کیا نماز کو بلا عذر لیٹ کرنا گناہ ہے؟

ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

کیا نماز کو بلا عذر لیٹ کرنا گناہ ہے؟

جواب:

نماز کو وقت پر ادا کرنا واجب ہے، بغیر شرعی عذر تاخیر جائز نہیں۔ اس پر مذمت وارد ہوئی ہے۔
❀ فرمان باری تعالیٰ ہے:
﴿فَوَيْلٌ لِلْمُصَلِّينَ الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلاتِهِمْ سَاهُونَ﴾
”ان نمازیوں کے لیے ہلاکت ہے، جو نماز سے غفلت برتتے ہیں۔“
(الماعون: 4-5)
❀ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (728ھ) فرماتے ہیں:
تأخيرها عن وقتها من السهو عنها باتفاق العلماء.
”اہل علم کا اتفاق ہے کہ نماز کو اس کے وقت سے لیٹ کرنا بھی نماز سے غفلت برتنے میں سے ہے۔“
(الفتاوى الكبرى: 17/2)
نماز اسلام کا بنیادی رکن ہے، اس کے اہتمام کے لیے کئی امور مشروع کیے گئے ہیں، مثلاً وضو، قبلہ رخ ہونا وغیرہ، اسے بلا وجہ لیٹ کرنا ایمان میں کمزوری کی علامت ہے۔

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے