مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

کیا نکاح وطلاق کے لیے حاکم وقت کی منظوری ضروری ہے؟

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

کیا نکاح وطلاق کے لیے حاکم وقت کی منظوری ضروری ہے؟

جواب:

شریعت کی نظر میں نکاح و طلاق کے لیے حاکم وقت وغیرہ کی منظوری ضروری نہیں، اس کے بغیر بھی نکاح اور طلاق منعقد ہو جاتے ہیں، البتہ ریاست کے قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے نکاح اور طلاق کا حکومتی ریکارڈ میں اندراج کرانا چاہیے۔
❀ حافظ ابن عبد البر رحمہ اللہ (463ھ) فرماتے ہیں:
قد أجمعوا أن النكاح والطلاق يجوز دون السلطان
اہل علم کا اجماع ہے کہ نکاح و طلاق حاکم کے بغیر بھی جائز ہیں۔
(الاستذكار: 85/6)

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔