہ میں اللہ کے دربار میں حاضری کے لئے اس کے عمل کو نمونہ بناؤں۔ مجھے یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کے ساتھیوں (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ ) کے ساتھ جگہ دے گا ، میں اکثر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کرتا کہ میں ، ابوبکر اور عمر گئے ، میں ، ابوبکر اور عمر داخل ہوئے ، میں ، ابوبکر اور عمر نکلے۔
(صحيح البخاري : 3685 ، صحیح مسلم : 2389)